کیا اسمبلی میں قرارداد کا مقصد TLP کو فیس سیونگ دینا تھا؟

20 اپریل کے روز قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی بےدخلی پر بحث کیلئے قرارداد پیش کرنے کا بنیادی مقصد حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی قیادت کو فیس سیونگ دینا تھا تاکہ وہ اسلام آباد کی طرف 20 مارچ کا لانگ مارچ منسوخ اور لاہور میں اپنا مرکزی دھرنا ختم کرنے کے اعلانات کر سکے۔
حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ 19 اپریل کے روز حکومت کے تشکیل کردہ سرکاری وفد اور علامہ سعد حسین رضوی کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کو نکالنے کے لیے قرارداد پیش کی جائے گی تاکہ تحریک لبیک کی بھی بات بنی رہے اور حکومت پر بھی وعدہ خلافی کا عائد کردہ الزام واپس ہو جائے۔ بتایا گیا ہے کہ سعد حسین رضوی کے ساتھ مذاکرات نہ صرف سرکاری وفد نے کیے بلکہ کچھ اور لوگ بھی اس عمل میں شامل تھے جنہوں نے پیار محبت کے علاوہ دھمکی کا نسخہ بھی استعمال کیا۔ سعد رضوی کو بتایا گیا کہ ان پر کئی پولیس اہلکاروں کے قتل اور دہشت گردی کے مقدمات درج ہیں اور اگر وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے تو ان کے جلد باہر آنے کے امکانات ہیں ورنہ وہ بقیہ زندگی جیل میں ہی بسر کریں گے۔ دوسری طرف پیار محبت کا چورن بیچنے والے گورنر پنجاب چوہدری نے سعد رضوی کو یقین دلایا کہ اگر وہ لاہور کا مرکزی دھرنا ختم کر دیں تو نہ صرف انہیں جلد رہا کر دیا جائے گا بلکہ تحریک لبیک سے پابندی اٹھانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ حکومت تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق قومی اسمبلی میں 20 اپریل کو فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے حوالے سے قرارداد بحث کیلئے پیش کر دے گی اور لبیک کی قیادت اسلام آباد کا۔لانگ مارچ اور لاہور کا مرکزی دھرنا ختم کرنے کے اعلانات کر دے گی۔ چنانچہ سب کچھ سکرپٹ کے عین مطابق ہوا۔
لیکن کہانی میں ٹوئسٹ تب آیا جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے 20 اپریل کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس ختم ہونے کے فورا بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ تحریک لبیک کا معاہدہ صرف قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کے بے دخلی کے حوالے سے قرارداد پر بحث کی حد تک تھا جو کہ حکومت نے پورا کردیا۔ انکا کہنا تھا کہ قرارداد اسمبلی میں پیش ہو چکی اب باقی کام پارلیمنٹ کا ہے کہ وہ اس پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں فوادچوہدری نے واضح کیا کہ نہ تو سعد حسین رضوی کو رہا کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کی تنظیم پر پابندی ختم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیار حکومت کا نہیں ہے بلکہ عدالتوں کا ہے اور ان دونوں مقاصد کے حصول کے لیے لبیک والوں کو قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے عدالتوں کا رخ کرنا ہوگا۔ ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت تحریک لبیک کے صرف ان ہی کارکنان کو رہا کرنے جا رہی ہے جنکے خلاف صرف امن و عامہ میں خلل ڈالنے کے مقدمات ہیں۔ لیکن جن لوگوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت اقدام قتل اور قتل کے مقدمات درج ہیں ان کو قانونی طریقہ کار کے تحت مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔فواد کا کہنا تھا کہ ریاست قانون کے تحت چلتی ہے اور پولیس والوں کا خون بہانے والوں کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہو گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں فرانس کے سفیر کی بے دخلی کی قرارداد لانے کا بنیادی مقصد اس کو پاس کروانا نہیں بلکہ تحریک لبیک کا دھرنا اور ملک گیر احتجاج ختم کروانا تھا اور یہ مقصد کامیابی سے حاصل کر لیا گیا۔ یاد رہے کہ 20 اپریل کی دوپہر قومی اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے بعد رات گئے گئے چوک یتیم خانہ لاہور میں تحریک لبیک کا مرکزی دھرنا بھی ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ اس سے پہلے دن بھر لاہور کے مرکزی دھرنے میں یہ اعلانات ہوتے رہے کہ سعد رضوی خود یہاں پہنچ کر اپنے ساتھیوں کو ایک بڑی خوشخبری سنائیں گے لیکن ایسا نہ ہو پایا۔ اس دوران سعد رضوی کی جیل سے رہائی کے حوالے سے خبریں بھی میڈیا پر چلتی رہی لیکن وہ سب بھی غلط ثابت ہوئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رات گئے جب لاہور کے مرکزی دھرنے میں دوسرے درجے کی قیادت نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تو تحریک لبیک کے کئی کارکنان بپھر گئے اور انہوں نے فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔ تاہم پھر حکومت سے مذاکرات کرنے والے ڈاکٹر محمد شفیق کی جانب سے ورکرز کو سمجھایا گیا کہ حکومت کے سامنے رکھے گئے انکے مطالبات اور اس پر کیے جانے والے اقدامات کے بعد احتجاج اور دھرنے کا جواز باقی نہیں رہا ہے۔ جماعت کے قائدین کا کہنا تھا کہ ’باقی معاملات میں بھی پیش رفت ہو رہی ہے‘۔ چنانچہ جماعت کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد لاہور میں مسجد رحمت اللعالمین کے اندر اور باہر موجود ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔
دوسری جانب دھرنا ختم کروانے کے لیے قومی اسمبلی کا بلایا جانے والا اجلاس ایک گھنٹے کی کارروائی کے بعد ہی جمعہ تک کے لیے ملتوی کردیا گیا
کیونکہ اس کا بنیادی مقصد گونگلوں سے مٹی جھاڑنا اور تحریک لبیک کو دھرنا ختم کرنے کے لیے فیس سیونگ فراہم کرنا تھا۔ اجلاس میں حکومتی ارکان کے علاوہ مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام کے ارکانِ اسمبلی نے شرکت کی۔ تاہم حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ جماعت کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وزیراعظم عمران خان کا اپنا پھیلایا ہوا گند ہے جسے انھیں خود ہی صاف کرنا ہو گا۔حکومتی ارکان نے جہاں اس قرارداد کی حمایت کی وہیں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاملے پر پالیسی بیان دے اور قرارداد کو اتفاق رائے کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے امجد علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلے پر بحث کی جائے اور یورپی ممالک خصوصاً فرانس کو پیغمبرِ اسلام کے گستاخانہ خاکوں کے معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات حکومت کو طے کرنے چاہییں اور کوئی فرد گروہ یا جماعت حکومت پر اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتا۔مذکورہ قرارداد میں اس معاملے پر سپیکر سے خصوصی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا جسے ایوان نے اکثریتِ رائے سے منظور کر لیا۔
قرارداد پیش ہونے کے بعد مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن کو قرارداد پر غور کرنے کے لیے ایک گھنٹہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ’پورا پاکستان اس معاملے پر کوئی دو رائے نہیں رکھتا‘ لیکن سپیکر اسے ایوان میں متنازع بنا رہے ہیں جبکہ اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا جانا چاہیے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا ’یہ قرارداد ناکافی ہے۔ میری گزارش ہے ایک گھنٹہ دیں، ہم اس کا مطالعہ کریں گے اور جو اضافی باتیں رکھنی ہیں وہ بتائیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد پر بحث کے لیے کسی خصوصی کمیٹی کی ضرورت نہیں بلکہ پورے ایوان کو ہی کمیٹی بنایا جائے۔ اس پر حکومتی رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں اس پر بحث ہو لیکن یہ قرارداد ایک پرائیویٹ رکن نے پیش کی ہے اور حکومت اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔ انھوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ قرارداد کو ایک خصوصی کمیٹی بنا کر اس کے حوالے کیا جائے اور اس کے بعد یہ ایوان میں پیش کی جائے تو اس پر بحث ہو۔ مولانا اسعد محمود نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ختم نبوت کا مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں سب کا مسئلہ ہے۔‘ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بتائے کہ تحریک لبیک سے گذشتہ شب ہونے والی بات چیت میں کون شامل تھا۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو حکومت کی پالیسی سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ میڈیا کو حقائق سامنے لانے کی اجازت دی جائے اور ’ملک میں جس نے خون بہایا اس کا تعین ہونا چاہیے۔’ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے تک ملتوی کر دیا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کی قرارداد پر کیا فیصلہ ہوتا ہے اور اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
