ایک کمینی سی خوشی

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا

جب سے بھارت میں عام آدمی پارٹی کے سات ممبران کی اپنی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کی خبر پڑھی ہے تب سے ایک کمینی سی خوشی محسوس ہورہی ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ اس میں کمینی خوشی والی کیا بات ہے؟ ویسے بھی یہ بھارت کا اندرونی سیاسی معاملہ ہے‘ بھارتی جانیں‘ ان کی سیاست اور ان کی سیاسی کرپشن ۔ لیکن ہمارا بھی اس خبر سے بڑا گہرا تعلق ہے کہ بھارت میں اس وقت سیاسی کرپشن ہو رہی ہے۔ وہاں بھی انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ارکانِ پارلیمنٹ کے کاروباروں پر چھاپے مارے جس کے بعد ان سات ممبران نے حکومتی پارٹی جوائن کر لی۔ ان میں سے چار تو بڑے بزنس مین ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے عام آدمی پارٹی کو کروڑوں روپے کا چندہ دیا تھا یا کسی نہ کسی طرح پارٹی کی مدد کی تھی۔ لیکن آپ کا سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ ہمارا بھارت کے اس سیاسی سکینڈل سے کیا لینا دینا کہ وہاں کون اپنی پارٹی چھوڑ کر کہاں جا رہا ہے؟ ہمارا لینا دینا اس لیے ہے کہ یہی سسٹم ہمارے ملک میں بھی چلتا ہے کہ جب حکومت چاہے وہ دباؤ یا بلیک میل کرکے اپوزیشن ارکان کی وفاداریاں تبدیل کرا لے۔ یہ نظارے ہم 1985ء سے دیکھ رہے ہیں۔ بلکہ اگر اس سے پیچھے چلے جائیں تو آپ کو ہر دور میں یہی کچھ ہوتا دکھائی دے گا ‘اس حوالے سے آمریت یا جمہوری ادوار کا کوئی فرق نہیں۔ لیکن زیادہ تر یہ کلچر چار آمرانہ ادوار میں نمایاں ہوا‘ جب سیاستدانوں نے اپنے سیاسی‘ کاروباری یا ذاتی مفادات کیلئے وفاداریاں بدلیں۔
اپنے ملک کی حد تک ہم اس صورتحال کے عادی ہو چکے ہیں بلکہ یہ اب کوئی ایسی خبر ہی نہیں بنتی کہ فلاں ممبر پارلیمنٹ نے وفاداری بدل لی ہے۔ لیکن یہ بات مجھ سے ہضم نہیں ہو رہی کہ بھلا بھارت میں یہ کلچر کیوں شروع ہے؟ وہاں وہی ہتھکنڈے کیوں آزمائے جاتے ہیں جو ہمارے ہاں رائج ہیں؟ بھارت پر حیرانی اس لیے ہو رہی ہے کہ وہاں 78سال سے جمہوریت ہے۔ کوئی مارشل لاء نہیں لگا کہ کہا جائے کہ وہاں سیاستدانوں پر آمروں کا دباؤ تھا لہٰذا وہ ملک کی سیاست کو ٹھیک کرنے کے بجائے بگاڑ گئے۔ دیکھا جائے تو بھارت میں صرف دو سالوں کو چھوڑ کر باقی سارا عرصہ جمہوریت رہی ہے۔ یہ دو سال وہ تھے جب اندرا گاندھی وزیراعظم تھیں اور انہوں نے 1975ء میں ایمرجنسی لگا دی جو مارشل لاء ہی کی ایک شکل تھی۔ ان دو برسوں میں ویسی ہی سیاسی‘ آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں جو عموماً کسی مارشل لاء دور میں ہوتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جب دو سال کے بعد اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ہٹا کر الیکشن کرائے تو بھارت کی تاریخ میں پہلی دفعہ نہرو فیملی الیکشن ہاری جو بہت بڑا جھٹکا تھا۔ نہرو کی بیٹی جو تقریباً سترہ برس تک بھارت کی وزیراعظم رہی‘ وہ الیکشن ہار گئی۔
ہمارے بہت سے بھارتی دوست اکثر پاکستان آتے تو بڑے فخر سے ہمیں بھارتی جمہوریت اور اس کی مضبوط روایات کی کہانیاں سناتے تھے۔ ہم نے اکثر گفتگو میں نوٹ کیا کہ بھارتی شہری ہوں یا صحافی‘ وہاں آئینی اور سیاسی عہدوں کا بڑا احترام ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ بڑے دھڑلے کے ساتھ کسی بھی بڑے سے بڑے عہدے پر تنقید کرتے آئے ہیں لیکن بھارت میں کچھ روایات ایسی تھیں جو ہمارے ہاں نہیں تھیں‘ وجہ وہی مسلسل جمہوریت تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2004ء میں پاکستان کے صحافیوں کا ایک گروپ بھارت گیا تو وہ ہمیں پارلیمنٹ کا سیشن دکھانے لے گئے۔ وہاں اس وقت خاصا شور شرابہ چل رہا تھا۔ کرسی پر بیٹھے لوک سبھا کے سپیکر نے کئی دفعہ آرڈر اِن دی ہاؤس کہا لیکن اس شور شرابے میں کسی پر اثر نہ ہوا۔ پھر انہوں نے اچانک اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے کو زور سے فرش پر تین دفعہ مارا تو پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ میں نے وہیں موجود ایک بھارتی صحافی سے پوچھا کہ یہ کیا ہوا‘ اچانک سب ہی خاموش کیوں ہو گئے۔ وہ کہنے لگا کہ جب ہاؤس میں بہت شور ہو اور ممبران قابو میں نہ آ رہے ہوں تو سپیکر کے اس عمل کا مطلب ہوتا ہے کہ بس اب کافی ہو گیا‘ اور سب ممبران احتراماً فوراً خاموش ہو جاتے ہیں۔
یہ میرے لیے نئی بات تھی کیونکہ تب میں پاکستان میں ایک سال سے پرویز مشرف کی لائی ہوئی پارلیمنٹ کے اجلاس کی رپورٹنگ کر رہا تھا جہاں روز ہاؤس میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے اراکین مل کر سپیکر چودھری امیر حسین کا جینا مشکل کر دیتے تھے۔ وہ روزانہ سپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر نہ صرف نعرے لگاتے بلکہ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کے منہ پر ماری جاتی تھیں اور سپیکر صاحب یا تو اٹھ کر چیمبر میں چلے جاتے یا اجلاس مؤخر کر دیتے۔ لیکن بھارت‘ جو ہمارے لیے کئی حوالوں سے ایک رول ماڈل تھا‘ 2014ء میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد بگڑنا شروع ہوا۔ وہاں وزیراعظم مودی نے ایک جمہوری سیاستدان‘ جو عوام اور میڈیا کو جوابدہ ہوتا ہے‘ کے بجائے ایک اوتار؍دیوتا کی سی حیثیت اختیار کرنا شروع کی۔ میڈیا پر گرفت مضبوط کی گئی‘ پسندیدہ اینکرز لائے گئے اور ناپسندیدہ افراد کو نوکریوں سے نکلوایا گیا۔ مودی پر تنقید کرنا بھی گستاخی سمجھا جانے لگا‘ یوں مودی کے پسندکے میڈیا کو مودی کے نام سے جوڑ کر گودی میڈیا کا لقب دے دیا گیا۔
بھارتی دوست اکثر پاکستان کے مذہبی تاثر اور آئینی ساخت کو تنقید کا نشانہ بنا کر فخر سے کہتے تھے کہ دیکھیں ہم سیکولر آئین کے مالک ہیں اور ہمارے ہاں جو آئینی آزادیاں ہیں وہ پاکستان میں ممکن نہیں‘ جیسے وہاں آئین کے تحت کسی بھی مذہب کا شخص وزیراعظم یا صدر بن سکتا ہے۔ یوں انہیں اپنی جمہوریت پر بہت فخر تھا‘ جو دھیرے دھیرے کم ہونا شروع ہوا۔ بھارت میں بھی وہی سختیاں شروع ہوئیں جو آپ کو پاکستان میں نظر آتی ہیں۔ وہاں بھی ایسے قوانین بنے جو مخالفین کو دبانے‘ جیل بھیجنے یا سیاسی طور پر کچلنے کیلئے استعمال ہونے لگے۔ وہاں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین وزیر داخلہ کا بیٹا لگا۔ یوں بھارت میں جہاں سیاسی عہدے وفاداروں یا اہلِ خانہ میں تقسیم کرنے کا رواج کم تھا وہاں یہ روایت مضبوط ہو نے لگی۔ اقلیتوں کا جینا محال ہوا۔ اب وہاں احتسابی ادارے بھی بن گئے ہیں جو حکمرانوں کے سیاسی مخالفین کے کاروبار پر چھاپے مارتے ہیں۔ وہاں بھی ٹیکس حکام اس وقت کسی سیاستدان کو نوٹس بھیجتے ہیں جب وہ سرکار کو ٹف ٹائم دینا شروع کرتا ہے‘ اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ اسے آپشن دیا جاتا ہے کہ جیل جانا ہے یا بی جے پی جوائن کرنی ہے؟ اب یہی کچھ ہوا ہے جب سات پارلیمنٹرز‘ جن کا تعلق عام آدمی پارٹی سے تھا‘ بی جے پی میں شامل ہو گئے ۔ انہوں نے جمہوری روایات کے تحت استعفیٰ دے کر دوبارہ الیکشن لڑنے کے بجائے براہ راست پارٹی بدل لی۔ اس وقت پورے انڈیا میں اس پر شور مچا ہوا ہے کہ یہاں جمہوریت کرپشن اور سرکاری جبر کا شکار ہو گئی ہے۔ اب اگر سیاست یا کاروبار کرنا ہے تو بی جے پی کو جوائن کرنا ہوگا۔
میری ایک انڈین دوست سے بات ہو رہی تھی جو مجھے کبھی پاکستان کی سیاسی اور جمہوری روایات کے خاتمے پر طعنے دیا کرتا تھا۔ میں نے کہا: قبلہ! جہاں ہم بغیر جمہوریت کے چار آمرانہ ادوار بھگتا کر 78برس بعد پہنچے ہیں آپ وہاں مسلسل جمہوریت کے ساتھ پہنچے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی سیاسی وفاداریاں گن پوائنٹ پر تبدیل کرائی جاتی رہی ہیں اور آپ کے ہاں بھی اب وہی کچھ ہو رہا ہے۔ کم از کم اب آپ بھی طعنہ دینے کے قابل نہیں رہے۔ اُس انڈین دوست کی خاموشی مجھے ایک عجیب سی کمینی خوشی دے گئی کہ جمہوریت ہو یا آمریت‘ جو ایک دفعہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جائے اس کا اترنے کو دل نہیں کرتا‘ اور وہ آخری دم تک ہر ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ اس خطے میں جمہوریت کے نام پر چلنا سرکاری ڈنڈا ہی ہے۔

Back to top button