ہائیکورٹ جج کے بیٹے نے دولڑکیوں کی جان کیسے لی؟

 

 

 

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس آصف محمود کے کم عمر بیٹے نے شاہراہ دستور پر گاڑی کی ٹکر مار کر سکوٹی سوار دو لڑکیوں کی جان لے لی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طاقتور جج کے بیٹے کو سزا ملتی ہے یا وہ لواحقین پر دباؤ ڈال کر ڈیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے قریب 2دسمبر کی رات تقریباً ایک بجے سنیپ چیٹ بناتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج محمد آصف کے ’کم عمر‘ بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے سکوٹی پر سوار دو لڑکیوں کی موت واقع ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق وی-8 لینڈ کروزر گاڑی جج محمد آصف کا 16 سالہ بیٹا ابوذر چلا رہا تھا جس نے پارکنگ ایریا سے گاڑی نکالتے ہوئے تیز رفتاری اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی این سی اے میں کام کرنے والی دو لڑکیوں کی سکوٹی کو ٹکر مار دی۔ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی اتنی تیزی رفتار تھی کہ اس کی ٹکر سے سکوٹی کئی گز دور جا گری اور گاڑی کی ٹکر سے دونوں لڑکیاں پر موقع پر ہی دم توڑ گئیں جبکہ ٹکر کے بعد ملزم گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والی ایک لڑکی پی این سی اے میں کورس کر رہی تھی جبکہ دوسری وہاں ملازم تھی۔ دونوں رات ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر واپس جا رہی تھیں۔

 

اس حوالے سے سب انسپکٹر محمد اصغر کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے رجسٹریشن نمبر کی مدد سے گاڑی کا سراغ لگایا اور بعد ازاں ایک نجی اسپتال پہنچے جہاں ملزم کو طبی امداد کے لیے لایا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے حراست میں لے لیا گیا، اس کے طبی اور فرانزک نمونے لیے گئے جبکہ گاڑی کو بھی جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ جس کے بعد ملزم کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزم ابوزر کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ درج ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لئے ہیں جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔وہاں موجود ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت گاڑی کی رفتار معمول سے کہیں زیادہ تھی اور ڈرائیور پارکنگ میں گاڑی چلاتے ہوئے حفاظتی اُصولوں کی پابندی نہیں کر رہا تھا۔ پولیس نے موقع سے گاڑی قبضے میں لے کر اسے فرانزک معائنے کے لیے بھجوا دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 322، 279 اور 427 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور فرانزک رپورٹ، موقعے کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کی بنیاد پر مقدمہ آگے بڑھایا جائے گا تاکہ واقعے کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے اور قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔تفتیشی ٹیم کے مطابق کم عمر ڈرائیور ابو ذر کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا، جبکہ اس نے گرفتاری سے قبل اپنا موبائل فون بھی کہیں پھینک دیا ہے۔ تاہم ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے۔

کیا حکومت KP میں گورنر راج کے نفاذ سے پیچھے ہٹ گئی؟

اس حوالے سے اسلام آباد ٹریفک پولیس کے سربراہ ایس ایس پی حمزہ ہمایوں نے تصدیق کی ہے کہ اس حادثے سے متعلق ٹریفک پولیس نے جو رپورٹ بنائی، اس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ملزم کم عمر تھا اور اس کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنا ہوا تھا۔ ایس ایس پی حمزہ ہمایوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حادثے میں ہلاک ہونے والی لڑکیوں کے پاس بھی ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں تھا۔ حمزہ ہمایوں کے مطابق’قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ جرم کا ارتکاب کرنے والا کتنا بااثر ہے یا کسی بااثر شخصت کا قریبی عزیز ہے۔‘تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر پولیس شواہد کی بنا پر جج کے بیٹے کو ملزم ثابت کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو مقدمہ ثابت ہونے پر 18 برس سے کم عمر ملزم کو کیا سزا ہو سکتی ہے؟ قانونی ماہرین کے مطابق  اسلام آباد ٹریفک حادثے سے متعلق درج ہونے والے مقدمے میں ملزم پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 بھی لگائی گئی ہے جو کم عمر بچے کے گاڑی چلانے سے متعلق ہے۔ تعزیرات پاکستان کی یہ دفعہ ناقابل ضمانت ہے اور جرم ثابت ہونے پر اس کی سزا 10 سال قید ہے۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں شفافیت اور قانون کی بالادستی نہایت اہم ہوتی ہے، چونکہ معاملہ ایک ہائی پروفائل خاندان سے جڑا ہے، اس لیے تحقیقات کا آزادانہ اور غیر جانبدار ہونا ضروری ہے تاکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد برقرار رہے کیونکہ ماضی میں طاقتور حلقوں کے بچوں سے متعلق کئی کیسز میں دباؤ یا ’’سمجھوتوں‘‘ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں، اس لیے اس واقعے میں بھی ریاست کو ثابت کرنا ہوگا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔تاہم کچھ مبصرین کے مطابق تمام تفصیلات سامنے آنے تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے دیں تاکہ فیصلہ انصاف اور شواہد کی بنیاد پر ہو۔ اب سب کی نظریں اس پر جمی ہیں کہ آیا یہ مقدمہ واقعی قانون کی اصل روح کے مطابق آگے بڑھے گا یا یہاں بھی عدلیہ آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ کر غریب لواحقین کو کسی سمجھوتے پر مجبور کر دے گی۔

 

Back to top button