TLPکو ماموں بنانے کے بعد حکومت قرارداد پر خاموش

تحریک لبیک کا دھرنا ختم کروانے کے لیے وفاقی حکومت نے 20 اپریل کو قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی بیدخلی پر بحث کی قرارداد پیش کرنے کے بعد سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اپوزیشن جماعتوں سے بھی کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا حالانکہ 23 اپریل کو اسمبلی کے اجلاس میں اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی ایک مشترکہ قرارداد لانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکومتی خاموشی کی بنیادی وجہ وزیراعظم عمران خان کی کنفیوزڈ پالیسی ہے اور وہ ابھی تک خود فیصلہ نہیں کر پائے کہ اس معاملے پر کرنا کیا ہے۔ یاد رہے کہ جس روز اسمبلی میں یہ قرارداد پیش ہوئی اس روز وزیراعظم عمران خان حسب معمول ایوان سے غائب تھے اور قرارداد بھی ایک پرائیویٹ ممبر امجد نیازی نے پیش کی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اسپیکر قومی اسمبلی بجائے کہ 23 اپریل کے اجلاس سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ کر کے اس معاملے پر کوئی مشترکہ قرارداد لانے کی کوشش کرتے، انہوں نے اپنی ناموس کا معاملہ کھڑا کر دیا اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گالیاں دینے پر ایک نوٹس جاری کر دیا۔ اس نوٹس سے معاملات اور خراب ہو گئے اور نواز لیگ حکومت نے رابطہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
تاہم دوسری جانب نواز لیگ نے گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے لیے فرانسیسی سفیر کو ملک سے بے دخل کرنے کے معاملے پر وفاقی حکومت کو ایک سوالنامہ ارسال کر دیا ہے تاکہ ایک مشترکہ قرارداد تیار کی جا سکے۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے پارلیمانی امور کے وزیر مملکت علی محمد خان کو ایک مراسلہ کے ساتھ سوالنامہ بھجوایا ہے جس میں کہا گیا کہ ایوان میں پیش کی جانے والی مشترکہ قرارداد کو تیار کرنے کے لیے ان کی پارٹی کو ‘وضاحت اور معلومات’ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ناموس رسالت کےلیے پوری طرح پرعزم ہے اور مشترکہ قرارداد کی تیاری کر رہی ہے۔ بعدازاں چھ نکات پر مشتمل خط کی کاپی مسلم لیگ (ن) کی انفارمیشن سیکریٹری مریم اورنگزیب نے میڈیا کو جاری کی۔ مراسلے میں کہا گیا کہ ‘ایوان کے قائد نے ناموس رسالت کے بارے میں ایوان میں بحث شروع کرنے اور اس معاملے پر اپنی حکومت کی پالیسی پیش کرنے کے لیے کب پیش ہوئے؟’ مسلم لیگ (ن) نے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر کلیدی وزارتوں اور انٹر سروس انٹلی جنس کے سربراہ سے ریاست کی پالیسی کے بارے میں بریفنگ بھی طلب کی۔ مسلم لیگ (ن) کے خط میں کہا گیا کہ ‘قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا کہ بین الاقوامی تعلقات ریاست کا واحد ڈومین ہیں’۔ اس ضمن میں خط میں مزید کہا گیا کہ ‘وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ اور آئی ایس آئی فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر ریاست کی پالیسی پر ایوان کو آگاہ کرسکتے ہیں جس کے لیے قرارداد ایوان میں بحث کا مطالبہ کرتی ہے’۔
تحریک لبیک کا حوالہ دیے بغیر مسلم لیگ (ن) نے حکومت سے کہا کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام معاہدوں کی کاپیاں فراہم کرے جو ‘حال ہی میں حکومت نے ایک تنظیم کے ساتھ’ کیے۔ اس میں کہا گیا کہ ‘وزیر اطلاعات سمیت وفاقی وزرا نے میڈیا میں متعدد مرتبہ یہ بیان دیا کہ حکومت صرف ایوان میں قرارداد پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر مزید کسی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتی؟ وزیر اعظم عمران خان کے 19 اپریل کو قوم سے خطاب کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے وزیر سے کہا کہ کیا وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں پیش کردہ خیالات کو اس مسئلے پر حکومت کے پالیسی بیان کے طور پر لیا جائے؟ مسلم لیگ (ن) کے مراسلہ میں سوال اٹھایا کہ ‘اگر ایسا ہے تو ایوان میں پیش کی جانے والی قرار داد کا مقصد کیا تھا کیوں کہ یہ وزیر اعظم کے بیانات سے متصادم ہے؟’ وزیر اعظم خان نے قوم سے اپنے ٹیلیویژن خطاب میں واضح طور پر کہا تھا کہ حکومت، ٹی ایل پی کے مطالبے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہیں کرسکتی کیونکہ فرانس کے ساتھ اس طرح کے اقدامات اور تعلقات کو توڑنے سے پاکستان میں معاشی بحران ، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے خط نے پوچھا کہ ‘کیا امن و امان کی صورتحال پر حقائق کا تعین کرنے اور گزشتہ 10 دن کے واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کے لیے کوئی تفتیش شروع کی گئی؟”
یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر منعقدہ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رکن پارلیمنٹ امجد علی خان نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف قرار داد پیش کی تھی۔ قرار داد کا متن پڑھ کر سناتے ہوئے امجد علی خان نے کہا تھا کہ مذکورہ معاملہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے، تمام مسلمان ممالک کو شامل کرتے ہوئے اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ‘اگر حکومت نے قرار داد لانی تھی تو اپوزیشن سے بات کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ قرار داد لائی جارہی ہے، لہازا میری گزارش ہوگی کہ ہمیں اس کا مطالعہ کرکے اس میں اضافہ کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔ چنانچہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس 23 اپریل تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا تاکہ مشترکہ قرس3رداد لائی جا سکے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک نے حکومت کے سامنے چار شرائط رکھی تھیں جس میں کہا گیا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کے بعد فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبات کیے کہ پارٹی کے امیر سعد رضوی کو رہا کیا جائے، پارٹی پر پابندی ختم کی جائے اور گرفتار کارکنوں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف درج ایف آئی آرز بھی ختم کی جائیں۔ تاہم حکومت بنیادی مطالبہ تسلیم کر چکی ہے اور باقی مطالبات پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے حوالے سے کوئی مشترکہ قرارداد ہیں یا نہیں۔
