تقسیم ہند کے وقت بچھڑے دو بھائی 75 سال بعد کیسے ملے؟

بچپن اور جوانی میں بچھڑ جانے والے خاندان کی کہانیاں اکثر فلموں اور ڈراموں میں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن ایسی ہی ایک کہانی حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، تقسیم ہند کے دوران بچھڑے دو بھائی 75 سال بعد کرتاپور راہداری میں دوبارہ مل گئے، برِصغیر کی تقسیم کے وقت بچھڑنے والے دو بھائیوں میں سے انڈیا میں مقیم محمد حبیب عرف سکا خان کو پاکستان کے ہائی کمیشن نے ویزا جاری کر دیا ہے۔

محمد صدیق اور محمد حبیب عرف سکا خان برصغیر کی تقسیم کے وقت اُس وقت بچھڑ گئے تھے جب جالندھر سے افراتفری میں ان کا خاندان پاکستان کے لیے روانہ ہوا تھا، ان کے والد ہلاک ہو گئے تھے، صدیق اپنی بہن کے ساتھ پاکستان پہنچ گئے جبکہ حبیب والدہ کے ساتھ وہیں رہ گئے جن کا بعد میں انتقال ہو گیا تھا۔

حال ہی میں اپنے بھائی سے کرتارپور میں ملاقات کے بعد پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے چک 255 کے رہائشی محمد صدیق نے کہا تھا کہ عمران خان سے کہتا ہوں کہ وہ بچھڑے ہوئے بھائیوں کو ملانے کے لیے میرے بھائی محمد حبیب کو پاکستان کا ویزا دیں، زندگی کی آخری سانسیں ہم اکھٹے گزار لیں تو شاید ماں باپ، بہن بھائیوں سے بچھڑنے کا دُکھ کچھ کم ہو سکے۔ اب ان دونوں بھائیوں کے دل کی یہ مراد پوری ہو گئی ہے اور انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی جانب سے سکا خان یعنی محمد حبیب کو پاکستان میں مقیم اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزے کا اجرا کر دیا گیا ہے۔

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد حبیب عرف سکا خان کی ایک تصویر شیئر کی جس پر ان کے ہاتھ میں پکڑے پاسپورٹ پر ویزے کی مہر لگی ہوئی ہے، انڈیا میں پاکستان ہائی کمیشن نے اس تصویر کے ساتھ تحریر کیا کہ آج 28 جنوری کو سکا خان کو پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے پاکستان اپنے بھائی محمد صدیق اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کے لیے ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔

صدارتی نظام کے لیے کونسی بڑی شرط پوری کرنا ممکن نہیں؟

سوشل میڈیا کے ذریعے اس خبر کے سامنے آتے ہی محمد حبیب عرف سکا خان کے پاکستان کے شہر فیصل آباد کے نواحی گاؤں میں مقیم بھائی محمد صدیق کا کہنا تھا کہ میں اپنے بھائی کا شدت سے انتطار کر رہا ہوں، اس کا استقبال میں ڈھولک کی تھاپ پر کروں گا۔
محمد حبیب نے بتایا کہ میں آج ہی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے گیا تھا، سفارتخانے نے میری بہت مدد کی، دو گھنٹے کے اندر ویزہ جاری کر دیا گیا، اب میں دہلی کے سٹیشن سے اپنے گاؤں جا رہا ہوں، وہاں جا کر اپنے دوستوں سے ملاقاتیں کروں گا، اس کے بعد پاکستان جانے کا پروگرام بناؤں گا۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اب اس وقت کا انتطار کر رہا ہوں کہ اب میں کب دوبارہ پاکستان داخل ہوں گا، اس کے لیے میں واہگہ کا راستہ اختیار کروں گا، میرے لیے کرتارپور خوشبختی لایا ہے، اب انتظار ہے کہ کب واہگہ میں داخل ہوں گا۔ صدیق کا کہنا تھا کہ میرے لیے آج بہت بڑی خوشی کا دن ہے، میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ میرے بھائی کو ویزا دو، اس نے ویزا دے دیا، اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ میرے بھائی کو ویزہ دے دیا گیا، اب میں اپنے بھائی کے تمام دُکھوں کا مداواہ کرنے کی کوشش کروں گا۔اُن کا کہنا تھا کہ یہ خوشی ہے کہ زندگی میں دونوں بھائیوں کو دوبارہ ملنے کا موقع مل گیا۔

Back to top button