تحریک لبیک کا امیر سعد رضوی منی لانڈرنگ میں ملوث نکلا

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف جاری تحقیقات میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ کے حوالے سے ٹھوس شواہد مل گئے ہیں، جس کے بعد اب سعد رضوی کے لیے منی لانڈرنگ کے الزامات سے بری ہونا نہایت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کو تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق ایسے ثبوت ملے ہیں جو منی لانڈرنگ بارے جاری تحقیقات کو فیصلہ کن موڑ پر لے جا سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر یہ شواہد عدالت میں درست ثابت ہو گئے تو سعد رضوی کے لیے طویل سزا سے بچنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کے گھر سے کروڑوں روپے کی ملکی و غیر ملکی نقدی، سونے اور چاندی کے زیورات سمیت بیش قیمتی اشیا ملنے کے بعد ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کے پہلو پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق ایف آئی اے نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے اندر موجود فنڈنگ کے منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کیلئے جاری منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ اس حوالے سے مزید ٹھوس شواہد حاصل کرنے کیلئے تفتیشی مراحل کو ایف آئی اے، این سی سی آئی اے اور پولیس پر مشتمل تین مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں شروع کی گئی انکوائریوں میں نامزد افراد کے بینک اکائونٹس سے پارٹی کو یا پارٹی عہدیداروں کو ہونے والے لین دین، فنڈز دینے اور لینے والوں کے ظاہر کردہ اور چھپائے گئے ذرائع آمدن اور اثاثوں کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کے لئے پنجاب پولیس کے مختلف خصوصی تفتیشی شعبوں سے 42 سینیئر انسپکٹرز کا تبادلہ ایف آئی اے میں کیا گیا ہے۔ تاکہ افرادی قوت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔

ذرائع کے بقول 10روز قبل اس منی لانڈرنگ تحقیقاتی آپریشن کی ابتدا میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کے گھر سے ایک بڑی اور منظم چھاپہ مار کارروائی میں غیر ملکی کرنسی اور سونا برآمدکیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ تحقیقات کو ملک بھر میں تحریک لبیک کو فنڈز دینے والے افراد تک پھیلا دیا تھا۔ اس ضمن میں سرکاری سطح پر تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعد رضوی کی رہائش گاہ سے تقریباً 11 کروڑ روپے مالیت کی ملکی و غیرملکی کرنسی، قریباً دو کلو سونے و چاندی کے زیورات اور درجنوں قیمتی گھڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق سعد رضوی کسی تجارتی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان کے گھر سے اتنی بڑی مالیت کا غیر ملکی سرمایہ ملنا ایک سوالیہ نشان ہے کہ یہ دولت کہاں سے آئی اور کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی؟

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق بھاری مقدار میں نقدی برآمد ہونے کے بعد ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ یہ  مذہبی چندہ، جلسوں کیلئے عطیات، یا بیرون ملک سے موصول ہونے والی رقوم کس غیرقانونی چینل سے ملک میں لائی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی اور قریبی رفقا کے تمام بینک اکائونٹس اور جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کی جا چکی ہیں۔ جن میں سے کئی اکائونٹس مبینہ طور پر احتجاجی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا مہمات کی فنڈنگ کے لیے استعمال ہوئے۔ بعض غیر ملکی ٹرانزیکشنز کا سراغ بھی ملا ہے۔ جنہیں مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انھی تحقیقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے منی لانڈرنگ بارے کئی ٹھوس شواہد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد سعد رضوی کا منی لانڈرنگ میں سزا سے بچنا ناممکن ہے۔

لاہور سے علامہ خادم رضوی کا مزار منتقل کرنے کا کتنا امکان ہے ؟

ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی نے اپنے مرکز ملتان روڈ کے اطراف کی درجنوں پراپرٹیز بھی اپنے ہی کارکنوں کے نام خرید رکھی ہیں، جس سے وہ علاقہ عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ’’نو گو زون‘‘ بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعد رضوی نے اپنے ’’انتہائی وفادار‘‘ کارکنوں کے لیے وہاں مستقل رہائش کا انتظام کیا اور ان کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس میڈیا سیل بھی قائم کیا گیا۔ جہاں سے تنظیم کی سوشل میڈیا اور بیانیاتی جنگ لڑی جاتی تھی۔

ایف آئی اے ذرائع کے بقول اب تک کی تحقیقات کے مطابق، ٹی ایل پی کی مالی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تنظیم چند دنوں میں لاکھوں کا احتجاجی سیٹ اپ کھڑا کر لیتی ہے جس میں بینرز، گاڑیاں، کھانے اور آن لائن انتہائی موثر سوشل میڈیا مہمات چلانا شامل ہیں، جن پر ایک دن میں کروڑوں روپے بھی خرچ ہوسکتے ہیں۔ یہ سب بغیر کسی مضبوط اور مسلسل منظم فنڈنگ کے ممکن ہی نہیں ہے۔ ذرائع کے بقول اگر ایف آئی اے تحقیقات میں فنڈنگ کا تعلق ہنڈی حوالہ نیٹ ورکس یا بیرون ملک ڈونرز سے ثابت ہوگیا تو منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت سعد رضوی کو سخت سزائیں ہو سکتی ہیں۔

Back to top button