شامیوں نے سردی سے بچنے کیلئے میزائلوں کو ہیٹر میں تبدیل کر دیا

.شامیوں نے خون جما دینے والی سردی سے بچنے کیلیے میزائلوں کے خول کو ہیٹر میں تبدیل کر لیا
.

صوبہ ادلب میں جسر االشگر نامی شخص نے اپنے گھر میں میزائل ری سائیکل کر کے اسے ہیٹر میں تبدیل کر دیا کیونکہ وہ ہیٹرخریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔

مسلسل جنگ، غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے ہیٹر اور ایندھن عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں تاہم مقامی لوہار 28 سے 32 سینٹی میٹر گھیر کے راکٹ اور میزائلوں کو احتیاط سے خالی کر کے انہیں ہیٹر میں بدل رہے ہیں۔

میزائلوں کو کان کنوں کو پتھر توڑنے اور سرنگ بنانے کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے لیکن یہ پورا کام کسی نگرانی کے بغیر جاری ہے۔

صرف قطار میں لگ کر روزانہ 38 ہزار روپے کمانے والا شہری

یہی وجہ ہے کہ بچے اور بڑے ایسے راکٹوں اور میزائلوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو پھٹنے سے رہ گئے ہوں، انہیں کارخانوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

Back to top button