مولانا کے متنازع بیان پرحکومت اور جے یو آئی (ف) میں لفظی جنگ میں شدت

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ متنازع بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، عوامی دفاع، ریاستی ذمہ داری اور سکیورٹی پالیسی سے متعلق ان کے ریمارکس پر حکومت، حکمران جماعت اور جے یو آئی (ف) کے درمیان لفظی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایک طرف وفاقی وزرا مولانا کے بیان کو شہدا اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی توہین قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے نہ صرف معافی مانگنے سے انکار کر چکے ہیں بلکہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے بیان کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا اور ان کے خلاف منظم پراپیگنڈا مہم چلائی گئی۔اس لئے حکومت کی جانب سے ان سے معافی مانگی جائے۔
خیال رہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب رواں ماہ قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتی دہشت گردی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "ہم کوئی لشکر نہیں بنائیں گے، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کا تحفظ کرے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
اس بیان پر گوجرانوالہ کی ایک مقامی عدالت نے دائر درخواست پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 اگست تک جواب طلب کر لیا، جس کے بعد معاملہ قانونی رخ بھی اختیار کر گیا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے شہدا کی قربانیوں کو ان کی تنخواہوں سے جوڑنا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ شہدا، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور ان کے خاندانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کی قربانیوں کو سیاسی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے مولانا فضل الرحمان نے اصل بات کو غلط سمجھا ہو یا اس کی تشریح مختلف انداز میں کی ہو۔ ان کے مطابق حکومت عوام کو کسی قسم کے مسلح لشکر بنانے کی ترغیب نہیں دے رہی بلکہ صرف یہ کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پہنچنے تک شہری اپنی جان و مال کے دفاع کی بنیادی صلاحیت رکھتے ہیں تو قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دفاع کا حق آئین اور قانون کے اندر موجود ہے اور بینکوں، کاروباری مراکز یا نجی اداروں کی سکیورٹی بھی اسی اصول کے تحت ہوتی ہے، اسے "لشکر سازی” قرار دینا درست نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ کوئٹہ اور زیارت جیسے حالیہ واقعات میں مقامی افراد پولیس کی مدد کرنا چاہتے تھے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انہیں روکا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام کو مسلح گروہوں کے خلاف جنگ لڑنے کا کوئی باقاعدہ پیغام نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ وہ اپنے بیان پر معافی نہیں مانگیں گے بلکہ جن لوگوں نے ان کے خلاف منظم مہم چلائی ہے، انہیں معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہدا کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف ہیں اور انہیں کوئی شہدا کی عظمت نہ سکھائے۔ انہوں نے کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے پالیسی سازوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کا اختلاف سپاہیوں سے نہیں بلکہ پالیسی بنانے والوں سے ہے۔
مولانا نے الزام عائد کیا کہ بعض حلقے قبائل اور عوام کو لشکر بنا کر دہشت گردوں کے خلاف لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ ان کی جماعت اس سوچ کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ شہریوں کی حفاظت ریاست اور اس کے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مشرقی پاکستان میں "البدر” اور "الشمس” کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تجربات کے منفی اثرات آج بھی موجود ہیں، اس لیے عوام کو کسی نئی مسلح کشمکش میں نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ چاروں صوبوں کا دورہ کریں گے اور عوام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے ان کے بیان کی غلط تشریح کی ہے تو وہ اپنی سیاسی مہم کے ذریعے حقائق عوام تک پہنچائیں گے۔
جے یو آئی (ف) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے بھی مولانا کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ قصور کے جلسے کی تقریر میں سے صرف ایک جملہ نکال کر ایک منظم مہم چلائی گئی۔ ان کے مطابق مولانا نے کبھی شہدا کی توہین نہیں کی بلکہ وہ خود اور ان کی جماعت دہشت گردی میں سینکڑوں کارکنوں کی قربانیاں دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا ہمیشہ آئینی حدود میں رہ کر اداروں کے کردار پر بات کرتے ہیں اور خیبر پختونخوا و بلوچستان میں بگڑتی امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھانا ان کا آئینی حق ہے۔
حافظ حمد اللہ نے دعویٰ کیا کہ قصور کا جلسہ حکمرانوں کے لیے سیاسی طور پر پریشان کن ثابت ہوا، اسی لیے اس تقریر کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ اگست میں ملک بھر میں ورکرز کنونشن اور ستمبر، اکتوبر میں پنجاب سے باقاعدہ سیاسی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جس میں آئین، جمہوریت اور پارلیمانی خودمختاری کو مرکزی نکتہ بنایا جائے گا۔
ادھر مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے مولانا فضل الرحمان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے شہدا پر الزام تراشی کر کے وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں اور انہیں ایسی تقاریر سے گریز کرنا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات کو صرف ایک متنازع تقریر کے طور پر نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی امن و امان کی صورتحال اور ان علاقوں میں جے یو آئی (ف) کو درپیش سیاسی چیلنجز کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق مولانا ایک معتدل مذہبی سیاسی قوت کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے انہیں ریاست اور شدت پسند عناصر کے درمیان ایک مشکل توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی وزرا اس معاملے کو زیادہ نہ اچھالتے تو شاید یہ تنازع اتنا نہ بڑھتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازع کا ایک واضح سیاسی پہلو بھی ہے۔ ان کے بقول موجودہ سیاسی ماحول میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر کھل کر تنقید کرنے والی بڑی شخصیات کم رہ گئی ہیں، جبکہ مولانا فضل الرحمان نسبتاً آزادانہ انداز میں اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) جیسی منظم جماعت اور مولانا جیسی بااثر شخصیت کے ساتھ محاذ آرائی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
