چاچا جانی کا انجام

تحریر: حامد میر
بشکریہ: روزنامہ جنگ
جموں کے ایک مسلمان گھرانے میں جنم لینے والی ایک 95سالہ عورت کینیڈا کے ایک سکھ گھرانے میں اپنی موت کا انتظار کر رہی ہے ۔ اس بزرگ عورت کی پاکستان سے محبت کے بارے میں پیر کو شائع ہونیوالے کالم میں مہاراجہ پٹیالہ یادوندرا سنگھ کا بھی ذکر تھا، جس کے حکم پر پٹیالہ کی فوج نے جموں جا کر مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کیساتھ مل کر مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا۔ ان صاحب نے پٹیالہ میں ایک یادوندرا پبلک اسکول قائم کیاتھا۔ اس اسکول کے ایک استاد نے کل رات مجھ سے رابطہ کیا اور شکوے کے انداز میں کہا کہ ہم”دی انڈین ایکسپریس “اور ”انڈیا ٹوڈے“میں آپ کے کالم پڑھتے رہے ہیں ہم آپ کی بڑی عزت کرتے تھے لیکن آپ نے یادوندرا سنگھ کے بارے میں 10اگست 2026 کو جنگ اخبار کے کالم میں جو الزامات لگائے ہیں اس پر ہمیں بہت دکھ ہوا ہے، آپ کا کالم تو اردو میں شائع ہوا لیکن یہاں کسی نے اس کا ہندی ترجمہ ہمارے اسکول کے اسٹوڈنٹس کے ایک واٹس ایپ گروپ میں پھیلایا ہے۔ آپ نے اپنے کالم میں جس ماتا جی کا ذکر کیا ہمیں ان سے بڑی ہمدردی ہے لیکن انہیں غلط فہمی ہوئی ہے یادوندرا سنگھ نے مسلمانوں کا قتلِ عام نہیں کرایا تھا اور آج بھی یادوندرا پبلک اسکول میں بہت سےمسلمان بچے پڑھتے ہیں اسلئے آپ ان پر اپنے الزامات واپس لیں۔ میں نے اُن کی پوری بات سنی اور جواب میں کہا کہ کیا میں آپ کے نام سے آپ کی وضاحت اپنے کالم میں شائع کر دوں تو انہوں نے کہا کہ میرا نام رہنے دیں آپ یادوندرا پبلک اسکول کے ترجمان کی طرف سے لکھ دیں کہ اسکول کے بانی پر لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، پھر انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ آپ نے” انڈین ایکسپریس “میں 14 اگست2017 ءکو ایک کالم میں بھی ایسی ہی کہانی لکھی تھی لیکن اُس میں تو آپ نے مہاراجہ پٹیالہ کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔ میں نے موصوف کو بتایاکہ آپ نے کافی ریسرچ کے بعد مجھ سے رابطہ کیا ہے لیکن وہ کالم میری سگی نانی غلام فاطمہ کے بارے میں تھا اور میری درخواست پر” انڈین ایکسپریس “ نے میری نانی کی تصویر بھی شائع کر دی تھی کہ شائد اُن کا پتہ چل جائے لیکن وہ آج تک لاپتہ ہیں۔ مجھے میری لاپتہ نانی کی کہانی میری ماں نے کئی مرتبہ سنائی تھی جنہوں نے خود لاشوں کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچائی تھی انہیں کیا پتہ تھاکہ جموں میں قتلِ عام کیلئے فوج کہاں سے آئی تھی؟ جواب میں یادوندراپبلک اسکول کے ترجمان صاحب نے طنزیہ انداز میں کہاکہ جناب آج تو 1947ء نہیں 2026ء ہے، آج آپ کے راولا کوٹ میں مہاراجہ پٹیالہ کی فوج تو گولیاں نہیں چلا رہی اور بلوچستان میں جو ہو رہا ہے وہ بھی ساری دنیا جانتی ہے آپ اپنے پاکستان کی فکر کریں اور یادوندرا سنگھ جیسی ہستیوں کو معاف کر دیں جو اپنے دفاع کیلئے زندہ نہیں۔ میں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ آج آپ بھارت میں جومسلمانوں کیساتھ کر رہے ہیں اُس سے پتہ چلتاہے کہ پاکستان بالکل ٹھیک بنایا گیا تھا اور اگر پاکستان نہ بنتا تو آج پاکستان پر بھی ”رام راج “ہوتا۔ لاہور کے ایک بزرگ وکیل نے بھی 10 اگست کے کالم ” ماتا جی کا پاکستان“پر ایک طویل تبصرہ ارسال کیا۔ یہ وکیل صاحب اُس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کے فرد ڈاکٹر عبدالعزیز خان کو مہاراجہ پٹیالہ نے اپنے سامنے قتل کروایاتھا۔ وکیل صاحب نے شکوہ کیا کہ آج پاکستان پر جس طبقے کی حکومت ہے اسکا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہیں تھا اور انکے بزرگ ڈاکٹر عبدالعزیز خان کی قربانی کسی کو یاد نہیں رہی۔ اس وکیل صاحب کو میں نے بتایاکہ لاہور کے ایک ڈاکٹر سعید احمد ملک ہیں جو دلی سے ہجرت کر کے لاہور آئے تھے۔ وہ کئی سال تک برطانیہ میں ڈاکٹری کرتے رہے اور تمام عمر ہجرت کی کہانیاں اکٹھی کرتے رہے۔ 2020ءمیں اُنہوں نے” 1947ء کا مسلم قتل عام “کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے ڈاکٹر عبدالعزیز خان کے قتل کا تفصیل سے ذکر کیا اور یہ بھی لکھا کہ اُن کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے مہاراجہ سے کہا تھا کہ مسلمان عورتوں کو برہنہ کر کے جلوس نہ نکالیے جس پر مہاراجہ نے اُنکی آنکھیں بھی نکلوائیں اور اُن کا گھر بھی مسمار کروا دیا۔ اس کتاب میں ٹھوس شواہد اور گواہان کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ مہاراجہ پٹیالہ نے صرف اپنے محل میں پانچ سو اغوا شدہ مسلمان عورتوں کو قید کر رکھا تھا۔ قیام پاکستان کے چودہ سال بعد اکتوبر 1961ءمیں ایک پاکستانی وفد پٹیالہ گیا۔ اس وفد میں وہ لوگ شامل تھے جو 1947ءمیں پٹیالہ سے پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ اس وفد کو ایک پرانا شناسا مسلمان مل گیا جس نے جان بچانے کیلئے مذہب تبدیل کر لیا تھا اور اب چاچا جانی کہلاتا تھا۔ چاچا جانی اس پاکستانی وفد کو شہر میں گھما رہا تھا کہ پٹیالہ کی لال مسجد کے قریب ایک چبوترے پر پانچ چھ عورتیں بیٹھی نظر آئیں۔ چاچا جانی نے ان عورتوں کے پاس رُک کر انہیں بتایا کہ یہ مہمان پاکستان سے آئے ہیں۔ جواب میں ایک عورت نے کہا”بزدل، کم ظرف “ وفد کے ایک رکن سعید احمد اختر نے چاچا جانی سے پوچھا کہ یہ عورتیں کون تھیں؟چاچا جانی نے بےپروائی سے کہا کہ یہ عورتیں کبھی مسلمان تھیں، 1947ءمیں اغوا کرلی گئیں،پھر ہندوؤںاور سکھوں نے انہیں اپنی بیویاں بنا لیا۔ ڈاکٹر سعید احمد ملک کی کتاب میں ایک عورت کی زبان سے پاکستانیوں کے متعلق یہ الفاظ پڑھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی لیکن پھر میں نے اُن عورتوں کی تکلیف کے بارے میں سوچا جنہیں پاکستان میں فراموش کر دیا گیا تھا۔ ہم جب اپنا یومِ آزادی مناتے ہیں تو ہمیں اُن لاکھوں شہیدوں کو نہیں بھولنا چاہئے جنہیں آزادی کی قیمت اپنی جان اور عصمتیں لُٹاکر ادا کرنی پڑی۔ جو دانشور آج یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ 1947ءکی تقسیم میں غلطی کہاں ہوئی وہ 1931 ءمیں ملک فضل حسن کی لکھی گئی کتاب پڑھیں جس کا نام تھا ”ہندو راج کے منصوبے“۔ قرارداد لاہور کی منظوری سے نو سال قبل لکھی گئی اس کتاب میں ملک فضل حسن نے ہندو لیڈروں کے بیانات اور کتابوں کو سامنے رکھ کر بتایا تھا کہ کانگریس اور ہندو مہاسبھا میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں ہی انگریزوں سے آزادی کے بعد ہندوستان میں رام راج قائم کرنا چاہتی ہیں جس میں مسلمانوں کو اپنا مذہب چھوڑ کر ہندو بننا پڑے گا۔ بھلا ہو منیر احمد منیر صاحب کاجنہوں نے یہ پرانی کتاب دوبارہ شائع کی ہے۔ یہ کتاب تمام اربابِ اختیار کو پڑھنی چاہئے کیونکہ اس کتاب میں ہندو انتہا پسندوں کے جن 31 اہم مقاصدکا ذکر کیا گیا وہی آج بھارت میں بی جے پی کی پالیسی ہے۔ ملک فضل حسن کی کتاب میں بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو اپنا ایک الگ ملک اس لئے چاہئے کہ جب انگریز چلے جائیں گے تو ایک ہندو راج قائم کیا جائیگا جس میں تمام مسلمانوں کو ہندو بنایا جائیگا، تمام مساجد کو مندر بنا دیا جائیگا، افغانستان پر قبضہ کر کے ہندوستان میں شامل کر لیا جائیگااور آخر میں مکہ اور مدینہ پر بھی اوم کا جھنڈا گاڑا جائے گا (نعوذ باللہ) اگر پاکستان نہ بنتا تو ہمیں بھی کہا جاتا کہ چاچا جانی کی طرح اسلام چھوڑکر ہندو بن جاؤ۔ آج ہمیں پاکستان میں کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان نہیں بنانا لیکن چاچا جانی کے انجام سے سبق سیکھتے ہوئے آپس میں نہیں لڑنا چاہئے۔ پاکستان امن اور انصاف کیلئے بنایا گیا تھا ہمیں پاکستان کو ناانصافی کرنیوالے طاقتور طبقے سے آزادی دلانی ہے جسکی غلطیوں سے پاکستان 1971 ءمیں ٹوٹ گیا تھا۔
