امریکی اورچینی صدور کامصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے پر اتفاق

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں عالمی رہنماؤں نے اپنی طاقتور مسابقت کو مؤثر انداز میں سنبھالنے اور مصنوعی ذہانت کو انسانی کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں منعقدہ ایک شاندار تقریب سے جمعرات کو اس دورے کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس میں فوجی فلائی پاسٹ، اوول آفس میں اہم مذاکرات اور باضابطہ اسٹیٹ ڈنر شامل ہے۔

یاد رہے کہ  80 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز ایئرپورٹ پر خود جا کر 73 سالہ چینی صدر کا استقبال کیا، جو گزشتہ 60 سے زیادہ سالوں میں کسی امریکی صدر کی جانب سے غیر ملکی سربراہِ مملکت کا ایئرپورٹ پر خود استقبال کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے ان کی صحت سے متعلق تمام تر افواہوں کو رد کیا اور انہیں مکمل طور پر ’صحت مند، متحرک اور فٹ‘ قرار دیا۔

مذاکرات کا بنیادی محور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور سپر انٹیلی جنس سے پیدا ہونے والے چیلنجز ہیں۔ جہاں صدر ٹرمپ مصنوعی ذہانت کے انسان کے لیے خطرہ ہونے کے خدشات کو مسترد کرتے رہے ہیں، وہیں صدر شی جن پنگ نے اس معاملے پر ایک محتاط اور سنجیدہ موقف اپنایا۔

وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک پر یہ تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی ترقی کو آگے بڑھائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت کا ارتقا ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے تاکہ اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اس موقع پر انہوں نے امریکی چڑیا گھر کو پانڈاز کی ایک جوڑی دینے کا اعلان بھی کیا، جسے چین کی روایتی ’پانڈا ڈپلومیسی‘ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

اگرچہ اس دورے سے کسی بہت بڑے معاہدے کی توقع نہیں کی جا رہی، تاہم دونوں ممالک اپنے گہرے معاشی تعلقات کو متوازن رکھنا چاہتے ہیں۔

امریکی خزانے کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے تجارتی جنگ میں 2 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے جو کہ نومبر میں ختم ہو رہی تھی۔ اس اقدام کا مقصد ان عالمی ٹیرف تعطل کو روکنا ہے جو گزشتہ سال امریکی صدر کے سخت تجارتی اقدامات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔

Back to top button