عراق حملوں کے بعد سعودی وزیر دفاع کی امریکا میں جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقات

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقات کی ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال پر تفصلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عراق میں ایران نواز مسلح گروپوں کے خلاف امریکا اور سعودی عرب کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے اہم ہنگامی ملاقات کی، جس میں ایران، عراق اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے کی موجودہ صورت حال سے متعلق خصوصی پیغام امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تک پہنچانا تھا۔
سعودی وزیر دفاع نے امریکی نائب صدر کو بتایاکہ عراق کی ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات پر حملے ریڈ لائن عبور کرنےکے مترادف تھے،جس کےبعد سعودی عرب کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ شہزادہ خالد بن سلمان نے جے ڈی وینس کو بتایاکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے حامی ہیں جب کہ سعودی عرب کا مؤقف ہےکہ کشیدگی میں کمی ہی زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز راستہ ہے۔
امریکا کا ایران پر بڑا فضائی حملہ، پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف نشانہ
ذرائع نے بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان چاہتے تھےکہ امریکی نائب صدر کو یہ واضح پیغام دیا جائےکہ عراق میں کیےگئے حملوں کا مقصد جنگ کو وسعت دینا نہیں بلکہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور اپنے تحفظ کے عزم کا اظہار تھا۔
