نواز شریف نے جو بے نظیر کے ساتھ کیا وہ انہیں سود سمیت واپس ملا

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار روؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ سابق نواز شریف وفاق اور پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومتیں ہونے کے باوجود مسلسل یہ سوال کیے جا رہے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا گیا لہذا انکے اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے۔ روؤف کلاسرہ کہتے ہیں کہ جواب یہ ہے کہ جو کچھ نواز شریف نے بینظیر بھٹو اور فاروق لغاری کے ساتھ کیا تھا وہ سب کچھ انہیں تقدیر نے سود سمیت واپس لوٹایا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ نواز شریف کا یہ غم ہی ختم نہیں ہو رہا کہ انہیں اقتدار سے کیوں نکالا گیا۔ وہ آج 7 برس گزر جانے کے بعد 2024 میں بھی یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ انہیں 2017ء میں کیوں ہٹایا گیا؟ لیکن مزے کی بات ہے کہ اُن کے اس سوال پر کوئی ان سے یہ سوال نہیں پوچھتا کہ آپ نے محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو اور فاروق لغاری کو کیوں نکالا اور نکلوایا تھا؟ یہ انسانی مزاج ہے کہ ہم جو کچھ اپنے بھلے کیلئے کرتے ہیں اسے جائز سمجھتے ہیں لیکن اگر وہی حرکت کوئی دوسرا ہمارے ساتھ کر دے تو ہم اسے دھوکا دہی اور ملک دشمنی قرار دے دیتے ہیں۔ کلاسرہ کہتے ہیں کہ میں پہلے "کرما” پر یقین نہیں رکھتا تھا لیکن پھر دھیرے دھیرے مجھے اس بات پر یقین آنا شروع ہو گیا ہے کہ ہم اپنی کرتوتوں کا صلہ اسی دنیا میں پا لیتے ہیں۔ چاہے آپ کتنے ہی چالاک اور ہوشیار کیوں نہ ہوں‘ ایک نہ ایک دن اونٹ پہاڑ تلے ضرور آتا ہے۔
روؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ میں نے اگلے روز نواز شریف کو دوبارہ یہ سوال کرتے ہوئے سنا کہ آخ مجھے کیوں نکالا۔ ان کے وہی پرانے شکوے شکایتیں سن کر مجھے سابق وزیر عابدہ حسین کا ایک باب یاد آ گیا۔ اس میں وہ لکھتی ہیں کہ ایک دن وہ گورنر پنجاب جنرل جیلانی سے ملنے گئیں تواُن کے دفتر کے باہر ایک نوجوان مٹھائی کا ڈبہ لے کر بیٹھا ان سے ملنے کا انتظارکر رہا تھا۔ عابدہ نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے اور مٹھائی لے کر کیوں بیٹھا ہے؟ انہیں بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام نواز شریف ہے اور یہ لاہور کے ایک بزنس مین کا بیٹا ہے اور گورنر سے ملاقات کا انتظار کر رہا ہے۔ عابدہ حسین آگے لکھتی ہیں کہ 1996ء میں بینظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں‘ صدر فاروق لغاری اور ان کے درمیان اختلافات کی خبریں چل رہی تھیں‘ ایک دن عابدہ حسین کو پیغام ملا کہ اُن سے میاں محمد شریف مری میں لنچ پر ملنا چاہتے ہیں۔ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ جب وہ مری پہنچیں تو پورچ میں میاں محمد شریف اپنے دونوں بیٹوں‘ نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ ان کا انتظار کررہے تھے تاکہ ان کا شایانِ شان استقبال کر کے انہیں بتایا جائے کہ وہ ان سب کیلئے کتنی اہم ہیں۔
عابدہ حسین کے مطابق وہ کچھ حیران ہوئیں کہ بھلا آج کیسا دن ہے کہ پورا خاندان ان کے آگے پیچھے بچھا جا رہا ہے۔ خیر لنچ کے بعد میاں شریف اپنی زبان پر وہ مدعا لے آئے جس کیلئے عابدہ حسین کو اسلام آباد سے مری بلایا گیا تھا۔ میاں شریف کہنے لگے کہ انکے صدر فاروق لغاری سے تعلقات اچھے نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انکی صدر فاروق لغاری سے صلح ہو جائے۔ ان کے تعلقات تب خراب ہوئے جب نواز شریف خود لغاری کے خلاف رضی فارم کا سکینڈل لائے اور الزام لگایا کہ ان کی زمین ایک بینکر یونس حبیب کو بہت مہنگی قیمت پر بکوائی گئی تھی۔ نواز شریف خود ایک جلوس لے کر ڈیرہ غازی خان گئے تاکہ لغاری سردار کو اس کے گھر میں بے عزت کر کے آئیں۔ یوں لغاری اور نواز شریف کیمپ میں تعلقات بہت خراب تھے۔ میاں شریف نے عابدہ حسین سے کہا کہ انہیں پتا چلا ہے کہ صدر لغاری اور عابدہ کے والد کے بہت پرانے تعلقات ہیں جس کا صدر لغاری بہت لحاظ کرتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ عابدہ حسین کو بہن سمجھتے ہیں۔ اگر کسی طریقے سے عابدہ حسین نواز شریف اور صدر لغاری کی صلح کرا دیں تو وہ سب ان کے عمر بھر کیلئے شکر گزار رہیں گے۔
عابدہ حسین بتاتی ہیں کہ انہوں نے شریفوں کی دی گئی میٹھی گولی نگل لی اور وعدہ کر لیا کہ وہ دونوں کی صلح کرائیں گی۔ عابدہ نے لغاری سے رابطہ کیا اور آخرکار انہیں نواز شریف سے ملاقات کرنے اور پرانے گلے شکوے دور کرنے پر راضی کر لیا۔ شاید صدر لغاری بھی اس وقت بینظیر بھٹو اور آصف زرداری سے نالاں تھے۔ وہ ان سے کچھ الگ سوچ رہے تھے۔ یوں نواز شریف اور صدر لغاری کی ملاقات طے ہوئی جو کہ ایوانِ صدر میں ہونی۔ جب ان ملاقاتوں اور رابطوں کی خبر فاروق لغاری کی بیگم صاحبہ تک پہنچی تو انہوں نے عابدہ حسین کو کہا کہ ایسا مت کرو۔ فاروق سے یہ کام مت کراؤ۔ جو بھی ہو‘ انہیں بینظیر بھٹو نے صدر بنوایا ہے۔ بینظیر کے خلاف ان سے کچھ نہ کراؤ۔ لیکن عابدہ کا بینظیر بھٹو سے کلیش چلتا رہتا تھا لہٰذا وہ خود بھی ان کیساتھ سکور سیٹل کرنا چاہتی تھیں۔ یوں صدر لغاری اور نواز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی اور دونوں فریق تیار ہو گئے کہ بینظیر بھٹو حکومت توڑ کر نئے الیکشن کرائے جائیں گے۔ نواز شریف نے عمر بھر کیلئے فاروق لغاری کا احسان مند ہونے کی قسمیں کھائیں کہ وہ بینظیر حکومت توڑ کر نئے الیکشن کروا کے انہیں جلدی سے وزیراعظم بنوا دیں۔
اس کے بعد لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت توڑ دی اور نئے الیکشن کروا دیے۔ عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ 1997ء کے الیکشن کے بعد نواز شریف کو دو تہائی اکثریت مل چکی تھی۔ وہ نواز شریف سے ماڈل ٹاؤن لاہور ملنے گئیں۔ ان کے ساتھ فخر امام بھی تھے۔ وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ نواز شریف اپنی نئی کابینہ کے وزیروں کے نام فائنل کررہے تھے۔ دورانِ گفتگو عابدہ نے مشورہ دیا کہ بہتر ہوگا کہ صدر لغاری سے بھی کابینہ کے ناموں پر مشورہ کر لیا جائے۔ عابدہ لکھتی ہیں کہ اس مشورے پر جس طرح کا ردِعمل نواز شریف نے دیا وہ ان کے لیے حیران کن تھا۔ وہ وزیراعظم بنتے ہی آنکھیں بدل چکے تھے۔ چند ہفتے پہلے تک پورا شریف خاندان عمر بھر کیلئے لغاری کا احسان مند رہنے کی قسمیں کھا رہا تھا‘ اور اب ان سب نے آنکھیں پھیر لی تھیں۔ عابدہ حسین کے مطابق اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد نواز شریف نے بطور وزیراعظم، فاروق لغاری کو پیغام بھیجا کہ آپ خود استعفیٰ دیں گے یا ہم پارلیمنٹ کے ذریعے آپ کو صدارت کے عہدے سے ہٹا دیں۔ لغاری کے مشیر شاہد حامد نے بروکر بن کر مذاکرات کرائے اور لغاری کا استعفیٰ نواز شریف کو پیش کر کے انعام کے طور پر گورنر پنجاب بن گئے۔ یوں نواز شریف نے پہلے صدر لغاری کے ذریعے بینظیر بھٹو کو وزیراعظم ہاؤس سے نکلوایا اور پھر فاروق لغاری سے استعفیٰ لے لیا۔ آج وہی نواز شریف پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ میرا کیا قصور تھا؟ ہم انسان اپنے قصور بھول جاتے ہیں لیکن کہتے ہیں تقدیر نہیں بھولتی۔ جو کچھ نواز شریف نے بینظیر بھٹو اور صدر لغاری کے ساتھ کیا تھا وہ سب کچھ تقدیر نے انہیں سود سمیت واپس کیا ہے۔
