ارکان پارلیمنٹ کے پاس سمگلڈ گاڑیاں زیراستعمال ہونے کاانکشاف

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں سینیٹر فیصل واوڈا بڑا سکینڈل سامنے لے آئے۔بیشتر ارکان پارلیمنٹ کے پاس سمگلڈ گاڑیاں ہونے کاانکشاف ہوا۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کا دوسرا دور سینیٹر فیصل واوڈاکی زیرصدارت ہوا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ بیشترارکان پارلیمنٹ کے پاس گاڑیوں کا گزشتہ تاریخوں میں نوٹیفکیشن کیا جارہا ہے اور جو کہ جرم ہے۔وزیر خزانہ، وزیر صنعت کو معلوم ہی نہیں ہے۔ایک پالیسی دی گئی اور بعد میں اس میں تبدیلی کرکے سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا گیا۔ایس آئی ایف سی کی پالیسی کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔مجھے یہ پتہ ہے کہ کون کون اس میں ملوث ہے ایک سیکنڈ نہیں لگے گا نام لینے میں۔
نیب نے میگا کرپشن کے آدھے کیسز بن کیوں کر دیئے؟
فیصل واوڈا نے کہا کہ میں کاروباری آدمی ہوں مجھے معلوم ہے سیکنڈل میں کون کون ملوث ہے،نوٹیفکیشن 12 فروری کا نکالا گیا مگر ابھی جاری کیا گیا،
آرٹیکل 73 کو نکالنا کریمنل جرم ہے۔وزیر خزانہ، وزیر صنعت، متعلقہ سیکرٹریز اور چیئرمین ایف بی آر کو بلا کر پوچھیں۔
