شاہ کا ایران اور ساواک؟

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
ریاستی ظلم و جبر سے اقتدار کی گرفت وقتی طور پر مضبوط تو کی جاسکتی ہے مگرمسلسل جبر سے لوگ خوف کی زنجیریں توڑنے، تاج اُچھالنے اور تخت گرانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔انہوںنے اقتدار پر اپنی آہنی گرفت برقرار رکھنے کیلئے یوں تو کئی خفیہ ادارے بنائے مگر ظلم و جبر کے اعتبار سے ’’سازمانِ اطلاعات و اَمنیتِ کشور ‘‘ یعنی Orgnization of National security an Intelligence کی دہشت سب سے زیادہ تھی۔یہ خوفناک خفیہ ادارہ جسے اختصار کے ساتھ SAVAKکہاجاتا ہے ،اس کے سربراہ کو نائب وزیراعظم کا عہدہ دیا گیا اور اس نے شاہ ایران کے مخالفین کی مُشکیں کسنے میں کلیدی کردار اداکیا۔شاہ ایران اپنی خود نوشت Answer to Historyمیں لکھتے ہیں: ’’ساواک کا قیام مصدق کی تباہ کن واردات کے بعد کیمونزم بغاوت کامقابلہ کرنےکیلئے عمل میں لایا گیا۔1953ء میںاس تنظیم کے پہلے سربراہ جنرل بختیار بنے اور انہوں نے رہنمائی کیلئے سی آئی اے کو بلایا ۔بعد ازاںساواک کے اہلکاروںنے خفیہ اداروں کے کام کرنے کا طریقہ کار معلوم کرنے کیلئے برطانیہ اور کئی مغربی ممالک کا بھی رُخ کیا‘‘۔ایران میں1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد جب امریکہ کے سفارتخانے پر قبضہ کرلیا گیا اور امریکہ یرغمالیوں کے رہا کروانے کے منصوبے بنارہا تھا تو اس دوران ایک امریکی خفیہ دستاویز سامنے آئی جس میں کہا گیا کہ ایرانیوں کے غم و غصے کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے ’’ساواک‘‘کے قیام میں شاہ ایران کی مدد کی۔سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کی ایک خفیہ دستاویز سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سی آئی اے نے ’’ساواک ‘‘کے قیام میں کردار اداکیا۔
تاہم شاہ ایران کے دوست اور ’’ساواک ‘‘کے سابق سربراہ جنرل حسین فردوست جنہوںنے خود برطانیہ میں جاسوسی سیکھنے کیلئے برٹش انٹیلی جنس سروس میں تین کورس کیے،وہ ایک مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔وہ اپنی تصنیف’’The Rise and Fall of the Pehlvi Dynsty‘‘میںلکھتے ہیں کہ انہوں نے ساواک کا سربراہ بننے کے بعد امریکی ماہرین سے مدد کی درخواست کی مگر انہوںنے نفی میں جواب دیا۔بعد ازں میں لندن چلاگیا تاکہ برطانوی خفیہ اداروں سے تعاون کی درخواست کروں لیکن انہوںنے بھی نہایت سرد مہری سے جواب دیا۔میں ہر طرف سے مایوس ہوگیا کیونکہ کوئی بھی ایران کو مستحکم نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔آخر کار میں نے اسرائیل کی خفیہ سروس موساد سے رجوع کیاکیونکہ انہی دنوں ایران نے اسرائیل کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا تھا۔میں نے اسرائیلی خفیہ سروس کے انچارج نیمرودی سے مدد کی درخواست کی جس کا انہوں نے مثبت جواب دیا‘‘اگرچہ ساواک کی تشکیل میں سی آئی اے اور ایم آئی سکس نے بھی بنیادی کردار اداکیا مگر جنرل حسین فردوست کی یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد نے ساواک پر گہری چھاپ چھوڑی۔ساواک کے جاسوسوں کو تربیت دینے کی غرض سے نہ صرف اسرائیلی ماہرین تہران آئے بلکہ اپنے ساتھ جاسوسی کے جدید آلات اور نایاب کتب بھی لائے جن کا فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ان ماہرین نے ساواک کے اہلکاروں کو خط شناسی ،تحقیق ،تفتیش ،کائونٹر انٹیلی جنس اور دیگر ممالک میںجاسوسی کا نیٹ ورک بچھانے کے گر سکھائے۔معروف مورخ محمد حسین ہیکل نے اپنی تصنیف The Return of Ayatollahمیں لکھا ہے کہ ساواک کا موساد اور سی آئی اے کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔یہ تینوں خفیہ تنظیمیں باہمی طور پر معلومات کا تبادلہ کیا کرتی تھیں ۔ پاکستان میں بھی ’’ساواک‘‘کا جاسوسی نیٹ ورک بہت مضبوط تھا۔جنرل حسین فردوست اپنی تصنیف میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام آباد سے ساواک کے جاسوس کی بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے روس کو قومی خزانے سے اربوں روپے قرض دیا تھا جس پر امریکہ ناراض ہوگیا اور اسے ضیاالحق نے قتل کے مقدمہ میں ملوث کرکے پھانسی چڑھا دیا۔حالانکہ بھٹو قاتل نہیں تھا بلکہ امریکہ اسے اقتدار سے ہٹانے کے بہانے تلاش کررہا تھا۔جنرل حسین فردوست نے ایک اور خوفناک انکشاف بھی کیا ہے ۔ان کا دعویٰ ہے کہ میر غوث بخش بزنجو ساواک میں پاکستان کے ایجنٹ تھے ،شاہ ایران نے انہیں تہران بلاکر خطیر نقد رقم دی اور مزید امداد دینے کا وعدہ بھی کیا ۔سردارشیر باز خان مزاری نے اپنی سوانح حیات ’’A Journey to Disillusionment‘‘ میں بھی ان الزامات کی تصدیق کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ جب غوث بخش بزنجو گورنر بلوچستان تھے تو انہوں نے بھٹو کے ہمراہ1972ء میں ایران کا دورہ کیا۔انہیں بہت بڑی رقم دی گئی تاکہ بلوچ قوم پرستی کو سرحد کے اس پار یعنی ایران کی طرف پھیلنے سے روکا جا سکے۔
ایران تنازع: امریکی فوجی حکمت عملی پر اعلیٰ قیادت میں اختلافات
ساواک کے ہاتھ بہت لمبے تھے ۔اس کے جاسوس ،مخبر ،کارندے اور گماشتے ملک بھر میں پھیلے ہوئے تھے ۔شاہ ایران کے خلاف نجی محفلوں میں تنقید کرنے والے غائب کردیئے جاتے۔چونکہ یہ خفیہ ادارہ کسی قسم کی جواب دہی اور قانونی گرفت سے بالاتر تھا اس لیے کسی کو بھی ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں اٹھا کر حراستی مراکز میں رکھا جاسکتا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 1976ء میں 7500سیاسی قیدیوں کی نشاندہی کی مگر بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ تھی۔ مورخ محمد حسین ہیکل لکھتے ہیںکہ ساواک کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے پاس ایران میں ہر دفتر کی چابیاں موجود تھیں۔شاہ ایران کا تختہ اُلٹنے کے بعد انقلاب کے پہلے وزیراعظم مہدی بازرگان نے وہ سب چابیاں خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں جو ساواک کے ہیڈ کوارٹر میں موجود تھیں ۔ان چابیوں سے ہر گھر اور ہر دفتر کو کھولاجاسکتا تھا۔حتیٰ کہ غیر ملکی سفارتخانوں کے تالے بھی ان چابیوں سے کھولے جاسکتے تھے۔ انقلاب کے بعد ساواک کے ہیڈ کوارٹرسے ایک فلم بھی ملی جسے دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مگر ساواک بھی شاہ ایران کو نہیں بچا سکی ۔درویش منش شاعر مولوی اسلم وڑائچ نے کیا خوب شعر کہا:
یقیناً یہ رعایا بادشاہ کو قتل کردے گی
مسلسل جبر سے اسلم دلوں میں ڈر نہیں رہتے
