بلے کا نشان چھن گیا تو تحریک انصاف الیکشن کیسے لڑے گی؟

ایسے وقت میں جب عام انتخابات سر پر کھڑے ہیں ملک کی سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان تاحال خطرے میں ہے . تاہم پی ٹی آئی نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر اس سے بلے کا انتخابی نشان چھن گیا تو کسی بھی انتخابی نشان پر الیکشن لڑا جاۓ گا ، پابندی کی صورت میں پارٹی آزاد امیدواروں میدان میں اتار دیا جاۓ ہے .الیکشن کا محاذ مخالفین کے لئے خالی نہیں چھوڑا جائے گا . اگر انتخابات میں اکثریت نہ بھی ملی تب بھی پارٹی اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھ کر اپنا سیاسی کردار ادا کرے گی . واضح رہے کہ الیکشن خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے 23 نومبر کو حکم دیا تھا کہ تحریک انصاف بلے کو اپنے انتخابی نشان کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے 20 دن کے اندر اندر پارٹی انتخابات کرائے۔ الیکشن کمیشن کے حکم کے بعد پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ عمران خان قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور گوہر خان ان کی جگہ چیئرمین کا الیکشن لڑیں گے۔ جس کے بعد پی ٹی آئی نے 2 دسمبر کو انٹراپارٹی انتخابات کرائے تھے جہاں بیرسٹر گوہر خان کو عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم دو دسمبر کے انتخابات کو بھی الیکشن کمشن میں چیلنج کر دیا گیا ہے . الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کی چودہ درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف سے جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے چودہ درخواستوں پر ابتدائی سماعت کی، اکبر ایس بابر کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے انتخابات تھے جہاں شیڈول سمیت ووٹر لسٹ وغیرہ کچھ نہیں بتایا گیا، بند کمرے میں ایک شخص کو چیئرمین بنادیا گیا، نہ کاغذات نامزدگی ہوئی نہ اسکورٹنی اور نہ ہی فائنل لسٹ لگی۔ الیکشن غیر قانونی ہیں اور دوبارہ منعقد کراۓ جائیں. ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی اعتبار سے مشکلات میں گھری پاکستان تحریک انصاف کو بالآخر یہ احساس ہوگیا ہے کہ پاکستان کے انتخابی منظر نامے میں زندہ رہنے کے لیے اسے ’طاقتور حلقوں‘ پر انحصار کرنے کے بجائے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے کہا کہ پی ٹی آئی اگرچہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پاس ان جماعتوں سے بات کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے، اس مقصد کے لیے پارٹی کے منشور میں ’سیاست کی بحالی‘ کا ایک باب بھی شامل کیا گیا ہے۔ پارٹی کارکنان کے خلاف کارروائیوں نے پارٹی کے حوصلے پست نہیں کیے ہیں، پابندیوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں ’کامیاب‘ پاور شوز کے بعد پارٹی نے انتخابی مہم کے لیے ملک گیر کنونشنز منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چاہے الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو ’بلے‘ کا نشان الاٹ نہ کرے، الیکشن لڑنے پر پابندی کی صورت میں پی ٹی آئی آزاد امیدوار کھڑے کرے گی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر رکھنے کی کوششوں سے آگاہ ہیں اور اس حوالے سے جوابی حکمت عملی بھی تیار کرلی گئی ہے۔ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ہم نے 8 فروری کو کسی بھی انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور پابندی کی صورت میں ہم آزاد امیدواروں کو کھڑا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ پارٹی نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے بھی سبق سیکھا ہے، مثلاً پارٹی کی نمائندگی کے لیے ’غلط افراد‘ کا انتخاب نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت کے بغیر حکومت بنائے گی۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ 2018 میں حکومت بنانا بھی ایک غلطی تھی کیونکہ ہمارے پاس واضح اکثریت نہیں تھی، عمران خان کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ 2018 میں قومی اسمبلی میں واضح اکثریت کے بغیر حکومت بنانا دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا۔ پارٹی کے ایک اور نمائندے نے کہا کہ جو ’بااختیار قوتیں‘ مایوس ہیں کیونکہ انہیں امید تھی کہ عمران خان ایک دن بھی جیل میں نہیں رہ سکیں گے لیکن اب وہ تقریباً 130 روز قید میں گزار چکے ہیں، عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور یہ صورتحال انہیں انتخابات میں تاخیر یا معطلی پر مجبور کر سکتی ہے، اس صورت میں سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی میں حالیہ تعیناتیوں، بالخصوص پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی حالیہ تعیناتی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے حامد خان کو پارٹی کا چیئرمین بننے کے لیے کہا تھا لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ وکلا کے ہاتھوں پارٹی ہائی جیک ہونے کے تاثر کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وکلا برادری کی اکثریت کی وابستگی اور ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ افغان تارکین وطن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما نے اس معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کے لیے مسائل بڑھیں گے اور ہم پاک-افغان سرحد پر امن نہیں

ڈنمارک میں قرآن کی بے حرمتی پر اب دو سال کی سزا ہوگی

قائم کر سکیں گے۔

Related Articles

Back to top button