پیرا سیٹامول گولی کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کیوں؟

بخار کی دوا پینا ڈول کے مارکیٹ سے غائب ہونے کے بعد پیراسٹا مول کو متبادل کے طور پر تجویز کیا گیا تھا، لیکن اب پیرا سٹا مول کی مانگ میں اضافے اور سٹاک میں کمی کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ کچھ ماہ کچھ ماہ قبل مارکیٹ میں معمولی بخار کی دوا پیراسٹامول کی ادویات کی قلت ہوگئی تھی، بعد ازاں فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی سپلائی کو مارکیٹ میں دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔ وزارت خزانہ نے فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو پیرا سیٹامول کی ادویات کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دینے کے بعد 3 نومبر کو محکمہ صحت کی جانب سے ادویات کی نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔ اس سے قبل 21 اکتوبر کو معروف فارما سیوٹیکل کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن کنزیومر ہیلتھ کیئر پاکستان لمیٹڈ نے پیناڈول کی پیداوار بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی کو نقصان ہو رہا ہے۔

تاہم 3 نومبر کو پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچر ایسوسی ایشن نے پیرا سیٹا مول کی قیمتوں میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اُن دیگر ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کرنا چاہئے جن کی مینوفیکچرنگ بڑھتی ہوئی پیداوار کے پیش نظر ناقابل عمل ہو چکی ہے۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ حکومت کی منظوری کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان یعنی ڈریپ نے پیراسیٹامول کی قیمت میں اضافہ کا تعین کیا اور نئی قیمتوں پر ادویات کی فروخت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ نوٹی فکیشن میں مزید بتایا گیا کہ 200 پیرا سیٹامول گولیوں (500 ملی گرام) کا ایک پیکٹ 470 روپے میں فروخت کیا جائے گا یا ایک گولی 2.35 روپے میں فروخت کی جائے گی۔

اسی طرح پیرا سیٹامول کی 100 گولیوں (500 ملی گرام/ 65 ملی گرام) کا ایک پیکٹ 275 روپے میں فروخت ہوگا یا یا ایک گولی 2.75 روپے میں فروخت کی جائے گی، اس کے علاوہ پیرا سیٹامول سسپنشن (160 ملی گرام/5ملی گرام) کی 120 ملی لیٹر کی بوتل 117.60 روپے میں فروخت ہوگی۔

پی پی ایم اے کے چیئرمین سید فاروق بخاری نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اس اقدام سے پیراسیٹامول کی سپلائی بلا تعطل جاری رہے گی۔ دوسری جانب اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ معاوضے کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے دو نامور ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیاں سنوفی اور بائر نے پاکستان سے اپنا کاروبار ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ملک میں آنے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پر منفی اثر پڑے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کو بھیجے گئے حالیہ خط میں ای آئی سی سی آئی نے کہا کہ ان کے ممبران نے پچھلے 10 سالوں میں پاکستان میں اپنے وسائل سے 21 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی تھی تاکہ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ کتابی صورت میں شائع کرنے کا اعلان

او آئی سی سی آئی کے صدر غیاث خان نے وزیراعظم کو بھیجے گئے اپنے خط میں وضاحت کی کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کار جو او آئی سی سی آئی کے ممبران ہیں انہیں کاروباری حصول میں غیر یقینی صورتحال اور حکومتی حکام کی جانب سے بروقت فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔غیاث خان نے کہا کہ بالخصوص دوا ساز اور آئل مارکٹنگ کمپنیوں کو خدشات ہیں جن کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان میں معروف غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا جا سکے۔

او آئی سی سی آئی نے کہا کہ گلیکسو اسمتھ کلائن، ایبٹ، نووارٹس اور فائزر جیسی پاکستان میں نمائندگی کرنے والی عالمی تحقیق پر مبنی دوا ساز کمپنیوں کو ادویات میں قیمتوں میں مناسب اضافے سے انکار غیر ملکی سرمایہ کاروں کےلیے اہم مسائل تھا۔ چیمبر کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں نے وزارت صحت اور ڈریپ کو بھی خط لکھا تھا جس میں انہوں نے روپے کی قدر میں کمی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچنے کے لیے ادویات کی قیمتوں میں ایک ہی بار اضافہ کا مطالبہ کیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ ادویات کی قیمت پاکستان میں سب سے زیادہ کم ہے۔ لاگت میں اضافہ اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے فرانس کی کمپنی سنوفی اور جرمنی کی کمپنی بائر جیسے غیر ملکی شراکت داروں نے اپنا کاروبار پاکستان سے بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، اس لیے قیمتوں میں اضافہ پر غور کیا جائے۔

Related Articles

Back to top button