سروائیکل کینسر سے بچانے کیلئے لڑکیوں کی ویکسین لازمی کیوں ہے؟

پاکستان میں خواتین کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کیلئے جاری ویکسینیشن مہم کے دوران سوشل میڈیا پر افواہوں اور مفروضوں کا بازار گرم ہے تاہم طبی ماہرین کے مطابق ایچ پی وی ویکسینیشن حکومتی آبادی کنٹرول مہم کا حصہ نہیں۔ اس ویکسین سے نہ تو ماہواری متاثر ہوتی ہے، نہ ہی خواتین کی ماں بننے کی صلاحیت ختم ہوتی ہے بلکہ ویکسین خواتین کے بچہ دانی کے منہ کو بیماریوں سے محفوظ بنا کر زرخیزی کو مزید بہتر کرتی ہے۔
خیال رہے کہ سروائیکل کینسر دنیا بھر میں خواتین میں چھاتی کے بعد دوسرا سب سے عام سرطان ہے۔ ماہرین کے مطابق سروائیکل یعنی بچہ دانی کے منہ پر بننے والے کینسر کی تشخیص سکریننگ کے ذریعے ممکن ہے تاہم غفلت، غلط تشخیص یا علاج میں تاخیر کے باعث یہ سب سے جان لیوا کینسرز میں سے ایک ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال چھ لاکھ خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں، جبکہ تین لاکھ خواتین اس کینسر کی زد میں آ کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ایچ پی وی وائرس کی تقریباً 100 سے زائد اقسام ہیں اور اس انفیکشن کی زیادہ تر علامات ظاہر نہیں ہوتیں، البتہ اس کی کچھ اقسام میں ہاتھ، پاؤں اور منہ کے اندر چھالے بن جاتے ہیں۔ بہت سے متاثرہ مریضوں کو کافی عرصے تک یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ انفیکشن کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ بہت سی خواتین بہتر قوت مدافعت کی وجہ سے بغیر کسی علاج کے اس وائرس سے نجات حاصل کر لیتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سروائیکل کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان میں سروائیکل کینسر سے سالانہ تین ہزار اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ عالمی سطح پر سالانہ تین لاکھ خواتین موت کا شکار ہو رہی ہیں اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 تک یہ تعداد سات لاکھ سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی خطرے سے نمٹنے کیلئے پاکستان میں 15 ستمبر سے ایچ پی وی ویکسین لگانے کی ملکی تاریخ کی پہلی قومی مہم جاری ہے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں نو سے 14 سال عمر کی لڑکیوں کو سرنج کے ذریعے یہ ویکسین دی جارہی ہے تاکہ ان کے اندر ایچ پی وی کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو اور وہ بچہ دانی کے منہ کے کینسر یعنی سروائیکل کینسر سے محفوظ رہ سکیں۔ تاہم اس مہم کے آغاز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بہت سے سوالات اور غیر تصدیق شدہ معلومات کے شیئر کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جس نے والدین اور عام شہریوں میں اس حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی ویکسین بارے بہت سے ابہام پیدا کر دئیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ویکسینیشن مہم ہمیشہ سے افواہوں کا شکار رہی ہے۔ پولیو ہو یا کووڈ-19، ویکسینیشن مہم کے دوران عوامی بداعتمادی ہمیشہ ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔۔ یہی صورتحال اب HPV ویکسین کے ساتھ بھی دہرائی جا رہی ہے۔ تاہم، حکومت نے اس بار علمائے کرام، میڈیا، والدین، کمیونٹی لیڈرز اور سکولوں کو اعتماد میں لے کر آگاہی مہم کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس پھر بھی سوشل میڈیا پر وائرل افواہیں جاری ویکسینیشن مہم کیلئے ایک چیلنج ثابت ہو رہی ہیں۔
تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ پی وی ویکسینیشن بارے سوشل میڈیا پر وائرل مفروضے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویکسینیشن کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ یہ سوال زیر بحث ہے کہ آخر صرف 9سے 14سال کی بچیوں کو ہی ویکسین کیوں دی جا رہی ہے؟ طبی ماہرین کے مطابق HPV عام طور پر جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اس لیے ویکسین اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے جب بچیوں کو شادی یا جنسی سرگرمی سے پہلے لگائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ 9 سے 14 سال کی عمر کی بچیوں کو ہی پہلے ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ تاکہ جنسی ملاپ شروع ہونے سے پہلے ہی بچیوں میں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کی جا سکے۔تاہم اس 14سال سے بڑی بچیاں بھی شادی سے پہلے یہ ویکسین لگوا سکتی ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر سروائیکل کینسر کی تشخیص ہو چکی ہو تو پھر ویکسین فائدہ نہیں دیتی۔ اس مرحلے پر سرجری یا ریڈیوتھراپی جیسے طریقہ علاج اختیار کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایچ پی وی انسانی جسم میں جلد کی تہوں میں پایا جاتا ہے اور یہی ایچ پی وی انفیکشن ہی ستّر فیصد سے زائد مریضوں میں سروائیکل کینسر کا سبب بنتا ہے جو کہ چھاتی کے سرطان کے بعد دنیا میں خواتین میں پایا جانے والا سب سے عام سرطان ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایچ پی وی ویکسین اس وقت بہترین کام کرتی ہے جب بچیاں ابتدائی عمر میں ایچ پی وی وائرس کا شکار ہونے سے پہلے یہ لگوا لیں، کیونکہ یہ ویکسین صرف انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتی ہے تاہم جب یہ وائرس لگ جائے تو پھر یہ جسم کو اس سے نجات نہیں دلا سکتی اس لئے بچیوں کیلئے اُن کے بالغ ہونے سے پہلے ہیکینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگوا لینا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق عمومی طور پر بچیوں کیلئے ویکسین کی ایک یا دو ڈوزز کافی ہوتی ہیں تاہم جن افراد میں قوت مدافعت کی کمی ہے، انھیں اس کی تین ڈوزز بھی دی جا سکتی ہیں۔
