پاکستان اگلے 3برس کیلئے آئی ایم ایف کے شکنجے میں کیسے پھنس گیا؟

عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے سات ارب ڈالر قرض پروگرام کی منظوری کو جہاں حکومت ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے وہیں بعض معاشی ماہرین کے نزدیک سیاسی اور معاشی حالات کے باعث پروگرام کی شرائط پر عمل بھی ایک چیلنج ہو گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف نے پاکستان کو سات ارب ڈالر قرض پروگرام دینے کی منظوری دی ہے۔ 37 ماہ کے پروگرام کے تحت یہ رقم قسط وار پاکستان کو دی جائے گی۔حکومتی عہدے دار اور بعض ماہرین اس معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ رقم ملنے سے پاکستان کو مستقبل میں بیرونی قرضوں اور دیگر ادائیگیوں میں آسانی ہو گی۔لیکن بعض معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پروگرام کی سخت شرائط سے مہنگائی بڑھے گی جو ملک میں سماجی بے چینی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔اس کے علاوہ حکومت کے کمزور سیاسی مینڈیٹ کے باعث معیشت کے اصلاحاتی پروگرام کی تکمیل میں بھی اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف قرض کی فراہمی سے قبل پاکستان سے مالیاتی یقین دہانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پاکستان چینی قرضوں کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔ پاکستان پر ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور پیرس کلب وغیرہ کے قرض چین سے زیادہ ہیں آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان فوری اپنے قرضے ری شیڈول کروائے۔ یہ نہ ہو کہ قرض سے حاصل ہوئی رقم ماضی کھ قرضوں کی ادائیگی میں چلی جائے۔
دوسری جانب فنڈ کے مطابق اس پروگرام کے تحت پاکستانی حکام ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے اصلاحات متعارف کرائیں گے۔اس پروگرام کے تحت حکومت ملک میں رواں سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب ڈیڑھ فی صد بڑھائے گی جب کہ پروگرام کے اختتام تک اسے تین فی صد تک لانا ہو گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت نے فنڈ سے وعدہ کیا ہے ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لیے کولیکشن کو آسان بنایا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی منصفانہ، براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح کے ٹیکس لگائے جائیں گے۔ جب کہ ریٹیل، برآمدات اور زراعت سمیت ایسے شعبے جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ان سے بھی زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا۔اس ڈیل کی اہم بات یہ قرار دی جا رہی ہے کہ فنڈ نے حکومت پاکستان کو پہلی بار قائل کیا ہے کہ وہ ایکسپورٹرز یعنی برآمد کنندگان اور زرعی شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائے گی۔اگرچہ حکومت نے حالیہ ٹیکس میں ایکسپورٹرز کو بھی نارمل ٹیکس رجیم میں لانے کا اعلان کر دیا ہے لیکن اب زرعی آمدن کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایاجا رہا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملک میں توانائی کے شعبے کی رٹ کو بحال کرنے، نرخوں کی بروقت ایڈجسٹمنٹ اور لاگت میں کمی کے لیے فیصلہ کن اصلاحات لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا ہے کہ بجلی کے شعبے میں سب ہی صارفین کو سبسڈی دینے کے بجائے صرف ضرورت مند کم آمدنی رکھنے والے گھرانوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس ڈیل کی صورت میں بجلی کے نرخ بڑھیں گے، تاہم ایسی صورت میں حکومت صارفین کو کوئی ریلیف دینے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتی۔اس شعبے میں نقصانات کو پورا کرنے کے لیے مشکل اور دیرپا اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن فی الحال حکومت اس کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ اسی لیے انہیں خدشہ ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں مسلسل نقصانات کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو گی۔
