علیم خان کو دریا کنارے پارک ویو سوسائٹی کس نے بنانے دی ؟

لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے قریب واقع وفاقی وزیر علیم خان کی ملکیتی پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی پارک ویو سٹی میں 10 فٹ اونچائی تک دریائے راوی کا سیلابی پانی داخل ہونے سے تباہی مچ گئی اور علاقہ مکین گھر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مکینوں کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنائی گئی سوسائٹی میں آناً فاناً ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ انھیں اپنی جانوں کے لالے پڑ جائیں گے۔ سیلابی پانی کے نتیجے میں ہونے تباہی کے بعد علیم خان مکینوں کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں ہیں جن کی زندگی بھر کی جمع پونجی اب پانی میں ڈوبی پڑی ہے۔ علیم خان سوسائٹی کے دورے بھی کر رہے ہیں اور کشتیوں کے ذریعے اپنے گھروں کو چھوڑنے والے مکینوں کو حالات جلد نارمل ہو جانے کی یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں، لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سوسائٹی کی تباہی یقینی تھی چونکہ دریا کنارے ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کا فیصلہ ہی غلط تھا۔
پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے حوالے سے بی بی سی اردو نے ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا یے کہ گھروں میں 10 فٹ تک پانی کھڑا ہے جس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سوسائٹی کی ایک رہائشی حماد کے مطابق ایک طرف سوسائٹی انتظامیہ کہہ رہی تھی کہ ہم پانی روکنے کے لیے بند باندھ رہے ہیں کچھ نہیں ہو گا، تمام لوگ بے فکر رہیں، جبکہ دوسری جانب پولیس گھروں کو چھوڑ کر نکلنے کے اعلانات کر رہی تھی۔ ایسے میں ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھر چھوڑنا ہے یا رکنا ہے؟ اس کشمکش میں بہت سے لوگ نہیں نکل سکے اور پانی گھروں میں گھس گیا جس کے بعد کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن کیے جا رہے ہیں۔
یہ کہانی صرف پارک ویو سٹی میں رہنے والے حماد کی نہیں بلکہ ان سینکڑوں لوگوں کی ہے جو تب لاہور میں دریا کے راستے پر بنی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پھنس گئے جب جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سیلاب کا پانی وہاں داخل ہوا۔حکام کے مطابق سیلابی پانی سے پارک ویو سوسائٹی تو متاثر ہوئی لیکن کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ بروقت رہائشیوں سے علاقہ خالی کروا لیا گیا تھا۔ بی بی سی کی ٹیم سے گفتگو کرتے ہوئے ریسکیو آپریشنز میں مصروف ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی نے بتایا کہ صرف انکی ٹیم نے پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی سے 1400 سے زیادہ لوگ ریسکیو کیے جبکہ یہاں دیگر ریسکیو سروسز بھی کام کر رہی ہیں۔ سعد ایدھی کے مطابق ’ایک کشتی میں 10 سے 12 لوگ ہی آ سکتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ سامان بھی ساتھ لانا چا رہے ہیں۔ چیلنج یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ سامان زیادہ ہو تو کشتی میں کم لوگوں کی گنجائش بچتی ہے۔ لوگ ناراض بھی ہوتے ہیں لیکن ہماری پہلی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریسکیو کیا جائے۔ لوگوں کو بتانا پڑتا ہے کہ جان بچانا پہلے ضروری ہے۔‘
انُ کا کہنا تھا کہ سوسائٹی کے اندر تقریباً 13 فٹ تک پانی کھڑا ہے اور لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی افراد میں حماد نامی شہری کے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ حماد نے بتایا کہ ’سامان تو سب ڈوب گیا لیکن بچے اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ اب بہت سے لوگ بچوں کے ساتھ اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھانے پینے کی بہت پریشانی ہے، پتا نہیں اندر کچھ بچا بھی ہے یا نہیں۔‘ جب بی بی سی کی ٹیم میں نے حماد سے پوچھا کہ کیا انھیں معلوم تھا کہ سوسائٹی دریائے راوی کے راستے میں بنی ہوئی ہے اور کیا انھیں کبھی خیال نہیں آیا کہ اگر یہاں سیلاب آیا تو کیا ہو گا؟
جواب میں حماد کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت اور اتھارٹیز کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی کہ یہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھاٹی یعنی روڈا سے منظور شدہ سوسائٹی ہے لہٰذا ہمیں لگا کہ یہ علاقہ محفوظ ہو گا کیوں کہ روڈا تو حکومت کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق ’ترجمان پنجاب حکومت عظمیٰ بخاری نے اگلے روز ہی شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ یہ پراجیکٹ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنایا گیا ہے۔ ہم نے بھی یہ دعوے سن کر یہاں اپنی جمع پونجی لگا دی تھی۔ لیکن جب بی بی سی نے متعلقہ حکام سے اس بارے سوال کیا تو انکا کہنا تھا کہ پارک ویو سوسائٹی ریور بیڈ کا حصہ ہے اور یہاں پانی آنا ہی آنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سوسائٹی کی منظوری بھی ایک بہت بڑا سکینڈل ہے جس کی تحقیقات ہونا ضروری ہے۔
جہاں لوگ اپنے اہلخانہ یا رشتہ داروں کو ترجیحاً مدد دلوانے کے لیے کوشاں تھے وہیں کچھ اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں کے پانی میں پھنسنے کے سبب بھی پریشان تھے۔ تاہم ریسکیو والے سب کو تسلی دے رہے تھے۔ ریسکیو اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں ان کا نقصان ہوا۔ سیلاب میں پھنسنے والوں کا نقصان ہوتا ہے، انھوں نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہوتا۔ ایسے میں وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
رہائشیوں کے موقف کے برعکس پارک ویو سوسائٹی کے گارڈز کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی آنے سے قبل ہی لوگوں کو خبردار کر دیا گیا تھا۔ لاہور کی انتظامیہ کا موقف بھی یہی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو جمعرات کی شب ہی سیلابی پانی کی آمد بارے خبردار کیا گیا تھا اور علاقہ چھوڑنے کو کہہ دیا گیا تھا۔ اس
رہائشی منصوبے کے زیر آب آنے کے بعد پارک ویو سوسائٹی لاہور کی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنے تمام رہائشیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ’ہم لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ انتظامیہ ان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔ جس گھر کا بھی اس سیلاب سے نقصان ہوا، ہم ایک ایک گھر کا ازالہ کریں گے۔‘
سوشل میڈیا پر ہی ایک ویڈیو بیان میں پارک ویو سوسائٹی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار شعیب صدیقی نے کہا کہ پارک ویو سٹی کی انتظامیہ اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام متاثرہ افراد کو مدد اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’چیئرمین وژن گروپ عبدالعلیم خان کے ویژن اور رہنمائی پر عمل کرتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ نقصانات کا سامنا کرنے والے تمام رہائشیوں کو مکمل معاوضہ دیا جائے گا۔‘
