سیاست میں بھی ’ثالث‘ کی ضرورت

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ

ایک وقت تھا جب ملک میں کوئی بڑا سیاسی بحران پیدا ہوتا تھا تو ایسے سیاستدان موجود ہوتے تھے جو بہترین ثالث ثابت ہوتے تھے، جن میں نمایاں نام نوابزادہ نصر اللّٰہ خان اور میر غوث بخش بزنجو کا لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کو ایک متفقہ آئین ملا اور اگر 1977ءمیں بلاجواز مارشل لا نہ لگتا تو اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن میں نئے انتخابات کے حوالے سے ’معاہدہ‘ ہو گیا تھا۔ لیکن ملک کو ایک طویل مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا جسکے نتائج آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔ سیاست میں ’ثالثی‘ ملک کوکئی بحرانوں سے نکال سکتی ہے بس آپ کو اپنی سمت کا تعین کرنا ہے کہ آگے آئینی اور جمہوری انداز میں بڑھنا ہے یا ہم شخصی فیصلوں کے ہی زیر اثر رہیں گے۔ اب اس نظام کو آپ بیشک ’ہائبرڈ نظام‘ کا ہی نام کیوں نہ دے دیں مگر یہ بات طے ہے کہ جس ملک میں سیاست، صحافت اور عدلیہ آزاد نہ ہو وہ کوئی بھی نظام ہو سکتا ہے جمہوری نہیں ہو سکتا کیونکہ پارلیمنٹ بہرکیف’ربڑ اسیٹمپ‘ نہیں ہو سکتی مگر ہم نے یہ منظر بھی دیکھ لیے اس سے توکہیں بہتر 1985 کی اسمبلی تھی جہاں وزیر اعظم کو یہ کہتے سنا گیا کہ ’’جمہوریت اور مارشل لا ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔‘‘

قیام پاکستان سے آج تک ہمارا مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ ہم اپنی سمت کا تعین نہ کر سکے اسی لیے آج تک ہم نے اعلیٰ عدلیہ کو کبھی جمہوریت کے ساتھ کھڑے نہیں دیکھا جب بھی دیکھا آئین توڑنے والوں کو آئینی تحفظ دیتے ہوئے ہی دیکھا۔ اب تو عدلیہ خود عدلیہ کے سامنے کھڑی نظر آ رہی ہے۔ جن ججز نے آواز بلند کی انکو آج اس کی سزا دی جا رہی ہے اور اس سب میں حیران کن امر ہے بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کی پراسرار خاموشی۔ دوسری طرف صحافت کے گرد گھیرا تنگ سے تنگ کیا جا رہا ہے۔ ’خبر‘ دینا ہی جرم قرار دیدیا گیا ہے۔ ’مدیر‘ کا اختیار اب کسی اور کے ہاتھ میں ہے ۔ ایسے میں نہ عوام کو انصاف ملتا نظر آتا ہے اور نہ اس ناانصافی کیخلاف میڈیا اب معاشرےکا آئینہ نظر آتا ہے۔ لہٰذا ایک ’سیاسی جمود‘ ہے بس بااثر افراد کا ایک’ کلب‘ ہے جو فیصلے اپنی ہی ’کلاس‘ کو فائدہ پہنچانے کیلئے کر رہے ہیں۔

ذرا تصور کریں اس’سیاسی جمود‘ کا کہ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت ملک میں 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کو تیار نہیں جو کہ بنیادفراہم کرتا ہے ایک مضبوط سیاسی نرسری کی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت ملک میں طلبہ یونین اور ٹریڈیونین کو ان کے جائز حقوق دینے کو تیار نہیں حالانکہ ان دونوں کی مضبوطی سے فائدہ ملک کے سیاسی نظام کو ہی پہنچتا ہے۔ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت اپنے اندر سیاسی اور جمہوری کلچر کو فروغ دینے کو تیار نہیں کہ کہیں نئے سیاسی لوگ سامنے نہ آ جائیں۔ اور تو اور پچھلے کئی ماہ سے چیئرمین الیکشن کمیشن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی براجمان ہیں اور اب تک حکومت اور اپوزیشن نے اس پر بامقصد توچھوڑیں بے مقصد بات چیت کا بھی آغاز نہیں کیا۔ ایسی صورتحال میں اگر کسی کا سب سے زیادہ فائدہ ہو رہا ہے تووہ ہے ’نوکر شاہی‘ ۔بیوروکریٹس کو ہمیشہ غیر یقینی سیاسی صورتحال سے فائدہ ہوتا ہےکیونکہ ان کو بھی وزیروں اور مشیروں کی حیثیت اور عادت کا پتا ہوتا ہے۔ لہٰذا بات الیکشن کی ہو، الیکشن کمیشن کی ہو یا ملک کو کوئی سمت دینے کی بادی النظر میں بنیادی فیصلے اب چند ہاتھوں میں ہیں اور وہی فیصلہ ساز ہیں باقی عدلیہ اور پارلیمنٹ بس ’موجود‘ ہیں وجود ہو نہ ہو۔

ایک بار سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک نجی محفل میں ایک سینئر صحافی سے پوچھا کہ میں نے ملک میں مارشل لا نہیں لگایا۔ ایک اچھا بلدیاتی نظام دیا۔ خواتین کی نشستوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا، میڈیا کو آزاد کیا اور ایک سیکولر سمت دی اس صحافی نے جواب دیا، جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور شاید آپ ہمارےکئی سویلین حکمرانوں سے بہتر ہیں مگر آپ نے یہ سب ایک منتخب حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قبضہ کرکےکیا پھر اعلیٰ عدلیہ سے اپنے مطلب کا فیصلہ لیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ وردی اتارنے کے بعد آپ کے پیچھے نہیں کھڑے ہوئے۔

اب ’ہائبرڈ نظام‘ جتنا بھی مضبوط کر د یا جائے الیکشن کمیشن جتنا بھی بے بس کر دیا جائے، میڈیا اور عدلیہ کو جتنا بھی قابو کرنے کی کوشش کر لی جائے الیکشن میں بہرحال ’ووٹ‘ تو پڑتا ہی ہے۔ حکومتیں جتنے بھی اچھے اقدامات کریں اور انکی پبلسٹی کرلیں لیکن حقیقت کا تو اس کو بھی پتا ہوتا ہے اور عوام کو بھی۔ لہٰذا جتنا بھی آپ نظام کو کنٹرول کر لیں کہیں نہ کہیں سنجیدہ سوالات آ ہی جاتے ہیں اور کچھ ایسی ہی صورتحال اس وقت ہمیں اس ’سیاسی جمود‘ کی طرف لے جا رہی ہے لہٰذا اس سے بہتر موقع ہو نہیں سکتا کہ کچھ ’معتبر‘ سیاستدان سنجیدہ ثالثی کا آغاز کریں کراچی تا خیبر تاکہ ملک کو صحیح معنوں میں ایک جمہوری سمت مل سکے۔ ظاہر ہے یہ کام آسان نہیں مفادات بھی آڑے آ جاتے ہیں اور مصلحتیں بھی ،لچک بہرحال دونوں اطراف ضروری ہوتی ہے۔

ہماری ایک بدقسمتی یہ بھی رہی کہ نہ صرف صحافت زیر عتاب ہے بلکہ بہت سے صحافی سیاسی تقسیم کی لہر میں خود بھی تقسیم ہو گئے اور مفادات حاوی آ گئے۔ میڈیا پر کنٹرول میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے صحافیوں کو ہتھکڑی لگائی جا رہی ہے۔ ’خبر‘ دینے پر نوٹس تو کبھی مقدمات کا سامنا ہے اور کالے قوانین کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرو تو تاریخ پر تاریخ پڑ رہی ہے۔

آئین محض ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ گیا جس میں ایک کے بعد ایک ترامیم کر کے اتنے پیوند لگا دیئے گئے ہیں کہ بس جو صاحب اختیار ہے اور طاقتور ہے وہ اس پر جس طرح چاہے عمل کروا لے۔ ہم آج دنیا میں سفارتی ثالثی کے حوالے سے اپنا لوہا منوا رہے ہیں اور امریکہ سے لے کر ایران، عرب ممالک سے لے کر اقوام متحدہ اس کا اعتراف کر رہی ہے کہ ہم ایک ’بہتر سفارت کار اور ثالث‘ ہیں۔ اللّٰہ کرے دنیا کسی بڑی جنگ سےمحفوظ رہے اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو یہ یقینی طور پر پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ہی ہو گا۔ اگر ہم دنیا میں ایک اچھے ثالث کے طور پر سامنے آسکتے ہیں تو اندرونی سیاسی جنگ میں کیوں نہیں۔ سیاست میں ثالثی ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے موقع ضائع نہ کریں ورنہ شاید دیر ہو جائے۔ پاکستان کیلئے مضبوط جمہوری نظام ہی بہتر ہے۔

 

Back to top button