کیوبا میں سولر سے چلنے والی ٹرائی سائیکل مقبول ہوگئی

کیوبا میں طویل عرصے سے جاری ایندھن کے بحران کے باعث سڑکوں پر نظر آنے والی روایتی کلاسک گاڑیوں کی جگہ اب زیادہ تر چین میں تیار کردہ الیکٹرک تین پہیوں والی گاڑیاں (ٹرائی سائیکلز) لے رہی ہیں، جو لاکھوں شہریوں کے لیے آمدورفت کا اہم ذریعہ بن چکی ہیں۔
متعدد کیوبن شہریوں نے ان الیکٹرک ٹرائی سائیکلز پر شمسی پینل بھی نصب کر رکھے ہیں، جس کی بدولت انہیں چارج کرنے کے لیے ملک کے پہلے سے دباؤ کا شکار بجلی کے نظام پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔
ان گاڑیوں کی قیمت تقریباً 2 ہزار سے 4 ہزار امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔ یہ نہ صرف سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہی ہیں بلکہ یہ ان بس روٹس پر بھی چل رہی ہیں جہاں پہلے سرکاری بسیں خدمات فراہم کرتی تھیں۔
زیادہ قیمت کے باعث یہ گاڑیاں ہر شہری کی پہنچ میں نہیں۔ تاہم، بہت سے لوگوں نے اپنی پرانی پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں فروخت کرکے الیکٹرک ٹرائی سائیکلز خریدیں، جبکہ بعض کو بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں نے یہ گاڑیاں فراہم کیں۔ کئی چھوٹے کاروباری افراد نے بھی اپنی آمدنی سے ان میں سرمایہ کاری کی ہے۔
