ہو رہے گا کچھ نہ کچھ

تحریر: حماد غزنوی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
کچھ سال پہلے تک ہمیں کئی دوستوں کے ٹیلے فون نمبر زبانی یاد ہوا کرتے تھے، باقی کے ہم نے ایک فون ڈائری میں لکھ رکھے تھے، اس نوع کی ڈائری ہمارے آس پاس ہر شخص کے پاس ہوا کرتی تھی، کچھ دوست ایسے بھی تھےجنہیں ڈائری کی ضرورت ہی نہیں تھی انہیں بیسیوں ٹیلے فون نمبر زبانی یاد تھے، وہ کوئی نیا نمبر سنتے تو انہیں فوراً حفظ ہو جاتا، ہمارے بچپن میں تو لاہور کے ٹیلے فون نمبر چار ہندسوں پر مشتمل ہوا کرتے تھے، ہمیں اپنے گھر کا پہلا فون نمبر 4914 آج بھی یاد ہے، بعد میں فون نمبرز کے ہندسے بڑھتے گئے، مگر ہم انہیں بھی ذرا سی کوشش سے یاد کر لیا کرتے تھے۔ پھر آ گئے موبائل فون، اور نمبر زبانی یاد کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی، ٹیلیفون ڈائری بھی مفقود ہو گئی، اب اگر کہیں کوئی ایسا شخص نظر آئے جسے لوگوں کے ٹیلے فون نمبر زبانی یاد ہوں تو اسے ’’ہم دردی‘‘ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، کوئی ماضی میں اٹکا ہوا شخص جو ہم میں سے نہیں ہے۔

جب ہمارا فون نیویارک کے اسلپ ائرپورٹ پر گم گیا تو ہمیں اس بھری دنیا میں صرف ایک ٹیلے فون نمبر زبانی یاد تھا، اور وہ تھا اپنی ہی بیگم صاحبہ کا، بلا شبہ اس کا سبب ہماری بے پناہ باہمی محبت ہے مگر اس کی ایک اضافی وجہ یہ بھی ہے کہ جو ٹیلے فون نمبر بیگم صاحبہ کے زیر استعمال ہے وہ کسی زمانے میں ہمارے استعمال میں ہوا کرتا تھا۔جب بالٹی مور ایئرپورٹ پر لاسٹ اینڈ فاؤنڈ ڈیسک پر تعینات کیرن کشلوسکی نے ایک گھنٹے کی سرتوڑ کوشش کے بعد ہمارا فون نیویارک کے اسلپ ائرپورٹ پر ڈھونڈ نکالا، تو اس نے فون پر متعلقہ افسر کو ہولڈ کروا کے ہم سے پتا پوچھا جہاں فون بھیج دیا جائے، ہماری ذہنی حالت کچھ ایسی تھی کہ ہم مزید کوئی رسک لینے پر آمادہ نہیں تھے، کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے، حکومتی محکمے خدا جانے کتنے دن لگا دیں، فون تو فوری چاہیے، ابھی کہ ابھی، دستی۔ ہم نے کیرن سے پوچھا کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارا کوئی نمائندہ خود جا کر ائرپورٹ سے فون موصول کر لے، کیرن نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا، اپنے نمائندے کا نام بتائیں؟ سوچنے کا وقت نہیں تھا، پہلا نام جو ذہن میں آیا وہ تھا سعید نقوی، نیویارک میں اس مشاعرے کے منتظم جس میں شرکت کیلئے ہم یہاں آئے تھے، وہ رہتے بھی ائرپورٹ کے نزدیک تھے، ہم نے ان کا نام لکھوا دیا۔ آخر میں ہم نے سپاس گزاری کی مد میں کیرن کے حسن ِسیرت و صورت کے ایسے قصیدے پڑھے کہ اس کی رنگت مزید گلابی ہو گئی۔ فون کے بغیر ہم ہیوسٹن کی فلائٹ میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ اگر کوئی ہمیں ائرپورٹ پر لینے آیا ہو تب تو ٹھیک ہے اور اگر کسی سبب سے کوئی نہ آ سکا تو کیا کریں گے۔ ہیوسٹن میں اپنے میزبان بھائی عدیل زیدی سے رابطے کا کیا طریقہ ہو گا؟ اور رابطہ بھی فوری درکار تھا، فلائٹ ہیوسٹن چھ بجے پہنچنا تھی اور سات بجے وہ مشاعرہ تھا جس کیلئے ہم نے ٹیکساس آنے کا قصد کیا تھا۔ پہنچتے ہی فوری کچھ کرنا ہو گا۔ ورنہ سفر کا بنیادی مقصد فوت ہو جائیگا۔ سر درد ہونے لگا۔ آنکھیں بند کر کے ہم نے سیٹ کی پشت سے سر لگایا اور اپنی صورتحال کو فراموش کرنے کی کوشش میں لگ گئے، اپنی ازلی خوش گمانی کو صدا دی، زیر لب ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘‘ کا ورد کرنے لگے۔ اسی عالم میں یکدم اک خیال کوندا۔ یاد آیا کہ عباس تابش صاحب نے فیس بک پر ہیوسٹن مشاعرے کا اشتہار لگایا تھا، اس میں مشاعرہ گاہ کا پتا بھی موجود تھا، وہاں سے پتا لے کر، ٹیکسی کروائی جائے تو مشاعرے میں بروقت پہنچا جا سکتا ہے۔ اور فیس بک تک پہنچنے کیلئے کسی مسافر سے ایک لمحے کیلئے فون استعمال کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ ہم ہیوسٹن ائرپورٹ پر اترے، بیگ سمیٹے، ڈھونڈنا شروع کیا کہ کوئی لینے تو آیا ہی ہو گا، بیگج کلیم کے آس پاس کوئی نہیں تھا، باہر نکل کہ دیکھا کوئی نہیں تھا، اس جگہ سے دور بھی نہیں جا سکتے تھے کہ اگر کوئی آیا تو ہمیں اسی جگہ تلاش کرے گا۔ وقت گزرتا گیا، ہم وہیں ٹھہرے رہے۔ ساڑھے چھ بج رہے تھے، ہماری آس ٹوٹ رہی تھی۔ اب ہماری توجہ پلان بی کی طرف ہو گئی۔ ایک منٹ کیلئے کوئی فون درکار تھا جس پر فیس بک کھولی جا سکے۔ ائرپورٹ پر آنے جانیوالے بھاگ رہے تھے، ہر کوئی عجلت میں تھا، یہ کام ہماری توقع سے زیادہ دشوار نکلا۔ آخر ہم نے حوصلہ کر کے ایک نوجوان کو روک کر درخواست کی، اس نے ترنت جواب دیا کہ اس کا فیس بک اکاؤنٹ ہے ہی نہیں۔ ’’سوری‘‘ کہا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ ایک اور صاحب سے درخواست کر ہی رہا تھا کہ انہیں لینے کیلئے ایک گرم جوش خاتون آ گئیں، وہ دونوں ایک دوسرے میں پیوست ہو گئے اور وہ صاحب ہمیں کوئی جواب دیے بغیر ہی رخصت ہو گئے۔ دو مزید درخواستیں بھی نتیجہ خیز نہ ہو سکیں۔ سات بجنے والے تھے۔ پھر ہم نے ایک گول چہرے اور بڑی بڑی آنکھوں والی، مہربان خدوخال والی لڑکی کو اپنی بپتا سنائی، اس نے تحمل سے سنی اور فون پر اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھول کر ہم سے جو اکاؤنٹ کھولنا تھا اس کے سپیلنگ پوچھے، ہم نے تابش صاحب کے نام کے ہجے کئے، اکاؤنٹ کھل گیا، مشاعرہ کے اشتہار والی پوسٹ مل گئی، ہم نے پتا لکھا، اور اس خاتون کو دلی دعاؤں کے ساتھ رخصت کر ہی رہے تھے کہ عقب سے ایک آواز آئی ’’حماد صاحب، آپ کدھر تھے،آپ کو فون کیا آپ نے اٹھایا ہی نہیں۔‘‘، ’’جب میں نے فون نہیں اٹھایا تو آپ بیگج کلیم والی جگہ پر کیوں نہیں آئے،‘‘ میں نے قدرے ترشی سے سوال کیا۔ ’’میں نے آپ کو بڑے فون کیے،‘‘ وہ صاحب پھر بڑبڑائے، جن کی شکل پرانی بھارتی فلموں کے ایک اداکار مکری سے حیرت انگیز حد تک ملتی تھی۔ بہرحال ہمیں معلوم تھا کہ وہ گاڑی سے اتر کر ہمیں ڈھونڈنے کیوں نہیں آئے تھے۔ وہ پارکنگ کے آٹھ ڈالر بچانا چاہتے تھے۔ مشاعرے کا آغاز شام سات بجے ہونا تھا۔ساڑھے سات بج چکے تھے اور مشاعرہ گاہ ایئرپورٹ سے 50 منٹ دور تھی۔

Back to top button