میں کس چیز کی معافی مانگوں اور کس سے معافی مانگوں؟ : علی امین گنڈاپور

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ بار بار کہا جارہا ہے کہ معافی مانگو، میں کس چیز کی معافی مانگوں اور کس سے معافی مانگوں، پرچے کاٹنے ہیں،جو کرناہے، کرلو۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ لاہور کے جلسے میں بھرپور شرکت کرکے اسے کامیاب بنانے پر عمران خان کی طرف سے زندہ دلان لاہور اور پورے پنجاب کےعوام کا شکریہ ادا کرتاہوں، میں خیبرپختونخوا کی عوام کا بھی شکریہ ادا کرتاہوں جنہوں نے ہمیشہ کی طرح یہ ثابت کردیا کہ ہم غیرت مند لوگ ہیں اور جو کہتے ہیں وہ کر دکھاتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھاکہ لاہور جلسے کےاندر پنجاب کی فارم 47 کی حکومت نےجو حرکت کی اس کی بھر پور مذمت کرتا ہوں، اس ملک میں کوئی معیار نہیں نہ قانون سب کےلیے برابر ہے اس لیے ہماری یہ تحریک اور مطالبہ ہے کہ دو نہیں ایک پاکستان ہونا چاہیے۔

علی امین کاکہنا تھا کہ باربار معافی کی باتیں ہورہی ہیں، میں کس چیز کی معافی مانگوں اور کس سے معافی مانگوں، پرچےکاٹنے ہیں،جو کرناہے، کرلو۔ان کاکہناتھا کہ پہلے میرے لیڈر کو غیر قانونی قید کرنے پر مجھ سے معافی مانگی جائے، پر امن احتجاج پر میرےلوگوں پر تشدد کیاگیا بعض کو شہید کیاگیا، اس کی معافی کون مانگےگا، ہم پہلےاپنی ساتھ ہونےوالی زیادتیوں کی معافی منگوائیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ایک ریاست دو دستور ہمیں منظور نہیں کیونکہ اس ملک میں غریب کےلیے قانون ہے اور امیر کےلیے دوسرا، ہم اپنے مقصد کے حصول تک اپنی یہ تحریک جاری رکھیں گے، میڈیا پر جھوٹے بیانئے دے کر قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

علی امین گنڈاپور نے کہاکہ پنجاب حکومت کا یہ بیانیہ بےبنیاد ہے کہ جلسے کےلیے راستے کھلے چھوڑے گئے تھے، جلسہ گاہ کے دو کلومیٹر کےاحاطے باڑ لگائی گئی تھی تاکہ لوگ جلسہ گاہ تک پہنچ نہ سکیں، جلسے میں جس طرح کی رکاوٹیں ڈالی گئیں وہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہاکہ یہ کم ظرف لوگوں کا شیوہ ہے اور ہم کم ظرفوں سےظرف کی امید بھی نہیں رکھتے،اگر آپ اتنےہی جمہوری لوگ ہوتےتو مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت دےدیتے یا اجازت دےدیں، تاکہ ہم آپ کو بتادیں کہ جلسہ کیا ہوتا ہےاور کسے کہتے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نےکہا کہ نواز شریف کی سیاسی پیدائش اور پرورس آمریت کے گملے میں ہوئی ہے، آپ نے اس ملک دولت لوٹ کر بیرون ملک جو جائیدادیں بنائیں وہ پوری قوم کو معلوم ہے، میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ کی بیٹی آپ سے بھی دو قدم آگےہے، آمریت کے گملے میں پرورش کےلحاظ سےاس نے آپ کے ریکارڈ بھی توڑ دیے۔ان کا کہناتھا کہ میں بلاول اور زرداری کو بھی غیرت دلاتاہوں، آپ اقتدار اور پیسے کےلیے ہرحد تک جاسکتے ہو اور جاچکے ہو، آج آپ سب مل کر جمہوریت پر جو ڈاکہ ڈال رہے ہیں وہ پوری قوم دیکھ رہی ہے۔انہوں نےکہا کہ جوجو پارٹیاں غیرآئینی اقدامات میں حصہ بن رہے ہیں وہ سن لےکہ یہ قوم ان کو بتائےگی جس طرح 8 فروری کو بتایا تھا کہ عوام جمہوریت کےساتھ ہے اور عمران خان کے ساتھ ہے۔

علی امین نےکہا کہ آج قوم کا ہر بچہ، بوڑھا، مرد،عورت سب ملک کو اندھیروں میں دھکیلنےوالوں کےخلاف عمران خان کی تحریک کا حصہ ہے، عمران خان نے قانونی طریقے سے توشہ خانہ سے چیزیں لی تو آج جیل میں ہے اور جنہوں نےغیر قانونی طور پر لے لی ہیں وہ آج اقتدار میں ہیں، یہ قوم غلام نہیں ہم اپنے حق کےلیے لڑیں گے اور مریں گے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نےکہا کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیں، ججوں نے خطوط لکھے کہ ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، ہم عدلیہ کے ساتھ ہیں، عدلیہ نشاندہی کرےکہ کون دباؤ ڈال رہاہے، ہم عدلیہ کا ساتھ دیں گے، ہم اپنے اذادی کی بات کرتے ہیں کیونکہ نہ ہم غلام پیدا ہوئے اور نہ غلامی برداشت کریں گے،واضح پیغام ہےکہ ہم نہ اس فارم 47 کی حکومت کو مانتےہیں اور نہ ان کے کسی غیرآئینی اقدام کو مانیں گے۔

علی امین گنڈاپور نےکہا کہ نہ ہم ان کے غیرآئینی ترمیم کے ذریعےبننے والی کسی عدالت کو مانتے ہیں، ہم ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کےکھڑے ہیں، عمران خان کی رہائی تبھی ہوگی جب یہ عدلیہ آزاد ہوگی، آنے والے جمعے کے دن ہم ملک کےتمام شہروں اور دیہاتوں میں نکلیں گے اور پر امن انداز میں آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کامطالبہ کریں گے۔

علی امین گنڈاپور نےکہا کہ ہماری یہ تحریک دن بدن تیز ہوتی جائے گی، اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو آزاد کرانا ہےیا انہیں ان لوگوں کا غلام بنانا ہے جنھوں نے اس ملک کو لوٹا، عمران خان کی حکومت میں معیشت سمیت سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، آج مہنگائی، بےروزگاری اور بدامنی کی صورت حال سب کےسامنے ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ ایک سازش کےتحت ہماری حکومت کو گرایا گیااور اس کا فائدہ جس کو ہوا وہ پوری قوم جانتی ہے، عمران خان کی حکومت آنے کے بعد خیبر پختونخوا سمیت پورےملک میں امن قائم ہوا، عمران خان نے کہاتھا کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی خود بنائیں گے۔انہوں نے کہاکہ آنے والےاتوار کو میانوالی میں جلسہ ہوگا،ہم ان کو بتائیں گےکہ جلسہ ہوتا کیاہے، اس کےبعد پنڈی اور دیگر شہروں میں بھی جلسہ کریں گے، عوام نے اس تحریک کا حصہ بننا ہے اور اس کو مزید آگےبڑھانا ہے، یہ قرآن کا حکم ہےکہ جابر حکمران کےخلاف اٹھ کھڑا ہوناہے۔

بنیادی حقوق کےمنافی کسی ترمیم کاحصہ نہیں بنیں گے،غفور حیدری

Back to top button