کیا سپریم کورٹ حکومت کو PTI پر پابندی لگانے کی اجازت دے گی؟

وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا سپریم کورٹ ایسا ہونے دے گی خصوصا جب حال ہی میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ججوں کی اکثریت عمران خان کے ساتھ ہے؟ اسلام اباد میں باخبر حلقوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے وفاق کی جانب سے پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا ریفرنس مسترد کیا تو پھر مشرف دور کی طرح ججوں کو پی سی او پر حلف لینے کا بھی کہا جا سکتا ہے۔
وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے لیے کاروائی شروع کرنے کے اعلان کے بعد پاکستان میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ حکومتی اعلان سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا رد عمل ہے جس میں تحریک انصاف کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کرتے ہوئے مخصوص نشستیں دینے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقے اس عدالتی فیصلے پر سخت نالاں ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی جماعت کو ایک ایسا ریلیف دیا گیا ہے جس کے لیے وہ عدالت گئی ہی نہیں تھی۔ یاد رہے کہ عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد حکومر تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے لیے ایک ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کرے گی۔ تاہم موجودہ سیاسی صورتحال میں اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ سپریم کورٹ حکومتی ریفرنس کو منظور کرے کیونکہ ججوں کی اکثریت بار بار عمران خان کو ریلیف دے رہی ہے۔ ویسے بھی اس وقت سپریم کورٹ کے ججز دو واضح دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں، اقلیتی دھڑا جسٹس قاضی فائز عیسی کے ساتھ ہے جبکہ اکثریتی دھڑا جسٹس منصور علی شاہ کے ساتھ ہے۔ ایسے میں اگر سپریم کورٹ حکومتی ریفرنس مسترد کرتی ہے تو معاملات مزید خراب ہو جائیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں مشرف ٹائپ کا پی سی او لانے کی جسٹی فکیشن مل جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، سات خون معاف کے نام سے ایک فلمی ٹریلر چلایا جارہا ہے، بتایا جارہا ہے کہ ہم ان ٹچ ایبل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی کیے حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے لیے ثبوتوں سمیت ریفرنس سپریم کورٹ کو بھیجا جائے گا۔ یاد ریے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں پر پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں اور قوانین میں اس کا طریقۂ کار بھی موجود ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت پر ملک میں دہشت گردی پھیلانے کا الزام ہو یا وہ خلاف قانون کام کرتی ہو تو وفاقی کابینہ اس بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رپورٹ طلب کرتی ہے اور سیاسی جماعت پر پابندی کے لیے چارج شیٹ مرتب کرتی ہے۔ اگر وفاقی کابینہ کو لگتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملک دُشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے تو پھر کابینہ پابندی کی منظوری دیتی ہے، اس کے بعد یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی جا سکتا ہے۔ دونوں ایوانوں سے پابندی بارے قراردادیں منظور ہوتی ہیں کہ یہ جماعت دہشت گرد ہے، لہذٰا اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ کابینہ اور پارلیمان سے منظوری کے بعد وزارتِ داخلہ نوٹی فکیشن جاری کر دے گی کہ سیاسی جماعت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پابندی کے فیصلے پر پہلے وزارتِ داخلہ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں بھی اپیل کی جا سکتی ہے۔ لہذٰا پابندی لگانے یا ہٹانے کے حتمی فیصلے کا اختیار سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ہی ہوتا ہے۔
عدت کیس میں بریت، عمران اور بشری کی رہائی ناممکن کیوں؟
یاد رہے کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں سنائے گئے فیصلے میں کہا تھا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی پر بیرونی ممالک سے ممنوعہ فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔اس فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے تحریکِ انصاف کے خلاف کارروائی کے لیے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ 2002 کے تحت ڈیکلریشن سپریم کورٹ میں جمع کرایا تھا لیکن یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ یاد ریے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے اراکین قومی اسمبلی میں موجود ہوں تو پھر وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹی فکیشن کے مطابق اس کے اراکین کو الیکشن کمیشن ڈی نوٹیفائی کر دیتا ہے اور وہ رُکن اسمبلی نہیں رہتے۔ پاکستان میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ چند برس قبل عمران خان کے دور حکومت میں تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی لگا دی گئی تھی لیکن پھر ملک گیر مظاہروں کے بعد حکومت کو پابندی کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1954 میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی۔اس جماعت پر یہ الزام تھا کہ اس نے راولپنڈی سازش کیس میں فوج مخالف سازش تیار کی۔ اسی بنیاد پر ملک بھر میں کمونسٹ پارٹی کے ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اس کیس میں فوجی افسران اور بائیں بازو کی سیاسی جماعت پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُنہوں نے مل کر تب کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے سازش کی۔ اسی لیے اسے راولپنڈی سازش کیس کا نام دیا گیا۔ سازش کے الزام میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سجاد ظہیر کو بھارت بھجوا دیا گیا تھا۔ پابندی لگنے سے پہلے اس پارٹی کے اراکین کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ تھی۔
دوسری بڑی سیاسی جماعت جس پر پابندی لگائی گئی وہ نیشنل عوامی پارٹی تھی۔ اس جماعت پر دو مرتبہ پابندی لگی ۔ پہلی مرتبہ 1971 میں یحییٰ خان اور پھر 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں پابندی لگی۔ اس جماعت پر بھی ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا ۔ نیپ پر سب سے بڑا الزام اس وقت کے سینئر وزیر صوبہ سرحد حیات خان شیر پاؤ کے قتل کا تھا۔ وہ 8 فروری 1975 کو پشاور یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران بم دھماکے سے ہلاک ہوئے تھے اور اس کا الزام نیپ پر عائد کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے اگلےہی روز وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نےقومی اسمبلی میں دو بلوں کی منظوری حاصل کی جس میں ایک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی گرفتاری کا استثنٰی ختم کردیا گیا۔ دوسرے بل میں پولیٹکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کرکے حکومت کو قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے والی جماعتوں کو خلاف قانون قرار دینے کا اختیار دےد یا گیا۔ اس قانون سازی کے اگلے روز 10 فروری 1975 کو نیشنل عوامی پارٹی پرپابندی عائد کردی گئی۔
تب حکومت نے نیشنل عوامی پارٹی کو غیرآئینی قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس بھی دائر کیا تھا۔ لیکن نیپ کی قیادت بشمول خان ولی خان کی طرف سے بینچ پر عدم اعتماد کیا گیا اور عدالتی کارروائی میں حصہ نہیں لیا گیا تھا۔ لہازا عدالت نے بھی اس پر پابندی کی توثیق کردی تھی۔
