افغانستان میں شدید زلزلہ، 20 افراد ہلاک، 500 سے زائد زخمی

افغانستان کے شمالی علاقوں میں آنے والے شدید زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 20 ہو گئی، جبکہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرفات زمان نے بتایا کہ اب تک 534 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ سمنگان اور بلخ صوبوں کے اسپتالوں میں 20 سے زائد لاشیں لائی گئی ہیں۔
مزار شریف میں اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق زلزلے کے بعد خوف کے مارے شہری اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ شہر کی تاریخی ’’نیلی مسجد‘‘ — جو 15ویں صدی کی ایک اہم نشانی ہے — کو بھی نقصان پہنچا۔ فیروزی ٹائلوں سے مزین اس مسجد کے ایک مینار کا حصہ ٹوٹ کر صحن میں گر گیا۔ یہ مسجد افغانستان کے چند باقی ماندہ سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔
زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت کابل میں بھی محسوس کیے گئے۔ ماضی کی طرح، اس بار بھی پہاڑی علاقوں میں ناقص مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض دیہاتوں تک امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں کئی گھنٹے یا دن لگ سکتے ہیں۔
وزارتِ دفاع کے مطابق، مزار شریف اور خُلم کے درمیان مرکزی شاہراہ کو ملبہ ہٹا کر کھول دیا گیا ہے اور وہاں پھنسے ہوئے افراد کو نکال لیا گیا ہے۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے بتایا کہ متعدد مکانات تباہ ہو گئے ہیں اور بھاری مالی نقصان ہوا ہے، تاہم ہلاکتوں یا نقصانات کی درست تعداد تاحال سامنے نہیں آئی۔
یہ طالبان حکومت کے لیے ایک اور قدرتی آفت ہے۔ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان تین بڑے زلزلوں سے متاثر ہو چکا ہے۔ تاہم غیر ملکی امداد — جو کبھی افغان معیشت کا بڑا سہارا تھی — اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
گزشتہ اگست میں ملک کے مشرقی حصے میں 6.0 شدت کے ایک تباہ کن زلزلے نے درجنوں دیہات مٹی کے ڈھیر میں بدل دیے تھے، جس میں 2200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ عالمی بینک کے مطابق اس زلزلے سے 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔
افغانستان میں زلزلے عام ہیں، خصوصاً ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں جہاں یوریشین اور بھارتی ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔
2023 میں مغربی ہرات اور 2022 میں مشرقی ننگرہار میں آنے والے بڑے زلزلوں نے سینکڑوں جانیں لیں اور ہزاروں گھروں کو تباہ کر دیا۔
ملک کے دیہی علاقوں میں مکانات عموماً کمزور تعمیرات کے باعث زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ افغانستان پہلے ہی خشک سالی، اقتصادی پابندیوں، بینکاری بحران، اور ایران و پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کے باعث شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں بھوک اور غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔
