امریکا ایران کشیدگی: ثالثوں کی 10 روزہ جنگ بندی کیلئے کوششیں تیز

امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے لیے ثالثوں نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ثالثوں نے کشیدگی میں کمی لانے اور مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو 10 دن سے دو ہفتوں تک کھولنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کی یہ تجویز پاکستان اور قطر نے پیش کی، جبکہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے اس تجویز کے موصول ہونے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ثالث مزید کشیدگی روکنے کے لیے سرگرم ہیں اور امریکا کے پیغامات بھی انہی کے ذریعے ایران تک پہنچ رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران کی خطے کے کسی بھی ملک سے دشمنی نہیں، تاہم ایران پر حملوں کے لیے کسی ملک کی سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو ایرانی مسلح افواج بھی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ انہوں نے آئی اے ای اے سے دارخوین جوہری بجلی گھر پر امریکی حملے کی مذمت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ایران کا جوابی وار، بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جنگ اسی وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہوگی۔
