بلوچستان میں دوبارہ دہشت گردی ،کیافوجی آپریشن ہی مسئلے کاحل ہے؟

پاک فوج کی جانب سے ٹارگٹڈ آپریشنز کے باوجود بلوچستان میں دہشتگردی نے دوبارہ سے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، 2ستمبر کی رات کوئٹہ میں شاہوانی سٹیڈیم کے باہر بلوچستان نیشنل پارٹی بی این پی مینگل کی ریلی میں ہونے والے دھماکے نے ایک بار پھر بلوچستان کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔ متعدد کئی دہشتگردانہ کارروائیوں کی طرح کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ خود کش حملے کے تانے بانے بھی بلوچستان لبریشن آرمی سے ملتے دکھائی دیتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کے باوجود بلوچستان لبریشن آرمی کے خودکش بمبار صوبے میں سرگرم ہیں۔ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ کارروائیوں کے بعد صوبے میں ایک مربوط فوجی آپریش کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ فوجی آپریشن کا مطالبہ کرنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسند خون خرابے میں آخری حد بھی کراس کر چکے ہیں لہذا اسلحہ اٹھانے والوں کے خلاف فوجی کارروائی ہی آخری آپشن ہے۔ دہشت گردی میں خطرناک حد تک اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ریاست اپنی عمل داری بحال کرے۔ تاہم اس فوجی آپریشن کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل فوجی آپریشن نہیں طاقت کا استعمال پہلے سے محرومیوں کے شکار صوبے میں صورتحال مزید خراب کر سکتا ہے۔ اس لئے فوجی اپریشن سے دہشتگردی میں کمی کی بجائے مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔
معروف بلوچ سیاست دان اور صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کسی قسم کے بھی فوجی آپریشن سے بہتری کی بجائے مزید بدامنی پھیلے گی۔ ویسے بھی صوبے میں آپریشن تو 22 سال سے جاری ہے، لیکن کیا کوئی بہتری آئی ہے؟ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں اور لوگوں کے تحفظات دن بدن بڑھ رہے ہیں۔‘ دوسری جانب انسانی حقوق کا کارکنان کا کہنا ہے کہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال اس مقام تک صرف طاقت کے استعمال کی وجہ سے ہی پہنچی ہے۔’’بلوچستان میں گاؤں کے گاؤں اجڑ چکے ہیں، حکومت کو سوچنا چاہیے کہ کیوں بلوچ دن بہ دن پہاڑوں کی طرف نکل رہے ہیں اور ایسی تحریکوں کا حصہ بن رہے ہیں۔” مقتدر حلقوں کو طاقت کے استعمال کی بجائے بلوچ عوام کی محرومیوں کے ازالے کیلئے کام کرنا چاہیے
سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ بعض دفاعی تجزیہ کار بھی اس بات سے متفق ہیں کہ حکومت کو وسیع پیمانے پر فوجی کارروائی کی بجائے دیگر اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کو بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے لیے انٹیلی جنس کے محاذ پر ناکامی کا سامنا ہے، جو کہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیئے انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”بڑے پیمانے پر آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘‘
سینیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اگر صوبے میں امن ومان بحال کرنا اور بلوچوں کی محرومیوں کا خاتمہ کرنا ہے تو حقیقی بلوچ قیادت کو سامنے لایا جائے۔ عوام کو شفاف عمل کے ذریعے اپنے رہنما منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔ مسئلے کا حل صرف باصلاحیت سیاست دانوں کے ذریعے کیے جانے والے سیاسی مکالمے سے ہی ممکن ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی ایک ہی لاٹھی کے ساتھ سب کو ہانکنے کی پالیسی درست نہیں۔ اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا،” صرف پرتشدد عناصر کے خلاف محدود آپریشن ہونا چاہیے اور وہ بھی مناسب عدالتی اور سیاسی نگرانی کے ساتھ، تاکہ بلوچ عوام کے تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ کسی بھی مسئلے کا صرف ایک حل نہیں ہوتا اور حکومت کو کنٹرولڈ فوجی کاروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا”ماضی میں ہمیں ایسا نہیں نظر ٓاتا کہ حکومت نے بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہو۔‘‘
ڈاکٹر عبدا لمالک بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت اگر بلوچستان کے مسئلے کا دیر پا حل چاہتی ہے تو اسے صرف فوجی نقظہ نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا، ’’صوبے میں مسنگ پرسنز، بے روزگاری اور گورننس کے بڑے مسائل موجود ہیں۔حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ” صوبے کی حقیقی قیادت کو سامنے لایا جانا چاہیے اور ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔ صوبے میں پہلے ہی آپریشنز جاری ہیں تاہم کوئی بھی بڑا فوجی آپریشن نفرت کو مزید بڑھا دے گا کیونکہ اس آپریشن کے دوران بے قاعدگیاں ہونے کا قوی امکان ہے۔‘‘
