سپریم کورٹ کے ججز کی فوج سے سیاسی کردار چھیننے کی کوشش

ایک زمانہ تھا جب طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ سپریم کورٹ کے ججوں کے ذریعے حکومتوں کو بناتی، ڈراتی، دھمکاتی تھی اور پھر گراتی بھی تھی۔ لیکن پھر وقت بدلنا شروع ہوا اور آج صورت حال یہ ہے کہ حکومت کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری فوج کی بجائے ججز نے سنبھال لی ہے۔ آج سپریم کورٹ کے ججز میں کنگ میکرز بننے کی خواہش شدت سے پیدا ہو چکی ہے۔ بس تھوڑا سا فرق یہ ہے کہ پہلے چیف جسٹس باقی ججز کو ساتھ ملا کر چلا کرتے تھے جبکہ آج اکثریتی ججز نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو اپنا یرغمالی بنانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی جس کا جواب ایڈہاک ججز کی تعیناتی سے دیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی بھرپور مخالفت کے باوجود جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود اور جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم کی سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک ججز تعیناتی کی منظوری دی ہے جس کا فائدہ چیف جسٹس قاضی فائض عیسی کو ہو گا۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا فیصلہ عدالت کی جانب سے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کے حکم نامے کے بعد کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ سخت تنقید کی زد میں ایا تھا اور اسے سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف کو تھالی میں رکھ کر وہ سب کچھ پیش کر دیا گیا جس کا اس نے کبھی مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ تحریک انصاف کو مخصوص نسستیں دینے کا اکثریتی فیصلہ 5 کے مقابلے میں 8 ججز نے دیا جن کی قیادت بظاہر جسٹس منصور علی شاہ کر رہے تھے۔ اس فیصلے کے فورا بعد جب حکومت نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز لگانے کا اعلان کیا تو تحریک انصاف نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔
سپریم کورٹ میں ایڈ ہاک ججز کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب ججز کی اکثریت نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور یہ تاثر زور پکڑا ہے کہ اعلی عدلیہ میں عمرانڈو ججز کا زور یے جو سابق وزیراعظم کو جیل سے باہر لانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ یاد رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈہاک ججوں کی تقرری کے لیے چار ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے تھے تاہم گذشتہ دنوں دو ریٹائرڈ ججز جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر نے یہ ذمہ داریاں قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ تاہم دو ایڈہاک ججز کی تعیناتی سے سپریم کورٹ میں قاضی فائز عیسی کی پوزیشن قدر مستحکم ہوئی ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں تعینات کیے گئے ایڈ ہاک ججز کے پاس کیا اختیارات ہوتے ہیں اور یہ معاملہ کیسے متنازع ہوا ہے۔ 19 جولائی کو جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود اور جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ دورانِ اجلاس چاروں ناموں میں کسی نام پر اعتراض سامنے نہیں آیا۔ تاہم جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ ’سب نام معتبر مگر ایڈ ہاک ججز کی تقرری اصولاً نہیں ہونی چاہیے۔‘ باقی آٹھ ممبران کا کہنا تھا کہ ایڈہاک جج ہونے چاہییں۔
آٹھ ممبران کا اتفاق تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم اور جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے معذرت کی ہے لہذا ان کی تعیناتی کی بات ختم ہو گئی۔ دورانِ اجلاس آٹھ ججز نے جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود کے نام پر اتفاق کیا اور کہا کہ ان کی تعیناتی ایک سال کے لیے ہونی چاہیے۔
یاد رہے کہ آرٹیکل 181 اور 182 کے مطابق ’جب سپریم کورٹ میں جج کی نشست خالی ہو یا سپریم کورٹ کا جج ذمہ داری ادا کرنے کے لیے کسی بھی وجہ سے میسر نہ ہو تو ہائی کورٹ کے ایسے جج جو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی اہلیت رکھتے ہوں انھیں صدر مملکت سپریم کورٹ میں ججز کی کمی پوری کرنے کے لیے عارضی طور پر تعینات کر سکتے ہیں۔‘ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر عارف چوہدری کا کہنا ہے کہ جب ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے ججز کسی اہم مقدمے کی سماعت کے باعث دیگر مقدمات کو سننے سے قاصر ہوں یا اہم مقدمے زیر التوا ہوں، اس صورت میں ایڈہاک جج کی خدمات لی جاتی ہیں۔ ان کے اختیارات ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہی ہوتے ہیں۔
آرٹیکل 181 کے تحت ’ہائی کورٹ کے ریٹائر جج کو بھی عارضی طور پر سپریم کورٹ میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ عارضی جج تب تک تعینات رہتے ہیں جب تک صدر مملکت اپنا حکم واپس نہ لے لیں۔‘
ادھر سابق جج شائق عثمانی کا کہنا ہے کہ ایڈہاک ججز کی تعیناتی پاکستان کی عدالتی تاریخ کا حصہ ہے مگر ’چونکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت زیادہ ہے تو اس وجہ سے یہ معاملہ ایک تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے۔‘ مگر یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ میں کسی جج کی تعیناتی ایڈہاک بنیادوں پر ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق سنہ 1955 سے سنہ 2016 تک مجموعی طور پر 22 ججز کو سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کیا گیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے مطابق ایڈ ہاک ججوں کی تعیناتی کا فیصلہ زیرِ التوا کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں اس وقت 58 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کے ایسے ججوں کو ایڈ ہاک بنیاد پر تعینات کیا جاسکتا ہے جنھیں ریٹائر ہوئے تین سال کا عرصہ نہیں ہوا ہے۔ واضح رہے کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج تعینات کرنے کے لیے 17 ججز کا ہونا ضروری ہے۔ انور منصور کے مطابق اس وقت بظاہر تو سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز لانے کا مقصد تو یہی ہے کہ کام زیادہ اور زیر التوا مقدمات نمٹانے ہیں مگر ان ججز کی تعیناتی کا وقت بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایڈہاک ججز کی تعیناتی کا معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب سپریم کورٹ نے محضوص نشستوں کے معاملے میں تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ دیا۔ ان کے مطابق اس سے ’تنازع بڑھا اور بعض سابق ججز نے دوبارہ عدلیہ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی۔‘ انور منصور کے مطابق اس وقت بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ حکومت کی نظرثانی کی درخواست پر جلد سماعت نہیں ہو سکے گی اور جب ہو گی تو پھر وہی 13 ججز ہی بینچ میں ہوں گے جنھوں نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔ ان کے مطابق ایڈہاک ججز نہ صرف دیگر زیر التوا مقدمات سن سکیں گے بلکہ ’اگر حکومت تحریک انصاف پر پابندی کا ریفرنس بھیجتی ہے تو اس کا بھی فیصلہ ان کے ہاتھ میں آ سکتا ہے۔‘
