امریکی تجاویز پر جواب نہ ملنے پر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیا : امریکی ویب سائٹ

 

 

 

 

امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز پر ردعمل نہ آنے پر سخت برہمی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے خلاف نئے حملوں کی منظوری دی۔

امریکی نیوز ویب سائٹ نے دو سینئر امریکی حکام سے گفتگو کی بنیاد پر ایران کے خلاف حالیہ کارروائی کے پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ نے یہ دعویٰ دو سینئر امریکی اہلکاروں سے گفتگو کی بنیاد پر کیا۔

رپورٹ کے مطابق ایران پر حملے کا فوری محرک اپاچی ہیلی کاپٹر کو گرایا جانا تھا، تاہم اس کے پیچھے صدر ٹرمپ کی یہ ناراضی بھی کارفرما تھی کہ دو ہفتے گزرنے کے باوجود ایران نے امریکی تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

نیوز ویب سائٹ کے مطابق حملے امریکا کا اثر بڑھانے کےلیے کیےگئے تاہم اس بات کا خیال رکھا گیاکہ جانی نقصان نہ ہو تاکہ ڈیل کا امکان ختم نہ ہوجائے۔

امریکی اہلکاروں کے مطابق جب فائٹر جیٹ اپنے ہدف کی جانب روانہ ہوئےتو ایران کو آگاہ کر دیا گیا تھاکہ فوجی اہداف نشانہ بنائے جائیں گے اور یہ بھی کہ اگر اپاچی کے پائلٹ ہلاک ہوتےتو آج بالکل مختلف صورت حال ہوتی۔

امریکی اہلکار کے مطابق اسی دوران قطری ثالث بھی تہران سے بات کررہے تھےکہ مذاکرات کا عمل بحال کیاجائے اور خلا پُر کیا جائے۔ حملے سے کئی گھنٹے پہلے وائٹ ہاؤس نے ایک اور کوشش کی تھی کہ ایران کی طرف سے ٹرمپ کی تجاویز پر جواب مل جائے اور خبردار کیا تھا کہ وقت نکلا جارہا ہے۔ جس پر ایران نےکہا تھاکہ ابھی جواب تیار نہیں اور یہ بھی کہ اگر حملہ کیاگیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔

نیوز ویب سائٹ کےمطابق بدھ کو بھی جب قطری اور ایرانی اہلکاروں کی ملاقات ہوئی اس وقت بھی صدر ٹرمپ نے نئی دھمکی دی کہ ہم دیکھیں گےکہ ڈیل کا کیا ہوتاہے۔

امریکی فوج نے ایران میں دفاعی کارروائیاں مکمل کرلیں : سینٹکام

نیوز ویب سائٹ کےمطابق ایران سے ڈیل پچھلے ماہ ہی طے کرلی جاتی لیکن اپنے مندوبین کی جانب سے شرائط منظور کیے جانے کے باوجود 29 مئی کو سیچوئشن روم میٹنگ کےبعد صدر ٹرمپ نے ایران سے درخواست کی کہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنےسے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے مسودے میں دو ترامیم کرلی جائیں۔

Back to top button