پانی میں لیتھیم کی زیادہ مقدار بچوں میں آٹزم کا سبب بن سکتی ہے، تحقیق

نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حمل کے دوران پینے کے پانی میں لیتھیم کی زیادہ مقدار حاملہ خواتین کے بچوں میں آٹزم (Autism) کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس (UCLA) کے ماہرین کی جاما پیڈیاٹرکس نامی جرنل میں شائع تحقیق میں پہلی مرتبہ قدرتی طور پر پانی میں موجود لیتھیم کے آٹزم کا سبب بننے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحقیقی ٹیم کی سربراہ یو سی ایل اے کے ڈیوڈ گیفن اسکول آف میڈیسن کی پروفیسربیئٹ رٹز کا کہنا تھا کہ پینے کے پانی میں انسان کی ذہنی نشونما پر اثر انداز ہونے والی آلودگیوں کی سخت جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجرباتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کچھ مادوں اور پانی میں قدرتی طور پر موجود لیتھیم بچوں کی ذہنی نشونما پر اثر انداز ہو کر ان میں آٹزم کا شکار ہونے کا خطرہ پیدا کر دیتا ہے۔

ڈاکٹر بیئٹ رٹز کا کہنا تھا کہ لیتھیم بیٹریوں کو تلف کرنے کیلئے زمین میں دبانے یا کہیں پھینک دینے سے لیتھیم کے زیر زمین پانی میں شامل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اس سے مستقبل میں لیتھیم سے آلودہ پانی کا مسئلہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر ابھر سکتا ہے۔

 

معروف ترین سرچ انجن بھی جلد آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس ہوگا

 

Back to top button