KPسے تحریک انصاف کا صفایا، خٹک نے پلان بنا لیا

پرویز خٹک کی نئی سیاسی جماعت تحریک انصاف پارلیمنٹرین کی تنظیم اور آئین کا باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے، پرویز خٹک خاموشی سے کئی عمرانڈو رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ پارٹی میں نئے افراد کی شمولیت اور نئے عہد یداروں کا انتخاب بھی جلد عمل میں لایا جائے گا۔ روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں مستقبل کا سیاسی نقشہ کچھ اس طرح بنتا ہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی اور اے این پی کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف پارلیمنٹرین اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کر سکتی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے لیے صوبے میں قبولیت دیگر سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اے این پی کے ایک مرکزی رہنما بھی بہت جلد پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز بھی خود کو منظم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ پارٹی اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت کم انحصار کرے گی ۔پارٹی کی قیادت سیاسی رابطوں اور صوبے کے اہم سیاسی خاندانوں اور متحرک سیاسی کارکنوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا ہے وہ فی الحال نمبرز گیم میں نہیں پڑے گی اور کوشش کرے گی کہ صوبے کے متحرک سیاسی کارکن اس میں شامل ہو جائیں جس کے لیے وہ مسلسل رابطے کر رہی ہے اور مختلف لوگوں کے تحفظات بھی دور کیے جارہے ہیں۔ سیاسی ذرائع بتاتے ہیں کہ فی الحال تحریک انصاف پارلیمنٹرین ملک میں وفاق کی سطح پر نگراں حکومت کے قیام اور ملک میں عام انتخابات کے لیے سیاسی منظر نامے کے واضح ہونے کی منتظر ہے تاہم اس کی قیادت سر دست پارٹی کے آئین اور سیاسی منشور کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔ پارٹی منشور پر کام ہو چکا ہے اور تنظیمی معاملات بھی طے کر لیے گئے ہیں۔ جلد صوبے میں مرکزی دفتر کا افتتاح کیا جائے گا تب تک وفاق میں نگران حکومت بھی قائم ہو چکی ہوگی۔ اس کے بعد صوبے میں نئے سیاسی کارکن پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کریں گے۔ سیاسی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف پارلیمنٹرین اچھی طرح جانتی ہے کہ فی الحال وہ تحریک انصاف کو پوری طرح چیلنج دینے کے قابل نہیں ہے تاہم تنظیم سازی کے ذریعے صوبے میں عمران خان کے ووٹ کا زور توڑا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 17 جولائی کو پشاور کے شادی ہال میں پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز پارٹی کا اعلان کیا گیا تھا جس میں دو سابق وزرائے اعلی پرویز مخٹک، اور محمود خان کے علاوہ سابق صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی شامل ہوئے تھے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کو ضلع نوشہرہ میں بہت بڑا دھچکا لگا ہے نوشہرہ کی درجنوں تنظیموں نے حاجی شاہ زمان کی قیادت میں پرویز خٹک کی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف والوں کو بھی صحیح راستے پر آنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مزید تنظیموں سے بھی پارٹی کے رابطے جاری ہیں۔ شامل ہونے والی تنظیموں نے پرویز خٹک کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور سانحہ و مئی کے ذمہ داروں، سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک نے درست اور بروقت فیصلہ کر کے اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے کا درس دیا اور تشدد سے دور رکھا۔ پرویز خٹک کی قیادت میں ضلع نوشہرہ اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ان تنظیموں کے سربراہوں نے اپنے تحریک انصاف کے ساتھیوں اور نو جوانوں کو ترغیب دی کہ وہ صحیح راستے پر آجائیں اور یہ بھی کہا کہ ہزاروں کا ر کن آج گرفتار ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ عمران خان کو صرف اپنی اور اپنے خاندان کی فکر ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مختلف تنظیموں کا تحریک انصاف کو چھوڑ جانا پی ٹی آئی کیلئے بہت بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ کیونکہ انہی تنظیموں کے ووٹرز نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنان بھی قیادت کے منظر سے غائب ہونے کے سبب دوسری پارٹیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے منحرف رہنماؤں کی جماعت تحریک انصاف پارلیمنٹرین تا حال اپنے پرچم، منشور اور کابینہ کوحتمی شکل نہیں دے سکی۔ اس سلسلے میں مشاورتی عمل جاری ہے اور جلد تمام معاملات کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے بقول پی ٹی آئی پی کی طرف سے 17 جولائی کو اعلان کیا گیا تھا کہ پارٹی منشور، پر چم اور کابینہ کا معاملہ چند روز میں مکمل ہو جائے گا۔ تا ہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مشاورت جلد مکمل ہو جائے گی اور اس کے بعد کابینہ کا اعلان بھی کر دیا جائے گا۔ یہ دعوی بھی کیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بعض مزید سابق اراکین جلد پی ٹی آئی پی میں
’’پاکستانی طلبا، اساتذہ، صحافیوں کیلئے سکالرشپس کے نادر مواقع‘‘
شمولیت کا اعلان کریں گے۔
