عرق النسا کی تکلیف کا سامنا کیوں ہوتا ہے؟

عرق النسا ایک ایسے جسمانی درد کا نام ہے جو کافی عام ہوتا ہے مگر پھر بھی بیشتر افراد کو اس کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔نسا ایک رگ یا عصب کا نام ہے جسے انگلش میں شیاٹک نرو بھی کہا جاتا ہے، جو ہمارے جسم کی سب سے بڑی رگ ہوتی ہے۔یہ رگ کمر کے زیریں حصے سے شروع ہوکر ٹخنے پر تک جاتی ہے اور اس میں تکلیف کو عرق النسا یا شیاٹکا کہا جاتا ہے۔
امریکن اکیڈمی آف آرتھو پیڈک سرجنز (اے اے او ایس) کے مطابق عرق النسا سے متاثر ہونے کا امکان 30 سے 50 سال کی عمر کے دوران سب سے زیادہ ہوتا ہے۔کلیو لینڈ کلینک کے مطابق لگ بھگ 40 فیصد بالغ افراد کو شیاٹکا کا سامنا ہوتا ہے، مگر 20 سال سے کم عمر افراد میں اس کے کیسز نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔کمر کے زیریں حصے سے نیچے ٹانگ تک پھیلنے والا درد شیاٹکا کی سب سے بڑی علامت ہے۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ شیاٹکا کی عام ترین علامت وہ درد ہوتا ہے جو کمر سے ٹانگوں (عموماً ایک ٹانگ) تک پھیلتا ہے، جس کے ساتھ سن ہونے اور سنسناہٹ کی علامات بھی نظر آسکتی ہیں۔یہ تکلیف ٹانگ کو موڑنے، اٹھانے، کھانسنے، چھینکنے، ہنسنے یا بیٹھنے پر زیادہ بدتر ہو سکتی ہے۔کچھ کیسز میں مسلز کی کمزوری کا بھی سامنا ہوتا ہے۔
