نئے وزیراعلی کے الیکشن کے باوجود کے پی آئینی بحران کا شکار

 

 

 

ایک جانب خیبر پختون خواہ کے نو منتخب وزیراعلی سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ کو چارج شیٹ کرتے ہوئے عمران خان کی خاطر مرنے مارنے کا اعلان کر دیا ہے تو دوسری طرف گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان کے الیکشن کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے بعد صوبے میں آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔

 

یاد رہے کہ سپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی نے گورنر فیصل کریم کنڈی کی جانب سے علی امین گنڈاپور کا استعفی مسترد کیے جانے کے باوجود اسمبلی کا اجلاس بلا لیا تھا۔ اجلاس میں سہیل آفریدی کو 90 ووٹوں سے نیا وزیراعظم منتخب کر لیا گیا حالانکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

 

گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ چونکہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اب تک باضابطہ طور پر منظور نہیں کیا گیا، اس لیے نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب آئینی حیثیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا "جب تک علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ منظور نہیں کیا جاتا، نیا وزیر اعلیٰ منتخب نہیں ہو سکتا۔ اس لیے سہیل آفریدی کا انتخاب غیر آئینی ہے۔”

 

یاد رہے کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کو 15 اکتوبر کو گورنر ہاؤس بلایا ہے تاکہ استعفے کی ذاتی طور پر تصدیق کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں موصول شدہ دونوں استعفوں پر دستخط مختلف نظر ہیں جس کی بنا پر منظوری سے پہلے ذاتی تصدیق کا عمل ضروری ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ "میں گنڈاپور کے استعفے سے مطمئن نہیں ہوں، اطمینان میرا آئینی حق ہے۔ وہ میرے پاس آئیں، چائے بھی پلاؤں گا، اور انکا استعفیٰ بھی منظور ہو جائے گا۔”

 

تاہم اس کے برعکس، سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ: "آئین کسی کی خواہش پر نہیں چلتا۔ علی امین گنڈاپور نے اسمبلی فلور پر استعفیٰ کی تصدیق کی ہے، اور قائد ایوان کا انتخاب آئین و قانون کے مطابق مکمل ہوا ہے۔”

سپیکر کے مطابق اسمبلی کی کارروائی اور قائد ایوان کے انتخاب کا سارا عمل آئینی ہے اور گورنر کا موقف ایوان کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔

 

یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور نے 8 اکتوبر کو عمران خان کی ہدایت پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

گورنر نے استعفے کو دستخطوں میں فرق کا حوالہ دے کر واپس بھیج دیا اور علی امین کو 15 اکتوبر کو ذاتی تصدیق کے لیے طلب کر لیا۔ لیکن پی ٹی آئی نے اس کے باوجود نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل کیا ہے۔

اگر26ویں آئینی ترمیم نہ ہوتی تو یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہیں بنتے ، جسٹس مندوخیل

ادھر نو منتخب وزیراعلی سہیل آفریدی نے خیبر پختون خواہ اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے میں فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے فوجی ترجمان کی پشاور میں پچھلے دنوں ہونے والی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی ترجمان کو سیاسی پریس کانفرنس کرنے کی اجازت کس نے دی۔

 

آفریدی نے کہا کہ وہ کسی جنگ میں نہیں بلکہ عمران خان کے عشق میں قربان ہوں گے۔ ہمارے دور میں کوئی ملٹری آپریشن نہیں ہو سکتا اور اس کی ڈٹ کر مخالفت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ عمران خان فوجی آپریشنز کےمخالف ہیں، انکا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے بند کمروں کے بجائے مشاورت سے ہونے چاہئیں۔انہوں نے افغان پالیسی پر نظرِثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے دور میں افغانستان سے کوئی تنازع نہیں رہا، لیکن اب افغانوں کو 40 سال بعد دھکے دےکر نکالا جارہا ہے۔

 

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ عمران خان کی رہائی کےلیے فوری تحریک شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا میں احتجاجی سیاست کا چیمپیئن ہوں، میرے پاس کھونے کےلیے کچھ نہیں۔اگر عمران خان کو ہماری مشاورت کے بغیر اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کیا گیا تو وہ پورا پاکستان جام کردیں گے۔”

سہیل آفریدی نے کہاکہ ریاست دراصل عوام ہے اور عوام ہی عمران خان کے ساتھ ہیں، لہٰذا عمران خان ہی ریاست ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ فوج کا کام سیاسی پریس کانفرنس کرنا نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کی حفاظت ہے۔

Back to top button