آنکھ کا پردہ دماغی صحت یا مرض کا انکشاف کرسکتا ہے

آنکھوں پر نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آنکھ میں روشنی محسوس کرنے والی حساس بافت یعنی ریٹینا کی پشت پر دھاریوں کا تعلق دماغی صلاحیت و صحت سے ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم بیماری الزائیمر ہے جو دھیرے دھیرے دماغی صلاحیت کو تباہ کردیتی ہے۔
یہ مرض خاموشی سے بڑھتا ہے لیکن جب اس کی شدید علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ تاہم وہ دن دور نہیں جب آنکھوں کے معائنے سے اس کیفیت کی قبل ازوقت پیشگوئی کی جاسکتی ہے جو ڈیمنشیا کی عام اور شدید کیفیت بھی ہے۔
مکئی سرطان کے علاج میں موثر قرار
نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی آف اوٹاگو کی پروفیسر ایشلی بیرٹ ینگ اور ان کے محقق ساتھیوں کے مطابق آنکھوں کے معائنے سے دماغی امراض بالخصوص الزائیمر کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق آنکھوں کی کھڑکی سی دماغی اور ذہنی کیفیات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
دس برس قبل معلوم ہوا تھا کہ الزائیمر کے مریضوں کا ریٹینا باریک سے باریک تر ہوتا چلا جاتا ہے دوسری جانب انہی مریضوں کے ریٹینا میں ایمولوئڈ بی ٹا پروٹین کی بڑی مقدار بھر جاتی ہے جو الزائیمر کی عام وجہ بھی ہے۔ پھر 2018 میں معلوم ہوا کہ الزائیمر سے آنکھوں کی تین کیفیات جڑی ہیں جن میں موتیا اور عمررسیدگی کے سے وابستہ نابینا پن یا اے ایم ڈی شامل ہے۔
