فورسزپرحملہ کرنیوالے دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ ڈار کاکہنا ہے کہ بلوچستان میں ناراضی ہو کر پہاڑوں پرچڑھنے اور فورسزپرحملہ کرنیوالے دہشت گردوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا سینٹیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ناراضگی کے نام پر دہشتگردی کرنے والوں کو ریاست کو تسلیم کرنا ہوگا،یہ کونسی ناراضگی ہے جس میں ریاست نہیں ہے۔ ناراضگی کے نام پر بات تب ہوگی جب پاکستان کے جھنڈے کو تسلیم کرنا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر سب کو تشویش ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف دو سے تین روز میں بلوچستان جائیں گے،وزیر داخلہ آج بلوچستان میں پہنچ چکے ہیں۔ناراضگی کے معاملہ پر دہشتگردی کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ایوان میں بیٹھے دونوں سائیڈز کو اس بات کو کلئیر کرنا ہوگا۔دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں سے بات نہیں ہوگی۔اس ایوان میں بات کر لیں بحث کرا لیں ۔دوسری ایجنسیوں کے ہاتھوں افراتفری پھیلانے والوں کی مزمت کرنا ہوگی۔

وزیرخارجہ نے کہاکہ اپوزیشن طریقہ کار اختیار کرے۔ماضی میں ان کے دور میں ایوان میں جو ماحول تھا سب کو پتہ ہے۔

کالم نگار عطا الحق قاسمی،جنگ گروپ کو 1ملین ہرجانہ اداکرنےکاحکم

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جب بھی پاکستان ٹیک آف کرتا ہے عدم استحکام پھیلایا جاتا ہے۔جب بھی معیشت کی سمت درست ہونے لگتی ہے کوئی نہ کوئی مسئلہ آتا ہے۔ہمیں اس کا حل ڈھونڈنا ہے بیٹھ کر بات کریں کمیٹی بنا دیں۔

Back to top button