پی ٹی آئی کےاحتجاج پردہشت گردی کا خطرہ،نیکٹاکاالرٹ جاری

قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی نےتحریک انصاف کےاسلام آباد میں کل ہونے والےاحتجاج پر دہشت گردی کےخطرےکاالرٹ جاری کردیا۔

نیکٹا کےجاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کےدوران فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کاخطرہ ہے،دہشتگرد تنظیم کے ممبران پاکستان کےبڑےشہروں میں حملوں کی منصوبہ بندی کررہےہیں،حملے کی غرض سےکئی حملہ آور پہلےسےہی پاک-افغان سرحدپار کرچکےہیں،حملہ آور19 اور20نومبرکی رات مختلف شہروں میں داخل ہوئے۔

نیکٹا نےصوبائی حکومتوں کو فوری سخت اقدامات کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ دہشت گردوں کی جانب سےجلسےجلوسوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج پر بھی حملہ ہوسکتا ہے۔

خیبرپختونخوامحکمہ داخلہ نے ہائی الرٹ جاری کردیا

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خطرےکےپیش نظر محکمہ داخلہ نے ہائی الرٹ جاری کیاہے،اعلامیےمیں کہا گیا کہ دہشتگرد عوامی جلسےجلوسوں کو نشانہ بنانےکاارادہ رکھتےہیں،کسی بھی قسم کی سماجی یاسیاسی سرگرمی کےلیے عوام الناس کےاجتماع سےگریز کیا جائے،خود بھی گھروں میں رہیں اور اپنےپیاروں کو بھی گھروں میں محفوظ رکھیں۔

ادھر پی ٹی آئی کےپشاور میں ہونےوالےاہم اجلاس میں کل ہرصورت احتجاج اور ڈی چوک پردھرنا دینےکافیصلہ کیاگیاہے،پارٹی رہنماؤں نےتمام رکاوٹیں پارکرکے منزل پرپہنچنےکےعزم کا اظہار کیا، اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیاگیا کہ اس بار کامیابی کےبغیر واپسی نہیں ہوگی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کےاحتجاج کی کال پر حکومت نے بھی سخت اقدامات کیے ہیں، صوبہ پنجاب میں3 روز کےلیےدفعہ144 نافذ کردی گئی ہے جس کے تحت جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی لگادی گئی ہے جبکہ 6 موٹرویز مرمتی کام کےباعث تاحکم ثانی بند ہیں،۔

شہر اقتدار کو24 مقامات سےبندکرنےکا فیصلہ بھی کیا گیا ہے،اسلام آباد میں فیض آباد، روات ٹی چوک سے اسلام آباد جانےوالےراستوں کو کنٹینرلگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اوررہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے،اسلام آباد میں سابق ایم این اےنفیسہ خٹک کو گرفتار کرکے تھانہ ویمن منتقل کردیاگیا جبکہ شیخوپورہ میں سابق صوبائی وزیر قانون ایم این اےخرم شہزاد ورک کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا،ذرائع کےمطابق ان کے بھتیجے اور دیگر6 رشتہ داروں کوگرفتار کیا گیا ہے،پنجاب کےدارالحکومت لاہور میں پی ٹی آئی نائب صدر پنجاب اکمل خان باری اورچوہدری حبیب الرحمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے24 نومبر کواسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے، سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کےبانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے واضح کیا تھا کہ احتجاج میں رہنماؤں کی کارکردگی کی بنیاد پراگلے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا جائے گا۔

Back to top button