شہباز شریف کی ضمانت لٹکانے کے پیچھے کون ہے؟

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت کے معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کے دونوں ججوں میں اختلاف کے بعد عدالتی قواعد کے مطابق معاملہ ریفری جج کو بھجوائے جانے کی بجائے چیف جسٹس قاسم خان نے اس کیس کو از سرِ نو سننے کے لیے تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا ہے جس پر قانونی حلقوں کی جانب سے سخت حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں اسکی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
19 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا ہے کہ شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت کرنے والے نئے بینچ کے سربراہ جسٹس علی باقر نجفی ہوں گے جب کہ انکے ساتھ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہباز رضوی بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کی تھی، بعد ازاں بینچ کے اراکین کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف اور فیصلہ ٹائی ہونے کے باعث شہباز کی ضمانت کا عمل رک گیا تھا۔ ڈویژن بینچ میں شامل دونوں ججز نے اپنے الگ الگ فیصلے تحریر کیے تھے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہباز شریف کی ضمانت منظور کرنے کا فیصلہ لکھا تھا جبکہ جسٹس اسجد جاوید گھرال نے انہیں ضمانت دینے کی مخالفت کی تھی۔ بینچ کے دونوں ممبران کے فیصلے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان کو بھیجے گئے اور کیس ریفری جج کو بھیجنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریفری جج مقرر کرنے کے بجائے کیس کی سماعت کے لیے ازسر نو فل بینچ تشکیل دے دیا ہے جو ضمانت کی درخواست پر ازسر نو سماعت کرے گا۔
خیال رہے کہ 14 اپریل کو شہباز شریف کی ضمانت لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے منظور کی تھی اور یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر بھی دال دیا گیا تھا۔ تاہم دو روز بعد صورت حال تب بدل گئی جب فیصلہ کرنے والے ججز کے درمیان اختلاف سامنے آیا اور شہباز شریف رہا نہ ہو سکے۔ شہباز کی ضمانت کے تحریری فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے ججز نے ایک دوسرے پر تنقید بھی کی تھی۔ پاکستان کی عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سنیئر سیاستدان کی ضمانت کا فیصلہ آنے کے بعد تنازع کا شکار ہوا جس کی وجہ سے اب ایک تین رکنی بینچ اس کیس کو دوبارہ سنے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے شہباز شریف کی ضمانت کے معاملے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلاف کی بو آتی ہے۔ سیاسی اور قانونی حلقوں میں اس نکتے پر بحث ہورہی ہے کہ ڈویژن بینچ میں فیصلہ ٹائی ہونے کے بعد معاملہ ریفری جج کے سپرد کرنے کی بجائے تین رکنی بینچ بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ تحریک انصاف حکومت شہباز شریف کی ضمانت کے حق میں نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ 14 اپریل کو ڈویژن بینچ کے سربراہ جسٹس سرفراز ڈوگر کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس میں پچاس پچاس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض شہباز شریف کی ضمانت کا باضابطہ اعلان ہوا مگر اس کے تین روز بعد تفصیلی فیصلہ مانگے جانے پر یہ کہہ دیا گیا کہ ڈویژن بینچ میں شامل جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ضمانت کی مخالفت کی ہے لہذا اب ریفری جج ہی ضمانت کاحتمی فیصلے کرے گا۔ تاہم اس کے بعد ایک اور انہونی اس وقت ہوئی جس لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے ریفری جج کو معاملہ بھجوانے کی بجائے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا جو نئے سرے سے ضمانت کیس سنے گا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی ضمانت کیس کو مزید لٹکانے کے لیے اب تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ اس اقدام پر قانونی اور سیاسی حلقے حیران و پریشان ہیں۔
سیاسی حلقے خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ ممکنہ طور پر جسٹس اسجد جاوید گھرال پر حکومت کی جانب سے دبائو آیا جس کے باعث وہ ضمانت کے فیصلے پر دستخط کرنے سے انکاری ہوئے۔ واضح رہے کہ شہباز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت پسندی کی پالیسی کے باعث عمران خان انہیں اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے گذشتہ اڑھائی برسوں میں کپتان نے مزاحمت کی سیاست کرنے والے لیگی رہنمائوں کی بجائے مفاہمت پسندں کو اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ شہباز شریف کو ایک نہیں بلکہ دو بار نیب کے ذریعے گرفتار کرکے طویل عرصے تک سیاسی منظر نامے سے غائب کیا گیا۔ اسی طرح حمزہ شہباز کو بھی بیس ماہ تک پابند سلاسل رکھا گیا جبکہ اسی دھڑے سے تعلق رکھنے والے خواجہ آصف بھی تاحال نیب کی حراست میں ہیں۔
بعض سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ملکی سیاست میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے اسٹیبلشمنٹ ن لیگ کے مفاہمتی دھڑے کو ریلیف دینا چاہتی ہے مگر کپتان اس پالیسی کو اپنے خلاف ایک سازش گردانتے ہوئے شہباز اور انکے ساتھیوں کو دیوار سے لگانے کے لئے کوشاں ہے۔
شہباز شریف کی ضمانت کے مسلے پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب کا کہنا ہے کہ ضمانت کے اعلان کے چار روز بعد ایک جج کا اختلافی نوٹ سامنے آ جانا تشویش ناک ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم لوگ چار دن سے عدالتی حکم لینے جا رہے تھے مگر ہر مرتبہ جواب دیا گیا کہ ابھی تحریری حکم لکھا جا رہا ہے۔ مریم نے کہا کہ شہباز شریف کی ضمانت منظور ہونے، اسکا عدالتی ویب سائٹ پر باضابط اعلان ہو جانے اور ذرائع ابلاغ پر خبر نشر ہونے کے چار دن بعد اختلافی نوٹ آنا حیران کن ہے۔ عدالتی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ضمانت منظور ہونے کا اعلان ہوا ہو لیکن تحریری حکم نامے پر جج کے دستخط نہیں ہوئے، یہ بہت ہی تکلیف دہ معاملہ ہے اور اس سے عدلیہ کی ساکھ کو مزید دھچکا لگا ہے۔
لیکن نواز لیگ مخالف سینئر وکیل اظہر صدیق سمجھتے ہیں کہ کسی بھی عدالتی فیصلے میں ڈبل بینچ کا اختلافی نوٹ آ جانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ اِسطرح کے ڈیڈ لاک عدالت میں اکثر ہو جاتے ہیں۔ اظہر صدیق نے کہا کہ اِس کیس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریری فیصلے کے پہلے صفحے پر لکھا ہے کہ فیصلہ عدالت نے نہیں سنایا بلکہ نائب قاصد نے عدالت سے باہر آ کر یہ فیصلہ سنایا تھا۔ ماہرِ قانون اور سینئر وکیل میاں علی اشفاق کہتے ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ مختلف فیصلوں میں اپنے اختلافی نوٹ دیتی رہتی ہے اور ایسا عدالت میں ہو جاتا ہے۔ لیکن جس طرح سے اِس کیس کے اختلافی نوٹ میں ایک جج نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ اشفاق نے کہا کہ درخواست ضمانت کے فیصلوں کے علاوہ بھی سندھ ہائی کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان اپنے اختلافی نوٹ دیتے رہتے ہیں۔ لیکن اُن کے بقول اِس سے قبل ایسی صورتِ حال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی جس میں ایک معزز جج دوسرے جج کے حوالے سے اختلافی نوٹ میں ایسے ریمارکس لکھے۔
واضح رہے کہ ریفری جج کے حوالے سے ہائی کورٹ رولز یہ کہتے ہیں کہ اگر دو رکنی بینچ متفقہ طور پر ایک نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو اپنا الگ الگ فیصلہ لکھ کر چیف جسٹس کو بھیج دیا جاتا ہے اور چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی تیسرے جج کو اس کیس کا ریفری جج مقرر کر دیں۔ریفری جج کیس کو از سر نو نہیں سن سکتا ہے، تاہم پہلے لکھے ہوئے دونوں ججوں کے فیصلے اور کیس فائل کو پڑھنے کے بعد کسی ایک جج کی رائے سے اتفاق کرتا ہے۔ یوں اکثریتی رائے والا فیصلہ نافذ العمل ہوجاتا ہے۔ عام طور پر ایسی صورتحال ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچوں میں سامنے آتی ہے کیونکہ ڈویژن بینچ میں دو جج ہی ہوتے ہیں۔ اس سے بڑے بینچوں کو فل بینچ کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں ججز کی تعداد طاق ہوتی ہے تو کسی بھی کیس کا فیصلہ ٹائی ہونے کا احتمال نہیں ہوتا۔ پاکستان کی حالیہ عدالتی تاریخ میں چند ایک بار ایسی صورت حال پیدا ہوئی جب کیس ریفری جج کو بھیجا گیا۔ شہباز شریف ضمانت کیس میں یہی توقع تھی کہ ریفری جج کے پاس معاملہ جائے گا اور وہ جج منٹس پڑھنے کے بعد اپنا فیصلہ سنا دے گا۔ تاہم شہباز شریف کا کیس ریفری جج کو بھیجنے کی بجائے ایک تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ نیب لاہور نے شہباز شریف اور ان کی فیملی کے دیگر ارکان سمیت کل 16 افراد کے خلاف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں شواہد پر مشتمل تاریخی طویل ترین ریفرنس تیار کیا ہے جو 58 والیمز پر مشتمل جبکہ تمام ملزمان کو فراہم صفحات کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔ نیب کے مطابق ریفرنس میں شہباز اور اہل خانہ کیجانب سے منی لانڈرنگ کے مکمل طریقہ کار کو ایکسپوز کیا گیا ہے۔ منی لانڈرنگ کیلئے سلیمان شہباز اور انکے پھیلائے گئے نیٹ ورک کی مکمل تفیصلات والیمز کی صورت میں ظاہر کی گئی ہیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے بے نامی اثاثہ جات کی مالیت 7 ارب سے زائد پائی گئی۔ متعدد بے نامی کمپنیاں، کروڑوں روپے کے شیئرز اور بے شمار بینک اکاؤنٹس میں شہباز شریف کی اربوں کی ملکیت ثابت ہوئی ہے۔ نیب نے اس کیس میں 4 افردا کو وعدہ معاف گواہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ تاہم یہ کیس سات ماہ سے سے نیب عدالت میں چلنے کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو پائی۔
