ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز دراصل عمران دور میں آئی

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والے سوشل میڈیا پر ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز پر سیاست چمکا رہے ہیں تاکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نشانہ بنایا جا سکے، لیکن کڑوا سچ یہ ہے کہ دراصل یہ تجویز پہلی مرتبہ عمران خان کے دور حکومت میں پیش کی گئی تھی۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی بتاتے ہیں کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران خان کے دور میں وزیر اعظم آفس نے جون 2019 میں سیکریٹری خزانہ سے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خا۔ کی خواہش ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے انتظامی اثرات کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور پنجاب و کے پی کے محکمہ خزانہ سے قانونی و مالیاتی امور کا جائزہ لینے کیلئے مشاورت کریں۔ اسکے علاوہ عمران خان حکومت میں ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں اصلاحات کیلئے قائم کی گئی ٹاسک فورس نے بھی سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 کرنے کی تجویز پر غور کیا تھا۔
جون 2019 میں، تب کی پی ٹی آئی حکومت میں خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ کی جانب سے بھی صوبائی ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کو 63 سال تک بڑھائے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ تب یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس بے مثال فیصلے سے صوبائی حکومت کو سالانہ 24 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ اُس وقت کابینہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے 65 سال ہے جبکہ یورپ اور برازیل میں 60 تا 65، جاپان میں 62 اور امریکا میں 67 ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 240(b) صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں قانون سازی کی اجازت دیتا ہے۔ یوسفزئی نے یاد دہانی کرائی تھی کہ سول سرونٹ ایکٹ 1973 میں ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 50 سال تھی جسے بعد میں بڑھا کر 60 کیا گیا اور یہ قانون گزشتہ 35 سال سے نافذ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال تقریباً پانچ ہزار ملازمین ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں جبکہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا تناسب بھی ففٹی ففٹی کے قریب ہے۔ اس طرح 60 سال کی عمر کو پہنچنے والے ملازمین کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی ہے جس پر صوبائی سرکاری خزانے سے 6 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تاہم کے پی حکومت کے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
عمران خان حکومت تو اس تجویز پر عمل نہ کر سکی لیکن اب نون لیگ کی اتحادی حکومت اس پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے تمام سرکاری ملازمین کی عمر بڑھانے کی تجویز دی ہے۔ تاہم، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور پارٹی کے کچھ رہنما اس تجویز پر سیاست چمکا رہے ہیں اور ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے یہ کام صرف چیف جسٹس کو توسیع دینے کے لیے کیلئے کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں معیشت پر مالی دبائو کم کرنے کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے اور پنشن کی ادائیگیوں کے نظام کی از سر نو ڈھانچہ سازی کی تجویز پیش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس تجویز پر عمل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
