’حماقت‘ ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

 

 

 

 

تحریر: یاسر پیر زادہ

بشکریہ: روزنامہ جنگ

 

 

یہ بات چاہے جتنی بھی گھسی پٹی سمجھی جائے مگر ہے درست کہ زیادہ تر لوگ خود کو دانشمند، مدبر اور صاحبِ رائے سمجھتے ہیں۔ چاہے انہوں نے سوشل سائنس کے نام پر آخری کتاب دسویں جماعت کی معاشرتی علوم ہی کیوں نہ پڑھی ہو، اپنے تئیں وہ علامۂ دوراں ہی ہوتے ہیں۔ خیر، یہاں کتابیں پڑھنے نہ پڑھنے کا ماتم کیا کرنا، اپنے ہاں پڑھے لکھوں کا حال تو اور بھی پتلا ہے، ہارورڈ اور آکسفورڈ بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہم ایک امتحان پاس کرتے ہیں جو ہماری مَت مار دیتا ہے جس کے بعد ہم خود کو وائسرائے ہند سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہی حرکتوں کی بنا پر مجھے لگتا ہے کہ ہم چاروں طرف سے احمقوں میں گھرے ہوئےہیں۔ ممکن ہے لوگوں کی میرے بارے میں بھی یہی رائے ہو، لیکن I don’t mind۔ بظاہر احمقوں میں گھرے رہنے کا کوئی نقصان نہیں، بھلا احمق کسی دانا کا کیا بگاڑ لے گا؟ مگر یہ محض مغالطہ ہے۔ حماقت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں، پہناتی ہے یہ افسر کو تاجِ سرِ دارا (اقبال کی روح مجھے معاف رکھے)۔ جنہیں میری بات پر یقین نہ آئے وہ Dietrich Bonhoeffer کی تحریروں پر ایک نظر ڈال لیں۔بون ہوفر ایک جرمن پادری اور ماہرِ الہیات تھاجس نے ہٹلر کے نازی ازم کے خلاف آواز اٹھائی، مزاحمت کاروں کا ساتھ دیا، پکڑا گیا اور جنگ ختم ہونے سے چند ہفتے پہلے پھانسی چڑھا دیا گیا۔ سو، بون ہوفر کی رائے کوئی گپ شپ نہیں بلکہ اُس تجربے کا نچوڑ ہے جس میں اس نے ایک مہذب اور پڑھی لکھی قوم کو اپنی آنکھوں کے سامنے اجتماعی طور پر عقل سے دستبردار ہوتے دیکھا۔ قید سے پہلے اپنے قریبی دوستوں کیلئے لکھے گئے ایک مضمون میں اُس نے وہ بات کہی جو شاید اتنی صراحت کے ساتھ پہلے کسی نے نہیں کہی تھی: ”ہمارا سب سے خطرناک دشمن بدی نہیں، حماقت ہے۔“ بدی کے خلاف آپ لڑ سکتے ہیں، احتجاج کر سکتے ہیں، اسے بے نقاب کر سکتے ہیں اور بوقتِ ضرورت طاقت سے اس کا راستہ روک سکتے ہیں۔ خود بدی اپنے اندر اپنی تباہی کا بیج لیے پھرتی ہے مگر حماقت کو آپ خطرہ نہیں سمجھتے۔ کیا کبھی سنا ہے کہ کسی شخص نے دوسرے کو محض اِس بات پر گولی مار دی ہو کہ دوسرا شخص احمق تھا! احمق کے خلاف نہ احتجاج کام آتا ہے نہ طاقت۔ دلیل تو ویسے ہی احمق کے سر سے گزر جاتی ہے۔ جو حقائق احمق کے قائم کردہ مفروضے سے ٹکرائیں وہ انہیں غیر اہم کہہ کر جھٹک دیتا ہے اور جو ناقابلِ تردید ہوں انہیں اتفاق یا استثنا کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ احمق اپنے آپ سے مکمل مطمئن ہوتا ہے، بلکہ ذرا چھیڑ دو تو حملہ آور بھی ہو جاتا ہے۔ بدکار سے مکالمہ پھر بھی ممکن ہے، احمق سے مکالمے کی کوشش اپنی توانائی کا ضِیاع ہے۔

بون ہوفر کی سب سے چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ حماقت کا آئی کیو یا ڈگری، حتیٰ کہ مطالعے سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ بھی احمق ہو سکتے ہیں اور ان پڑھ دیہاتی اس مرض سے پاک بھی ہو سکتا ہے۔ ہٹلر کے جرمنی میں بون ہوفر نے یہ منظر خود دیکھا کہ گوئٹے اور کانٹ کی قوم، جس نے دنیا کو فلسفہ، سائنس اور موسیقی دی، ایک وحشی اور جنونی کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔ پروفیسر نعرے لگا رہے تھے، جج قانون کو سلامی دے رہے تھے اور ڈاکٹر نسل پرستی کو سائنس ثابت کر رہے تھے۔ اس مشاہدے سے بون ہوفر نے نتیجہ نکالا کہ لوگ احمق پیدا نہیں ہوتے، بنائے جاتے ہیں، یا خود کو بنائے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اور یہ عمل اُس وقت زیادہ تیز ہو جاتا ہے جب معاشرے میں کسی طاقت کا زور بڑھے، خواہ وہ طاقت سیاسی ہو یا مذہبی۔ ہر طاقت کو اپنے استحکام کیلئے کسی نہ کسی نوع کی حماقت درکار ہوتی ہے۔ بس اب آپ تھوڑے کہے کو بہت جانیں!

مجھے تو گمان ہوتا ہے کہ بون ہوفر نے یہ مضمون برلن کی جیل میں نہیں، ہمارے کسی سرکاری دفتر کے برآمدے میں بیٹھ کر لکھا تھا۔ اس ملک کی حالت ہی اِس وجہ سے ہے کہ ہم احمقوں میں گھرے ہیں۔ اوسط ذہن، اوسط سے بھی نیچے کی صلاحیت اور اوسط سے کہیں اوپر کے اعتماد والے لوگ چیف ایگزیکٹو، سیکرٹری اور وائس چانسلر بنے بیٹھے ہیں۔ ستم ظریقی یہ ہے کہ احمق کی تباہ کاری کی کوئی حد نہیں کیونکہ وہ نیک نیتی سے تباہی مچاتا ہے۔ اسے کامل یقین ہے کہ وہ درست کر رہا ہے۔ وہ رات کو گہری نیند سوتا ہے کیونکہ اس کا ضمیر مطمئن ہے۔ آپ اسے خرید نہیں سکتے، ڈرا نہیں سکتے، سمجھا نہیں سکتے۔ بدمعاش آپ کی جیب پر ڈاکہ ڈالتا ہے، احمق آپ کا مستقبل برباد کر دیتا ہے، اور جاتے جاتے آپ سے شکریے کی توقع بھی رکھتا ہے۔ بون ہوفر کا ایک اور مشاہدہ بھی ہم پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے کہ حماقت اجتماعی طور پر پھلتی پھولتی ہے۔ آدمی اکیلا ہو تو کم احمق ہوتا ہے، ہجوم میں شامل ہو تو حماقت سر پر چڑھ کر ناچتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ کام پہلے جلسے کرتے تھے، اب واٹس ایپ کرتا ہے، جسکی نہ فیس ہے اور نہ داخلہ ٹیسٹ اور جہاں ہر بندہ ”پی ایچ ڈی“ ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی علم و حکمت کے وہ موتی برسنے لگتے ہیں جن کا نہ ماخذ ہے نہ سند، مگر فارورڈ کرنے والے کا اُن پر ایمان غیر متزلزل ہے۔ اگر آپ غلطی سے پوچھ بیٹھیں کہ جناب یہ بات آپ تک پہنچی کہاں سے، جواب ملے گا کہ گروپ میں آئی تھی۔ گویا گروپ اب سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور جوں ہی آپ کسی مقبول بیانیے پر سوال اٹھائیں، آپ غدار ٹھہرے، ایجنٹ ٹھہرے۔ یہ بعینہ وہی کیفیت ہے جس کا ذکر بون ہوفر نے کیا کہ آپ آدمی سے نہیں، نعروں سے مخاطب ہیں۔ سوچنے والا شہری سوال کرتا ہے اور سوال طاقت کو کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔

تو علاج کیا ہے؟ یہاں بھی بون ہوفر نے مایوس کن حد تک سچ بولا۔ احمق کو دلائل سے قائل کرنے کی کوشش نہ صرف بے سود ہے بلکہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ حماقت تعلیم سے نہیں، آزادی سے ختم ہوتی ہے، اور اندر کی آزادی عموماً تب ممکن ہوتی ہے جب باہر کا جبر ٹوٹے۔ جب تک آدمی اس طاقت کے سحر میں ہے جس نے اسے احمق بنایا، آپ کی کوئی دلیل اس تک نہیں پہنچے گی۔ سحر ٹوٹے گا تو آنکھ کھلے گی۔ لیکن چونکہ یہ ہماری زندگی میں ہونا ممکن نہیں لگتا سو تب تک نسخہ صرف یہ ہے کہ احمق کو پہچانیے اور اسے ہرگز بے ضرر نہ سمجھیے۔ بدمعاش سے بچنے کیلئے آدمی گلی بدل لیتا ہے، احمق سے بچنے کیلئے کیا کریں؟

 

Back to top button