اٹک میں قید کے دوران نواز کے برعکس عمران کی موجیں؟

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے جنرل مشرف کے دور میں دہشت کی علامت اٹک کے قدیم قلعے میں انتہائی سخت قید کاٹی انہیں ہفتوں تک دن کی روشنی دیکھنے سے محروم رکھا جاتا تھا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو کرپشن کا مجرم ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں B کلاس سے بھی بڑھ کر مزید بہتر سہولیات دیتے ہوئے ہائی سیکورٹی سیل نمبر 2 میں منتقل کردیاگیا ہے ، یہاں انھیں کرسی ، میز، چارپائی اور گدے وغیرہ کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ ڈسٹرک جیل اٹک اور بدنام زمانہ اٹک قلعے میں تیس کلو میٹر کا فاصلہ ہے . ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت کی علامت اٹک قلعےمیں جب نواز شریف قید ہوئے تو ان کیلئے یہاں اذیتیں تھیں جبکہ ‘‘عمران کیلئے اٹک ڈسٹرکٹ جیل میں ابتدا میں بی کلاس کی سہولتیں مہیا کی گئیں، وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور حسین نواز سمیت متعدد سیاستدان اٹک جیل میں اسیر رہے ، وفاقی دارلحکومت اسلام ابٓاد اور پشاور کے وسط میں جی ٹی روڈ پر واقع دریائے سندھکے کنارے پر واقع’’ اٹک کا قلعہ‘‘ ماضی بعید کی تاریخ کے حکمرانوں سےمنسوب کہانیوں اور داستانوں سے آراستہ ہے جبکہ عہد حاضر میں اس قلعے کی دہشت بالخصوص ملک سے غداری کے مرتکب اور افواج پاکستان کیخلاف سازشوں اور بغاوتوں کی منصوبہ بندی کرنیوالوں کو گمنام کر کے اس قلعہ میں اذیتیں دیئے جانے کے حوالے سے معروف ہے جبکہ بعض محب وطن سیاستدانوں کو سزائیں دینے کے حوالے سے بھی کئی واقعات موجود ہیں۔ جن میں2000 میں جب جنرل پرویز مشرف نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو میاں نواز شریف کو ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر کیس میں سزا سنا کر انہیں اٹک قلعہ میں پابند سلاسل کردیا گیا جہاں وہ ہفتوں دن کی روشنی دیکھنے سے بھی محروم رہتے تھے اور حد تو یہ تھی کہ ان کیخلاف مقدمہ چلانے کیلئے احتساب عدالت بھی اٹک قلعہ میں قائم کردی گئی تھی۔ اوراب اٹک کا تذکرہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کیا جارہا ، عمران کو سانحہ 9 مئی کے بعد مسلسل عدالتوں کا سامنا ہے انہیں توشہ خانہ کیس میں سزا سنا کر اٹک کی ایک جیل میں بھیج دیا گیا اطلاعات کے مطابق جہاں انہیں ابتدا میں بی کلاس دی گئی اب ان کی سہولیات میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو گرفتاری کے بعد کہاں منتقل کیا جائے گا،گو کہ اس حوالے سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں تمام انتظامات مکمل تھے اور ان خصوصی انتظامات کو ہنگامی طور پر مطلوبہ انداز میں فعال کرنے کے حکم ملنے پر محض چند گھنٹے درکار تھے کیونکہ عام تاثر یہی تھا کہ پاکستان کے ممتاز سیاستدان جو اس سے قبل راولپنڈی کی سنٹرل جیل کے مہمان رہ چکے ہیں جہاں ذوالفقار علی بھٹو کو کئی ماہ کی اسیری کے بعد پھانسی بھی اسی جیل میں دی گئی تھی تاہم سنٹرل جیل کی اڈیالہ کے مقام پر منتقلی کے بعد جہاں اس کا نام ہی اڈیالہ جیل پڑ گیا تھا عمران خان کو وہیں منتقل کر دیا جائے گا ویسے بھی 9مئی کے سانحے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کم وبیش تمام اہم رہنما اور ارکان پارلیمنٹ کو اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا لیکن عدالتی فیصلے کے فوری بعد موٹر وے کے ذریعے اٹک جیل لے جایا گیا جو اٹک شہر کی قدرے گنجان آبادی میں واقع ہے وہاں کے قرب و جوار میں کرفیو کا سماں تھا اور قریبی علاقوں سے بھی بلائی گئی پولیس نفری اٹک شہر میں تعینات تھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک جانے والے تمام راستوں کو جیل کی حدود سے 1500گز دور بلاک کر دیا تھا عمران خان بذریعہ موٹروے شام سات بجے اٹک جیل لائے گئے تھے جہاں ڈاکٹروں کی ایک خصوصی ٹیم نے جیل مینول کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کیا، واضح رہے کہ اٹک جیل کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ ملک کا کوئی سابق وزیراعظم اس جیل کا مہمان بنا ہے تاہم میاں شہباز شریف کچھ عرصے اٹک قلعہ میں رہنے کے بعد اٹک جیل منتقل کئے گئے تھے اور حسین نواز بھی اسی جیل میں رہے۔ کے پی کے کے سابق وزیراعلیٰ سردار مہتاب خان،سابق وزیر مواصلات اعظم خان ہوتی،ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار بھی اٹک جیل میں قید رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بعد ان کے لیڈر عمران خان بھی اب اسی جیل میں اسیری کے شب و روز گزاریں گے جسے نئے مہمان کی آمد سے پیشتر ہی ان کی ’’قیام گاہ‘‘ کے بلاک کو صاف ستھرا کر دیا گیا ہےفی الوقت یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی اسیری کی کتنی مدت اٹک جیل میں گزرے گی اور کیا انہیں کچھ عرصے بعد اٹک قلعے میں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے؟ تاہم سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو ہیلی کاپٹر کیس میں جب سزا سنائی گئی تھی تو انہیں براہ راست اٹک قلعے میں ہی لے جایاگیاتھا۔ احتساب عدالت میں سماعت کے موقع پر مقدمہ کی کوریج کرنے والی میڈیا ٹیم کو سابق وزیراعظم تک رسائی کی اجازت نہیں تھی تاہم پیشی کے وقت میاں نوازشریف انتہائی پراعتماد دکھائی دیا کرتے تھے سماعت کے بعد وہ دور سے ہی میڈیا ٹیم کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے اور ان کے احوال دریافت کرتے تھے. عمران خان کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا پانے والے چیرمین پی ٹی آئی کو بہتر سہولیات دیتے ہوئے ہائی سیکورٹی سیل نمبر 2 میں منتقل کردیاگیا۔

طبی معائنے کے لیے تین شفٹوں میں میڈیکل آفیسر بھی 24 گھنٹے کے لیے تعینات کردیا گیا۔ جیل کے اندرون و بیرون سیکورٹی بھی ہائی الرٹ ہے۔چیرمین پی ٹی آئی نے اسیری کی دوسری رات بھی سکون سے گزاری تجہد و نماز فجر کی ادائیگی کے بعد سوئے۔
چیرمین پی ٹی آئی جیل کے ہائی سیکورٹی سیل نمبر ون سے ہائی سیکورٹی سیل نمبر 2 میں منتقل کردیاگیا ہے سیل نمبر 2 کے کمرے کا سائز سیل ون کے کمرے سے بڑا ہے جہاں انھیں کرسی میز، چارپائی اور گدے وغیرہ کی سہولت بھی دی گئی ہے۔

سیل نمبر ٹو کے گرد بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔ محکمہ جیل خانہ جات کے کمانڈوز مسلسل تعینات رہ کر سیکورٹی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں جبکہ سیل کی بیرونی اطراف کلوز سرکٹ ٹی وی کیمروں سے بھی مانیٹرنگ جاری ہے اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی اجازت کے بغیر کسی جیل آفیسر کو سیل نمبر 2 جہاں چیئرمین پی ٹی آئی اسیر ہیں جانے کی اجازت نہیں۔

جیل میں اسیری کے دوران چیرمین پی ٹی آئی نے حسب معمول تجہد ادا کیے بعدازاں نماز فجر ادا کرکے قران پاک کی تلاوت کی اور بعد سوگئے۔جیل میں چیرمین پی ٹی آئی کے میڈیکل معائنے کے لیے اٹک ہسپتال کے ڈاکڑز کی ٹیم تین شفٹوں میں 24 گھنٹے تعینات کردی گئی ہے ۔ 8 ،8 گھنٹے کی ہر شفٹ کا میڈیکل آفیسر تین مرتبہ وزٹ کرکے عمران خان کو چیک کرتا ہے اور زبانی بھی مسئلہ دریافت کیاجاتا ہے۔اسی طرح ریسکیو 1122 کی ایمبولینس بھی پیرا میڈکس عملے کے ساتھ24 گھنٹے جیل کے باہر موجود رکھی ہے۔

ڈسٹرکٹ جیل اٹک کی سیکورٹی ہائی الرٹ ہے جیل کے تین راستے ہیں تینوں کو عام ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا ہے اور صرف انتہائی ضروری گاڑی کو چیکنگ کے بعد وہاں سے گزارا جارہا ہے۔جیل اٹک کی جانب والے تینوں راستوں پر اٹک پولیس کی پوسٹیں لگائی گئی ہیں ضلعی پولیس و رینجرز کی پیٹرولنگ بھی جاری ہے۔ چیرمین پی ٹی آئی اسیری کے دوران مطمئن رہے اور رات کو بھی ساتھ لائی انگریزی کی کتب کا مطالعہ بھی کرتے رہے۔

میجر طفیل محمد شہید کے 65 ویں یومِ شہادت پرخراجِ عقیدت

Back to top button