جنگ یا مذاکرات؟ایران۔امریکا کشیدگی میں پاکستان اتنا اہم کیوں؟

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک نئے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں، جوابی اقدامات، آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں پھیلتی بے یقینی نے عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور علاقائی استحکام کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان ایک بار پھر ممکنہ سفارتی پل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کوئی ملک ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے، تاہم اس کامیابی کی بنیاد مکمل غیر جانبداری، متوازن خارجہ پالیسی اور تمام علاقائی طاقتوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی مسلسل خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فوجی کارروائیوں، سخت بیانات اور جوابی اقدامات نے نہ صرف خطے کے امن کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے بھی شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اگر امریکا اپنی فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرتا ہے یا زمینی افواج میدان میں اتارتا ہے تو تنازع صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اسی لیے خطے کے متعدد ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پاکستان بھی اس سلسلے میں دوست ممالک سے مسلسل رابطے کر رہا ہے اور مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ سابقہ مفاہمتی کوششیں مطلوبہ نتائج برقرار نہ رکھ سکیں، تاہم پاکستان کی ثالثی کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ موجودہ حالات میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کا بنیادی مقصد کسی نئے معاہدے تک پہنچنے سے پہلے جنگ کے دائرہ کار کو وسیع ہونے سے روکنا اور مستقبل میں مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا ہے۔ اگرچہ فوری جنگ بندی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، تاہم سفارتی رابطے مستقبل میں کسی سیاسی حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔موجودہ بحران کے دوران ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں سخت ردعمل اختیار کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو تیل اور گیس کی عالمی سپلائی، عالمی تجارت اور خطے کی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک تک پہنچ سکتے ہیں۔
دفاعی اور سفارتی ماہرین کے مطابق اگر جنگ خلیجی خطے سے آگے بڑھی تو مختلف علاقائی گروہ اور اتحادی بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں، جس سے تنازع مزید پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بھی سفارتی حل کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔
خارجہ پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی سب سے بڑی سفارتی طاقت اس کا متوازن مؤقف اور مختلف علاقائی و عالمی طاقتوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات ہیں۔ اگر پاکستان اسی غیر جانبدار پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران، امریکا اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھتا ہے تو وہ کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے پاکستان کو انتہائی محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ کسی بھی فریق کی جانب جھکاؤ کا تاثر پیدا نہ ہو۔ موجودہ حالات میں اعتماد سازی، مسلسل سفارتی رابطے اور متوازن خارجہ پالیسی ہی وہ عوامل ہیں جو پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے لا سکتے ہیں۔اگرچہ بحران ابھی اپنے حساس مرحلے میں ہے، لیکن سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جنگوں کا مستقل حل میدان جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی سفارتی کوششیں آنے والے دنوں میں نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
