7دن تک روزانہ کیلے کھانے سے صحت پرکیا اثرات مرتب ہونگے؟

کیلا دنیا میں سب سے زیادہ کھائے جانے والے پھلوں میں سے ایک ہے اور لگ بھگ ہر موسم میں آسانی سے دستیاب ہوتا ہے۔اس پھل میں فائبر، اینٹی آکسائیڈنٹس اور دیگر متعدد غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ایک میڈیم سائز کیلے سے پوٹاشیم، وٹامن بی 6، وٹامن سی، میگنیشم، کاپر، فائبر، Manganese اور نباتاتی مرکبات جسم کا حصہ بنتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کیلوں میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو آنتوں کے افعال بہتر بناتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کیلوں میں موجود فائبر سے معدے سے غذا گزرنے کی رفتار کم ہوتی ہے جس سے قبض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ فائبر وہ غذائی جز ہے معدے میں موجود صحت کے لیے مفید بیکٹریا کی غذا بنتا ہے جس سے نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر پیٹریسیا کے مطابق کیلے کھانے سے جسمانی توانائی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس پھل میں موجود کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی شکر سے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ چینی کے مقابلے میں کیلے کھانے سے جسمانی توانائی میں ہونے والا اضافہ مستحکم ہوتا ہے اور اس میں تیزی سے کمی نہیں آتی۔
ڈاکٹر پیٹریسیا نے بتایا کہ کیلوں کو روز کھانے سے مزاج پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس پھل میں موجود وٹامن بی 6 اور tryptophan سے مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ دماغی افعال کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔
