پنجاب کی وزارت اعلیٰ کس جماعت کو ملنے والی ہے؟

حال ہی میں پیمرا کی جانب سے پابندی کا شکار ہونے والی معروف اینکر پرسن اور صحافی غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ خرگوش اور کچھوے کی کہانی کا انجام انتہائی قریب آ چکا ہے جسکے بڑی وجہ یہ ہے کہ کچھوے کی چال چلتی اپوزیشن آہستہ آہستہ اپنی ڈگر پر آ گئی ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن خواب خرگوش میں محو اپنے سُبک رفتار حریف کو شکست دے پائے گی؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اپوزیشن کے لیے کچھوے کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے غریدہ کہتی ہیں کچھوا سست رفتار تو تھا ہی لیکن سمت کا تعین بھی نہیں کر پا رہا تھا، اسی لیے بے ہنگم ڈیل ڈول کے ساتھ مسلسل ڈانواں ڈول چال چلے جا رہا تھا۔ دوسری جانب خرگوش یعنی کپتان، حسبِ فطرت اور حسب روایت اونچی اونچی چھلانگیں لگاتا، دل میں بجا فخر سموئے منزل کی جانب گامزن تھا، لیکن جیسا کہ اصل کہانی میں بھی ہوا، کہیں نہ کہیں تو خرگوش کی آنکھ لگنا ہی تھی اور اپنی ڈھیلی ڈھالی چال چلتے کچھوے کو خرگوش پر سبقت لے ہی جانا تھی۔
بقول غریدہ فاروقی، حکومت اور اپوزیشن کی کہانی بھی گذشتہ تین چار سال سے اسی داستان پر محیط رہی، لیکن اب اپوزیشن اپنی ڈگر پر آ گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیس وہ خوابِ خرگوش میں محو اپنے سُبک رفتار حریف کو شکست دے پائے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب فی الحال تو کسی کے پاس نہیں۔ حتی کہ اس شجرِ پھل دار و پھول دار کہ جس کے سائے تلے اس روایتی دوڑ کا اختتام ہونا ہے، وہ بھی اس بارے کوئی اشارہ دینے سے تاحال قاصر ہے کہ کون سا فریق کامران سے ہمککنار ہونا ہے۔
پاکستان کی سیاسی و پارلیمانی تاریخ کی حقیقت ہے کہ کسی بھی وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد آج تک کامیاب نہیں ہوسکی۔ 1989 میں وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد چند ووٹوں سے ناکام ہو گئی تھی، باوجود اس کے کہ تحریک کو طاقتور حلقوں کی بھرپور سپورٹ بھی حاصل رہی۔ اسی طرح 2006 میں وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ اب کی بار مرکز میں تحریک عدم اعتماد لانے کے نتیجے میں بہر صورت تاریخی نتائج سامنےآ سکتے ہیں۔ اگر تو یہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو عمران خان پاکستان کی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ کے پہلے سربراہِ حکومت ہوں گے جو آئین میں دیے گئے اس طریقۂ کار کے تحت عہدے سے ہٹائے جائیں گے۔ بصورتِ دیگر اگر تحریکِ عدم اعتماد ناکام ہوتی ہے تو عمران پاکستانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بن جائیں گے جو اپنی منتخب آئینی مدت پوری کریں گے۔
لہٰذا عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کر کے اپوزیشن بہت بڑا سیاسی جوا کھیلنے جارہی ہے۔ یہ وہ اصل قدم ہوگا جس کے بعد آر یا پار کا حتمی فیصلہ ہو گا۔ کامیابی کی صورت میں تو ظاہر ہے اپوزیشن کے لیے بہت بڑے سیاسی جشن کا سماں ہوگا لیکن ناکامی کی صورت میں پی ڈی ایم میں شامل جہاندیدہ، سینیئر ترین سیاست دانوں اور پیپلز پارٹی جیسی کائیاں جماعت نے خود اپوزیشن کو پہنچنے والے نقصان کا بھی بخوبی حساب کتاب کر رکھا ہوگا۔
بقول غریدہ، اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد اگر ناکام ہو جاتی ہے تو یہ عمران خان کی اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی، جس سے خان صاحب کو نہ صرف دگنا چوگنا حکومتی اور سیاسی اعتماد حاصل ہوگا بلکہ بلدیاتی الیکشن سے قبل تحریک لانے کی صورت میں الیکشنز میں کامیابی کے لیے تحریکِ انصاف کے مورال میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ کامیابی یا ناکامی دونوں صورتوں میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ساکھ تحریکِ عدم اعتماد کے داؤ پر لگی ہے۔
بشریٰ اور عمران کا خود اختلافات کی تردید سے گریز کیوں؟
حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو بہت سے معاملات اس مرتبہ مختلف نظر آتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہےکہ عدم اعتماد کا آپشن پیپلزپارٹی کا ہی دیا گیا تھا لیکن گذشتہ برس ن لیگ اور مولانا فضل الرحمٰن کے تحفظات ہونے کی بنا پر یہ عملی جامے کے قریب تر بھی نہ پہنچ سکا، جس کی ایک بہت بڑی وجہ مقتدر حلقوں سے متعلق مذکورہ سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کے تاثرات تھے۔
لیکن طقول غریدہ، گذشتہ سال اور آج کے درمیان پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا۔ خاص طور پر مولانا کی جماعت کو خیبرپختونخوا میں ملنے والی انتخابی کامیابی اور اسکے بعد انکا اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کی تصدیق کرنا اہم پیش رفت ہے۔ مولانا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایمپائر ہوتا ہی وہی ہے جو نیوٹرل ہو۔
ان تمام بیانات اور حالات و واقعات کو جوڑا جائے تو اپوزیشن کا اعتماد ناجائز نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب سیاست کا ماہر تجربہ کار ترین کھلاڑی آصف زرداری عرصے کی خاموشی کے بعد ایک دم سے منظرعام پر آ جائے تو سمجھ لیجیے ’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا‘ کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن کے پاس تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے کے نمبرز تو یقیناً موجود ہیں لیکن تاحال کامیاب کروانے کے نمبرز کی سرگردانی جاری ہے۔ 13 فروری کے روز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے گجرات کے چوہدریوں کے گھر جا کر ان سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے حمایت مانگ لی ہے۔
لیکن غریدہ کہتی ہیں کہ بنیادی سوال تو یہ بنتا ہے کہ آخر چوہدری برادران وزیراعظم عمران کے خلاف اپوزیشن کا ساتھ کیوں دیں گے؟ اس کا سیدھا اور انتہائی گہرا جواب تو فی الحال اسی امر میں مضمر ہے کہ حالیہ تحریکِ عدم اعتماد کی سنجیدہ کوششوں کے دوران چوہدری برادران کی اپوزیشن/پی ڈی ایم/ن لیگ/پی پی سے مسلسل ملاقاتوں کے پیچھے ایک واضح اشارہ موجود ہے۔
اول، یہ اشارہ اگر نہ ہوتا تو گجرات کے چوہدری صاحبان کبھی بھی اپوزیشن سے بار بار ایسی ملاقاتیں ہونے کی نوبت ہی نہ آنے دیتے۔ دوئم، ق لیگ گورننس اور مہنگائی، بےروزگاری کے معاملات پر بارہا حکومت سے ناراضی کو ریکارڈ پر لا چکی ہے۔ سوئم، عین ممکن ہے کہ تبدیلی کی صورت میں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ق لیگ کو مل جائے۔ ق لیگ اگر اپوزیشن کا ساتھ دینے پر راضی ہو جاتی ہے تو ایم کیو ایم اور دیگر حکومتی حلیف جماعتوں کا اپوزیشن کے ساتھ جا ملنا کوئی بہت بڑی یا مشکل بات نہیں رہ جائےگی۔
اس صورتحال میں بلوچستان سے حکمران جماعت ’باپ‘ کے ایک اہم رکن کا حالیہ بیان بھی مدنظر رہے جو کہہ گئے کہ اب ہمیں اشارے ملنا بند ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب سندھ سے حکومتی اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے دو ممبران اسمبلی نے بھی لاہور میں شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ اس دوران شہباز شریف اور جہانگیر ترین کے مابین ملاقات کے امکان کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ غریدہ کے بقول، آنے والے دنوں میں اس سیاسی دوڑ میں کون جیتتا، کون ہارتا ہے، یہ دیکھنا تو ابھی باقی یے لیکن یہ طے یے کہ خرگوش اور کچھوے کی کہانی کا انجام انتہائی قریب آ چکا ہے۔
