بیان مزید دربارہ سود و زیاں

 

 

 

 

تحریر: وجاہت مسعود

بشکریہ: روزنامہ جنگ

 

درویش کو ادارتی عملے کی طرف سے اطلاع تھی کہ ادارتی صفحے پر سلسلہ وار تحریروں کی روایت ختم کر دی گئی ہے۔ اسی جھونک میں اخبار ملتے ہی ادارتی صفحے کی طرف لپکتا ہوں چنانچہ 11اگست کی اشاعت میں صفحہ اول پر برادرم راشد لنگڑیال کی چہار اقساط دربارہ سود و زیاں کا اعلان نہیں دیکھ سکا۔ پہلی قسط ہی پر اپنا ردعمل عرض کر دیا۔ اب جیسا کہ چاروں اقساط سامنے آ چکیں، برادر عزیز کے مکمل بیان سے مجموعی اور مؤدبانہ اختلاف کی راہ کھلی ہے ۔

محترم راشد لنگڑیال صاحب کی وقیع تحریر کے بنیادی نکات چار ہیں۔ (1) متحدہ ہندوستان سے مسلم اکثریتی آبادی کیلئے علیحدہ وطن کا مطالبہ درست تھا۔ (2) پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ریاست کی بقا رہی ہے ۔(3) ہندوستان میں رہ جانیوالے مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ (4) ہندوستان میں ہندو اکثریتی علاقوں میں فی کس آمدنی تاریخی طور پر مسلم تہذیبی منطقوں سے بہت زیادہ ہے۔ آئیے ان بیانات کا بالترتیب جائزہ لیتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ پاکستان نے اپنے ابتدائی برسوں میں پیچیدہ اور ناقابل پیش گوئی مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنا وجود قائم رکھا بلکہ نئی مملکت کو قابل عمل ثابت کیا لیکن اس سے متصل حقیقت یہ ہے کہ پہلے دس برس میں عنان اقتدار سیاسی قیادت کے ہاتھ میں تھی ۔ یہ سیاسی قیادت ناتجربہ کار اور کوتاہ نظری کے باوجود سیاسی رگ وریشے سے متصف تھی۔ اس عشرے کی سیاست کا مالہ وما علیہ ڈاکٹر صفدر محمود نے ’مسلم لیگ کا دور حکومت‘ میں بیان کر دیا ہے۔ تاریخ کے اس دور میں پاکستان کی دو کمزوریاں سامنے آئیں۔ پاکستان اپنے شہریوں کو ریاست کا حق ملکیت منتقل کرنے میں ناکام رہا۔ نیز یہ کہ اس ابتدائی زمانے ہی میں افراد اور اداروں کی ناگفتہ بہ اخلاقی قامت سامنے آگئی تھی۔ سول افسر شاہی نے اختیار کے گھوڑے پر کاٹھی ڈال لی اور طاقتور بیوروکریسی کی پیادہ پیش قدمی کے غبار میں اسکندر مرزا اور ایوب خان کی اولوالعزمی کا رسالہ بغیر آواز کیے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس دوران آئین مرتب نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ پاکستان کے اس اکثریتی حصے سے اختلافات تھے جو اقتدار کے غیر حقیقی سرچشمے سے ایک ہزار میل دور تھا ۔ غیر متصل ریاست کا تجربہ ہیبس برگ سلطنت کے بعد سے کبھی نہیں آزمایا گیا۔ ایسی سلطنت غیر معمولی سیاسی بصیرت اور مسلسل سیاسی عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان میں مرکزی حکومت میں وزیر خزانہ غلام محمد اور وزیر تجارت فضل الرحمن دست و گریبان تھے اور ڈھاکہ میں چیف سیکرٹری عزیز احمد اختیار کے جوہر دکھا رہے تھے جن کی کچھ تفصیل تفضل حسین مانک میاں نے1967 میں قلم بند کی ہے۔ 1950 میں جوگندر ناتھ منڈل کے استعفیٰ کے مندرجات مشرقی پاکستان میں اقلیتوں کی حالت زار کی اجمالی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ زبان کے تنازع پر بانی پاکستان فروری 1948میں مشرقی بنگال کے مسلمانوں کو مطمئن نہیں کر سکے اور جہاں تک ریاست کی بقا کا تعلق ہے 1970-71 کے سیاسی بحران نے یہ ثابت کر دیا کہ انسانی اجتماع میں پائی جانے والی متوازی اور مرکب شناختوں میں سے کسی ایک کو ترجیحی درجہ دینے سے قوم تعمیر نہیں ہوتی۔ 1971 کا بحران پاکستان میں قیادت کی مضحکہ خیز ناکامی کی ایسی تمثیل تھی جس کی جدید دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ اس کے پس پشت دو بنیادی محرکات کارفرما تھے۔ نو آبادیاتی حکمرانوں کا دیا ہوا مارشل ریس کا تصور اور ایوب خان کے فرق عالیہ پر اترنے والی یہ عسکری بصیرت کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے کیا جائے گا۔ آج کے پاکستان میں بھی وفاقی اکائیوں میں اعتماد کا بحران، وسائل کی تقسیم، فیصلہ سازی میں شمولیت اور نادیدہ حکمران قوتوں میں غیر متناسب نمائندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہی صورت مشرقی پاکستان میں تھی۔ سات کروڑ بنگالیوں پر چون ہزار کی نفری کیسے قابو پا سکتی تھی جبکہ لڑنے والا سپاہی مقامی زبان جانتا تھا اور نہ جغرافیے سے آشنا تھا۔ مشرقی پاکستان کی سیاسی تاریخ 1757 کی جنگ پلاسی تک جاتی تھی۔ مغربی پاکستان کی سیاسی قیادت تو 1945میں انگریز افسروں کے اشارے پر چھلانگ لگا کر مطالبہ پاکستان کے تانگے پر سوار ہوئی تھی۔ لے دے کے پختون باچا خان اور بلوچ قوم پرستوں میں سیاسی شعور کی رمق پائی جاتی تھی۔ انہیں غدار قرار دے کر جسد سیاسی سے منفک کر دیا گیا۔ نیشنل عوامی پارٹی پاکستان کی تاریخ میں واحد سیاسی جماعت تھی جو جمہوری اور ترقی پسند پاکستان کے نصب العین پر قائم ہوئی اور جس میں ملک کے دونوں حصوں کی معتبر سیاسی قیادت شریک تھی۔ اسی سیاسی جماعت کے خوف سے فروری 1959کے انتخابات سے راہ فرار اختیار کرکے اکتوبر 58 ء میں مارشل لا مسلط کیا گیا۔ آج سینے پر ہاتھ رکھ کے کون کہہ سکتا ہے کہ اکتوبر 55 ء میں ون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ مشرقی پاکستان کی اکثریت کے ساتھ ناانصافی نہیں تھا۔ مسلم لیگ بابائے قوم کے استثنیٰ کے ساتھ بے پیندے کی لٹیا تھی جو اپریل 1956میں لڑھک کر ری پبلکن پارٹی کی آغوش میں چلی گئی۔ کیا ہمارے نصاب میں یہ المیہ لکھا ہے کہ مغربی پاکستان کے اسپیکر کے انتخاب میں گجرات کے چوہدری فضل الٰہی نے عبدالرب نشتر کے امیدوار کو شکست دی ؟ 1958 کا مارشل لا ایک واقعہ نہیں تھا۔ یہ وہ رینگتا ہوا عفریت تھا جو جنوری 1951 سے پرچھائیوں کے کھیل کا نادیدہ کردار تھا۔ 8 اکتوبر 58 ء سے ایک مہینہ پہلے کے واقعات پر ایک نظر ڈالیے۔معلوم ہو جائے گا کہ عسکری بغاوت کا اسکرپٹ کیسے لکھا جا رہا تھا اور اہل سیاست کو کیسے بے توقیر کیا جا رہا تھا۔ یونیورسٹی کے کوئی سے پانچ طالب علموں سے پوچھ لیا جائے کہ آئی آئی چندریگر کون تھے یا یہ کہ محمد علی بوگرہ کی سیاسی حیثیت کیا تھی یا یہ کہ عبدالجبار خان صاحب کس بنیاد پر مغربی پاکستان کا وزیراعلیٰ بنائے گئے۔ تو صاحب پاکستان 1958ءتک قائم ضرور رہا لیکن اسکی اخلاقی بنیادیں متروکہ املاک کی چھین جھپٹ اور سیاسی اقتدار کی لوٹ مار کے زلزلوں کی یلغار میں شاذ و کالمعدوم ہو چکی تھیں۔ پاکستان کی پہلی اور بنیادی ناکامی سیاسی اور تمدنی معیارات کے انہدام نیز ریاست اور شہریوں میں لاتعلقی کا مضمون تھی۔

 

Back to top button