آٹھ بجے کا انقلاب!

بشکریہ: روزنامہ جنگ
دینی نقطۂ نظر سے بھی اس معاملے پر غور کیا جائے تو رات کو آرام اور سکون کیلئے مخصوص کیا گیا ہے۔ فطری نظام بھی اسی بات کی تائید کرتا ہے کہ انسان دن میں محنت کرے اور رات کو سکون حاصل کرے۔ جب ہم اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں تو اس کے منفی اثرات لازماً سامنے آتے ہیں، چاہے وہ جسمانی ہوں، ذہنی یا روحانی۔ یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی صورت میں تو ہماری حکومتیں دوبارہ پرانے معمولات کی طرف لوٹ سکتی ہیں۔ لیکن یہاں اصل سوال نیت اور پالیسی کے تسلسل کا ہے۔ کیا ہم ہر اچھے قدم کو وقتی مجبوری سمجھ کر چھوڑ دیں گے، یا اسے مستقل بہتری میں بدلنے کا عزم کریں گے؟ حکومت کیلئے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اس پالیسی کو عارضی کے بجائے مستقل بنیادوں پر نافذ کرے۔ اس کیلئے تاجر برادری سے مشاورت، عوامی آگاہی، اور متبادل سہولیات فراہم کرنا ضروری ہوگا، تاکہ کسی طبقے کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔ اگر یہ قدم حکمت اور تدبر کے ساتھ اٹھایا جائے تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ معاشرتی اصلاح کا ایک نیا باب بھی کھل سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی قوم کی ترقی صرف معاشی اشاریوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کے معاشرتی رویوں، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام ہے، مگر درحقیقت یہ ہمارے طرزِ زندگی کو درست سمت دینے کی ایک سنجیدہ کوشش بن سکتا ہے بشرطیکہ ہم اسے وقتی نہیں بلکہ مستقل اصلاح کے طور پر اپنائیں۔
