امریکا نے ہماری بیشترتجاویز قبول کر لی ہیں، ایران کا دعویٰ

وائٹ ہاؤس کے بعد اب ایران نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے حالیہ مذاکرات میں ایران کی بیشتر تجاویز تسلیم کر لی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی بات چیت میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
تہران سے جاری بیان میں ایرانی پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ امور کے رکن فدا حسین مالکی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور حالیہ دورِ گفتگو میں امریکی حکام نے ایران کی زیادہ تر تجاویز قبول کر لی ہیں۔
فدا حسین مالکی کے مطابق مذاکرات کے دوران کئی اہم معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے، تاہم ایران کو اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں پر عملدرآمد سے متعلق تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی جانب سے مختلف معاملات پر مؤقف میں تبدیلی دیکھی گئی، جس کے باعث ایران محتاط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ایرانی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ تہران سفارتی عمل کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، لیکن حتمی معاہدے کے لیے امریکا کی عملی یقین دہانی انتہائی اہم ہوگی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس بھی اس بات کی تصدیق کر چکا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت زیر غور ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے 60 روزہ معاہدے پر اصولی اتفاق کر چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹس کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو حالیہ جنگ اور کشیدگی کے آغاز کے بعد یہ سب سے بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
