UAEبھگوڑے حکمرانوں کی آخری آماجگاہ کیوں ہے؟

اپنے ممالک میں غیر مقبول ہو کر عوامی غیضب وغضب کا سامنا کرنے کی بجائے صدر اشرف غنی اور پرویز مشرف جیسے اکثر بھگوڑے حکمران راہ فرار اختیار کرتے ہیں جن میں سے ذیادہ تر کی آخری آماجگاہ یو اے ای یا متحدہ عرب امارات ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنا ملک چھوڑ کر بھاگنے والے اکثر حکمران یو اے ای کا رخ کیوں کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات پہنچنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ملک جان کا تحفظ اور رازداری فراہم کرتا ہے۔ ویسے بھی یہاں لوٹے ہوئے پیسے خرچنے کے کافی مواقع ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس دنیا کا جدید ترین سکیورٹی کا نظام موجود ہے اور شاہی خاندان کی حکومت پر گرفت بھی مضبوط ہے۔ ایسی صورتحال میں یہاں سیاسی افراد خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر سے سیاستدان پناہ کے لیے متحدہ عرب امارات پہنچ رہے ہیں۔
افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی ہوں یا پاکستان کا آئین شکن بھگوڑا پرویز مشرف، فوجی بغاوت میں اقتدار سے باہر ہونے والے تھائی لینڈ کے وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا ہوں یا ینگ لک شیناوترا، متعدد بھگوڑے حکمرانوں نے آخری ٹھکانے کے طور پر متحدہ عرب امارات میں پناہ لی۔ اس کے علاوہ سپین کے سابق بادشاہ ہوان کارلوس، فلسطینی رہنما محمد دہلان اور یمن کے مرحوم رہنما علی عبداللہ صالح کے بڑے بیٹے احمد علی عبداللہ صالح نے بھی دبئی میں پناہ لی تھی۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات نے افغانستان سے راہ فرار اختیار کرنے والے صدر اشرف غنی کو انسانی بنیادوں پر پناہ دی ہے۔ 15 اگست کو جب طالبان جنگجو کابل کا محاصرہ کر رہے تھے اسی دوران صدر اشرف غنی نے اچانک ملک چھوڑ دیا۔ اس وقت یہ علم نہیں تھا کہ وہ کہاں گئے۔ بہت سے لوگ ان کے ازبکستان یا تاجکستان جانے کی بات کر رہے تھے۔ پھر اشرف غنی نے خود متحدہ عرب امارات میں ہونے کی تصدیق کی۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے اشرف غنی کو انسانی بنیادوں پر سیاسی پناہ دی ہے۔ جبکہ غنی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا ہے۔اشرف غنی نے کہا: ‘میں ابھی متحدہ عرب امارات میں ہوں تاکہ خونریزی اور افراتفری کو روکا جا سکے۔’ لیکن پھر بھی لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اشرف غنی نے افغانستان چھوڑنے کے بعد متحدہ عرب امارات کو اپنا مسکن کیوں بنایا اور یو ای ای نے انھیں پناہ کیوں دی؟ تاہم شنید یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات نہیں چاہے گا کہ اشرف غنی ان کی سرزمین کو سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کریں۔ وجہ یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں افغانوں اور پاکستانیوں کی بڑی تعداد ہے، اس لیے متحدہ عرب امارات نہیں چاہے گا کہ اس کی سرزمین افغان سیاست کا اکھاڑہ بن جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب متحدہ عرب امارات نے عالم اسلام کے کسی رہنما کو پناہ دی ہو۔ افغان صدر اشرف غنی کے علاہ اور بھی کئی ایسے حکمران ہیں، جنہوں نے اس وقت خلیجی ریاستوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ اقتدار چھوڑ کر اشرف غنی متحدہ عرب ریاست میں جا بسے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ حالیہ تاریخ میں یہاں پناہ لینے والے پہلے غیر ملکی حکمران مالی اسکینڈل کا شکار ہونے والے ہسپانوی بادشاہ خوان کارلوس اول تھے۔ انہوں نے 2014 میں ملک چھوڑنے سے پہلے بادشاہت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے شاہی منصب اپنے بیٹے فیلپے کے حوالے کر دیا تھا جو اب اسپین کا دستوری بادشاہ ہے۔
ان کے علاوہ آسیان تنظیم کے رکن ملک تھائی لینڈ کے دو وزیر اعظم تھاکس شیناوترا اور یِنگ لک شیناوترا بھی اسی ریاست میں مقیم ہیں۔ ان کا تعلق تھاکسن خاندان سے ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات کے قرب میں واقع ایک اور خلیجی ریاست قطر نے افغان طالبان کی قیادت کو برسوں اپنی ریاست میں پناہ دیے رکھی۔ ایسے ہی سعودی عرب میں بھی یوگنڈا کے سابق ڈکٹیٹر عیدی امین، تیونس کے مفرور ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی اور سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب میں دس برس گزار چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سابق آئین شکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے خود بھی اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کا ہی رخ کیا۔ یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے انھیں سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ پرویز مشرف پر آئین شکنی کا الزام تین نومبر 2007 کو آئین کی معطلی اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی شخص کو آئین شکنی کے جرم میں سزا سنائی گئی ۔ جسٹس سیٹھ وقار، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے یہ مختصر فیصلہ سنایا۔ یہ ایک اکثریتی فیصلہ تھا اور بینچ کے تین ارکان میں سے دو نے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا جبکہ ایک رکن نے اس سے اختلاف کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ تاہم پرویز مشرف دبئی میں مقیم ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان کب اس آئین شکن بھگوڑے کو وطن واپس لاکر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتی ہے۔
