اداکارہ شبنم بلبل اکیڈمی سے پاکستان فلم انڈسٹری تک کیسے پہنچیں؟

لمبے سیاہ بالوں ، سیاہ آنکھوں ، تیکھے نقش والی دبلی پتلی ، سانولی رقاصہ جھرنا نے 1959 میں اپنے رقص سے بنگلہ دیش کا دورہ کرنے والے پاکستانی ادیبوں کو اپنے سحر میں ایسا جکڑا کہ ان پر وجد طاری ہوگیا ، پاکستانی ادیبوں نے بنگلہ دیش سے واپسی پر اپنے سفر کا احوال قلمبند کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلہ دیشی میزبان نے ایک رقاصہ جھرنا کا تعارف کروایا ، بتایا گیا کہ یہ دسویں جماعت کی طالبہ ہے ، جھرنا نے ادب سے سب کو سلام کیا اور پھر اپنے حسن اور رقص سے حاضرین کے دل موہ لیے ، مہمان شاعر ادیب مائل اور گھائل ہوگئے۔
ممتاز شاعر منیر نیازی نے ایک انٹرویو میں بتایا جھرنا بلبل اکیڈمی میں زیر تربیت تھی مگر اس نے ایسا رقص کیا کہ اس محفل میں موجود شاعر و ادیب مبہوت ہوگئے ، جب ہم کمرے میں واپس آئے تو ابن انشا جھرنا سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے راتوں رات جھرنا کے ساتھ اپنی شادی کا دعوت نامہ مرتب کرڈالا۔منیر نیازی نے ہفت روزہ ’نصرت ‘ میں ’بنگال کا سفر‘ کے عنوان سے جو روداد لکھی اس میں بھی جھرنا کا ذکر کیا۔
فارغ بخاری نے ’ادب لطیف‘ میں قسط وار بنگال کا سفرنامہ لکھا تو اس میں بتایا کہ اے حمید نے جب اعلان کیا کہ وہ جھرنا کے سب سے پہلے عاشق ہیں اور ابن انشا نے شادی کارڈ تک چھپوانے کا فیصلہ کر لیا تو اس پر منیر نیازی بولے ’تم سب بکتے ہو۔ جھرنا کو مجھ سے اور صرف مجھ سے محبت ہے ، وہ کن آنکھوں سے میری طرف للچائی نظروں سے دیکھتی ہوئی پائی گئی ہے۔ میں یہاں سیٹل ہونے کا تہیہ کر چکا ہوں، ہم منیر جھرنا کے نام سے ایک نیا رومان بنیں گے جو مغربی و مشرقی پاکستان کا مشترکہ لوک رومان ہوگا۔
جھرنا نے رقص سے جو سماں باندھا اس کے بارے میں فارغ بخاری نے لکھا جیسے بنگالی ناموں میں اس کا نام منفرد تھا ، اسی طرح وہ خود بھی دلفریب خدوخال کی ایک نہایت خوبصورت دوشیزہ تھی اور جب وہ رقص کرنے لگی تو یوں لگا جیسے واقعی کسی پہاڑی کے دامن سے کوئی جھرنا پھوٹ کر بہنے لگا ہو۔ نرم رو، صاف و شفاف، ٹھنڈے پانی کا کومل جھرنا اور لق و دق صحرا کی جلتی لو سے جھلسے ہوئے تشنگی سے نڈھال مسافروں کی طرح ہماری ترسی اور للچائی ہوئی نظریں اس کے جسم کی اُچھلتی کودتی لہروں پر جم کر رہ گئیں ، وہ بڑے خلوص سے ناچ رہی تھی۔
جھرنا کی طرف ادیبوں کا مائل ہونا ایک وقتی جذبہ تھا، اس لیے بات ارادوں سے آگے نہ بڑھ سکی۔ قسمت کی خوبی دیکھیئے کہ جھرنا کی قسمت کا ستارہ مغربی پاکستان کی اردو فلم انڈسٹری میں چمکنا تھا اور اس نے شبنم کے نام سے شہرت حاصل کرنی تھی اور شہرت بھی ایسی کہ جس کا دائرہ عشروں پر محیط رہا۔
1962 میں نامور فلم ڈائریکٹر احتشام کی فلم ’چندا‘ سے اردو فلموں میں ان کے کیرئیر کا آغاز ہوا جو 1997 میں اختتام کو پہنچا ، جھرنا کو ’شبنم‘ بھی احتشام نے ہی بنایا ، موسیقار رابن گھوش سے ان کی شادی ہوئی۔
1967 میں یہ لوگ ڈھاکہ چھوڑ کر مغربی پاکستان آن بسے یہاں شبنم کی فلم انڈسٹری سے وابستگی کے دوران چند نازک موڑ ایسے آئے جب لگا کہ وہ ڈھاکہ واپس چلی جائیں گی۔ سب سے پہلے یہ امکان 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے بعد پیدا ہوا لیکن وہ پاکستان میں رہیں اور ان کا فنی سفر کامیابی سے جاری رہا۔
1979 میں چند اوباشوں نے لاہور میں ان کے گھر میں گھس کر جس لفنگے پن کا مظاہرہ کیا، اس نے ان کی روح پر گہرے نقوش چھوڑے لیکن انہوں نے بڑی ہمت سے یہ سب کچھ سہار لیا، خود کو بکھرنے نہ دیا اور پاکستان نہ چھوڑا۔ان سے جو ظلم ہوا اس حوالے سے برسوں بعد معروف رائٹر اصغر ندیم سید نے افسانہ لکھا جو ان کی کتاب ’کہانی مجھے ملی‘ میں شامل ہے۔
اداکارہ شبنم نے بڑے بڑے حادثات جھیل لیے اور بنگلہ دیش واپس نہ گئیں لیکن ان کی قسمت میں ایک دن یہاں سے رخصت ہونا لکھا تھا جس کا سبب ان کے والد کی علالت بنی اور وہ 22 برس پہلے ڈھاکہ چلی گئیں۔ یہاں سے جانے کے بعد پاکستان نے انہیں اور انہوں نے پاکستان کو بھلایا نہیں۔لاہور میں بیتے دنوں کی یاد ان کے ذہن سے نہ نکل سکی اور یہ شہرِ بے مثال انہیں رہ رہ کر یاد آتا ہے ، انسان آخر اس جگہ کو کیسے بھول سکتا ہے جہاں سے اسے عزت، دولت اور شہرت ملی ہو، ان کے شوہر رابن گھوش نے بھی موسیقار کی حیثیت سے بڑا نام کمایا۔
2012 میں انہیں پاکستانی حکومت نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا جسے وصول کرنے آئیں تو لوگوں کی محبت نے انہیں سرشار کر دیا ، انہوں نے اس بات پر خوشگوار حیرت ظاہر کی کہ نوجوان نسل بھی انہیں پہچانتی ہے۔2017 میں کراچی اور لاہور کے لٹریچر فیسٹیول میں بھی لوگوں نے انہیں بڑی محبت اور عزت دی ، 2019 میں لکس سٹائل ایوارڈز میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا ، شبنم کی پذیرائی کا یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے کیونکہ انہوں نے پاکستان فلم انڈسٹری کی بڑی خدمت کی ہے۔
