طیفی بٹ کو جہاز کی بجائے بذریعہ سڑک سفر کیوں کروایا گیا؟

امیر بالاج ٹیپو قتل کیس کے مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کی موت کسی اچانک پیش آنے والے “پولیس مقابلے” کا نتیجہ نہیں بلکہ بظاہر ایک منصوبہ بند کارروائی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق طیفی بٹ کو دبئی سے پاکستان لانے سے قبل ہی انھیں پولیس مقابلے میں پار کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اسی وجہ سے ہی انھیں دبئی سے ڈائریکٹ لاہور منتقل کرنے کی بجائے پہلے کراچی پہنچایا گیا اور وہاں سے بھی طیفی بٹ کو محفوظ فضائی راستے کی بجائے زمینی سفر کے ذریعے لاہور پہنچانے کا انتظام کیا گیا تاکہ منصوبے کے تحت اسے راستے میں ہی “ٹھکانے” لگایا جا سکے۔
سی سی ڈی کے سرکاری بیان میں اگرچہ“رحیم یار خان کے قریب ساتھیوں کی فائرنگ کو طیفی بٹ کی موت کی وجہ قرار دیا گیا، مگر واقعے کے حالات، مقامات اور طریقۂ کار سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مشکوک پولیس مقابلے میں طیفی بٹ کی موت حقیقت میں ریاستی سرپرستی میں منظم طریقے سے کیا گیا “انڈرورلڈ کلین اپ”آپریشن تھا جس میں پولیس نے مختلف مقدمات میں مطلوب انڈرورلڈ ڈان کو ابدی نیند سلا دیا۔
خیال رہے کہ کراچی سے لاہور کا زمینی فاصلہ تقریباً 1,210 تا 1,250 کلومیٹر کے درمیان ہے اور موٹروے/نیشنل ہائی وے کے ذریعے عام حالات میں اس کا سفر 12 سے 16 گھنٹے لیتا ہے۔ اگر قافلہ رفتار تیز رکھے اور روٹ پر رکاوٹوں کو کم سے کم رکھا جائے تو یہ وقت تقریباً 12 سے 13 گھنٹے تک بھی سمٹ سکتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں کراچی سے لاہور کے فضائی سفر پر ڈیڑھ سے پونے دو گھنٹے لگتے ہیں تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو فضائی سفر وقت کے اعتبار سے قطعی طور پر تیز اور زیادہ شفاف ہوتاہے کیونکہ امیگریشن اور پرواز کے ریکارڈز کی وجہ سے اس کی دستاویزی مانیٹرنگ بھی آسان ہوتی ہے جبکہ زمینی نقل و حمل لمبی مگر زیادہ کنٹرول ایبل ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جب کوئی فریق چاہے کہ سفر کم دستاویزی، کم نمائش اور زیادہ "قابلِ کنٹرول” ہو تو زمینی راستہ مخصوص حالات میں ترجیح بن جاتا ہے۔ طیفی بٹ کے معاملے میں یہی فرق اہم شکوک کو جنم دیتا ہے کہ پولیس نے آخر سیکیورٹی کے اعتبار سے محفوظ ترین فضائی سفر کو چھوڑ کر طیفی بٹ کو لاہور منتقل کرنے کیلئے بذریعہ روڈ سفر کو ترجیح کیوں دی؟
پولیس حکام کے مطابق طیفی بٹ کو لاہور منتقل کرنے کیلئے زمینی راستے کا انتخاب سیکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا تھا،تاہم آزاد ذرائع اس حکمت عملی کو طیفی بٹ کے حوالے سے طے خفیہ فیصلے کا حصہ قرار دیتے ہیں، ذرائع کے مطابق طیفی بٹ چونکہ باضابطہ ریڈ وارنٹ یا انٹرپول حوالگی کے تحت نہیں بلکہ ایک عام مسافر کے طور پر وطن واپس آئے تھے، اس لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے چاہتے تھے کہ ان کی واپسی زیادہ نمایاں یا دستاویزی نہ ہو۔
فضائی سفر میں میڈیا یا امیگریشن ریکارڈ کے ذریعے خبر لیک ہونے کا خطرہ تھا، لہٰذا زمینی راستہ زیادہ “کنٹرولڈ آپشن” سمجھا گیا۔
کچھ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی کا راستے میں ہی طیفی بٹ کو ڈی بریف کرنے یا ان کے روابط کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنے کا بھی ارادہ تھا لیکن یہ سفر ایک مبینہ تفتیشی سفر کے بجائے ایک خفیہ آپریشن میں تبدیل ہو گیا۔ جس کا اختتام رحیم یار خان کے سنجر پور بائی پاس پر ایک "پیشگی تحریر شدہ انجام” کے ساتھ ہوا اور مشکوک پولیس مقابلے میں طیفی بٹ موت کے منہ میں چلا گیا۔
دوسری جانب طیفی بٹ کی ہلاکت کے بعد لاہور کے گوالمنڈی، اندرون شہر اور نولکھا کے جرائم پیشہ حلقوں میں خوف اور بے یقینی کی فضا چھا گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق میر بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم کے “خاتمے” کے بعد پنجاب کے کئی “سکہ بند بدمعاشوں نے بھی” بیرونِ ملک فرار کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، ماضی قریب میں انڈرورلڈ سے وابستہ متعدد عناصر، جو مختلف بااثر شخصیات کی سرپرستی میں سرگرم تھے، اب کھلے عام نظر آنے سے گریزاں ہیں۔
ذرائع کے مطابق، سی سی ڈی نے لاہور کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس، شوٹر گروپوں اور منشیات فروشوں کی ایک نئی کال لسٹ تیارکر لی ہے، جس میں ایسے درجنوں افراد کے نام شامل ہیں جنہیں مستقبل قریب میں انجام تک پہنچانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اب عدالتی کارروائی کے بجائے “فیلڈ فیصلے” کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں “پولیس مقابلوں” کی نئی لہر دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
