حکومت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی نا ممکن کیوں؟

سینئر صحافی عمر چیمہ نے انکشاف کیا ہے کہ پارلیمنٹ اور سپریم کور ٹ کے درمیان باقاعدہ جنگ کا آغاز ہو گیا ہے،بحران پہلے بھی تھا لیکن اب یہ بحران حتمی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی عمر چیمہ نے بتایا کہ پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کے فیصلے کے خلاف پارلیمنٹ اپنی بالا دستی قائم کرے گی ،حکومت نے پہلے کابینہ لیول پر اس فیصلے کو مسترد کیا جس کا مطلب یہی تھا کہ جی اس فیصلے پرعملدرآمد نہیں کرنا ، جس کے بعد آوازیں اٹھ رہی تھیںکہ شہباز شریف کا حال یوسف رضا گیلانی جیسا ہوگا۔

سینئر صحافی نے بتایا کہ شہباز شریف بہت سمارٹ آدمی ہیں انہیں پتا ہے کہ ان کا حال یوسف رضا گیلانی جیسا نہیں ہو گا مطلب ان پر توہین عدالت نہیں لگے گی ، بلکہ اگر وہ گئے تو پھر سارے کے سارے جائیں گے اور شہباز شریف کو یہ اعتماد سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکا مصطفیٰ ایمپیکٹ کیس کے فیصلے کی وجہ سے ملا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت صرف وزیر اعظم نہیں ہے بلکہ پوری کابینہ حکومت ہے جو فیصلہ کابینہ کرے گی وہ فیصلہ حکومت کا ہو گا ، اس فیصلے کے بعد شہباز شریف کو پتا ہے کہ وہ اکیلے نہیں جائیں گے بلکہ پوری کی پوری کابینہ جائے گی اور کابینہ بھی کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بڑی لمبی چوڑی ہے اور ان تمام کے تمام پر آپ توہین عدالت لگا کر فارغ کر کے دیکھائیں ، آج اندازہ ہوا کہ شہباز شریف نے اتنی لمبی چوڑی کابینہ کیوں بنائی تھی ؟

عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ توہین عدالت میں کابینہ پکڑی جائے بلکہ اب وہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئے ہیں ، جہاں قرار داد بلوچستان عوامی پارٹی (باپ ) نے جمع کرائی ہے اور اس پر تمام کے تمام اتحادی حکمران باتیں بھی کر چکے ہیں جس سے میسج یہی جاتا ہے کہ تمام جماعتیں اور پوری کی پوری پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے اور اکٹھے ہیں ۔جس کے بعد شہباز شریف کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کا امکان بالکل معدوم ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ مسترد کرنےکی قرارداد منظور کرلی ہے۔ بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی خالد مگسی کی پیش کردہ قرارداد میں تین رکنی بینچ کے بجائے فل کورٹ میں کیس کی سماعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہےکہ ایوان سیاسی معاملات میں بے جا عدالتی مداخلت پر اظہار تشویش کرتا ہے، حالیہ اقلیتی فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر رہا ہے، وفاقی اکائیوں میں تقسیم کی راہ ہموار کردی گئی ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہےکہ ایوان سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ایک ہی وقت پر عام انتخابات کو مسائل کا حل سمجھتا ہے، ایوان تین رکنی بینچ کا اقلیتی فیصلہ مسترد کرتا ہے ، ایوان دستور کے آرٹیکل 63 اےکی غلط تشریح اور اسے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ذریعے ازسرنو تحریر کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ اس پر نظر ثانی کرے۔

خیال رہے کہ ایک طرف تو وفاقی کابینہ کے بعد قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے وہیں دوسری طرف سپریم کورٹ کی جانب سے 14 اپریل کو پنجاب میں الیکشن کروانے کے حکم کی تعمیل پر وفاقی حکومت کی شدید اعتراض کے باوجود بدھ کے روز الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔الیکشن شیڈول جاری ہونے کے باوجود اب تک یہ واضح نہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں انتخابات مقررہ وقت پر ہو پائیں گے یا نہیں۔ اس ابہام کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والا یہ مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا فیصلہ اقلیتی فیصلہ ہے جس پر اطلاق حکومت پر لازم نہیں جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کی قیادت جہاں ایک طرف سپریم کورٹ کے حکم کی عدم تعمیل پر حکومت مخالف تحریک کی دھمکیاں دے رہی ہے وہیں وزیر اعظم شہباز شریف کو توہین عدالت سے بھی ڈرا رہی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس کا فیصلہ مسترد کر دیا

Back to top button